دو خفیہ ایجنسیوں کی سربراہی کرنے والا پہلا آرمی چیف

جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں جو ماضی میں دو اہم ترین خفیہ ایجنسیوں یعنی ملٹری انٹیلی جنس اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کی سربراہی کر چکے ہیں، اس کے علاوہ عام طور پر لانگ کورس سے آنے والے جنرل ہی ماضی میں آرمی چیف بنتے ہیں، مگر عاصم منیر لانگ کورس سے نہیں بلکہ آفیسرز ٹریننگ اسکول سے آئے ہیں۔ لانگ کورس سے مراد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقد ہونے والے دو سالہ کورس سے جس سے تربیت پا کر پاکستانی فوج کے افسران فوج کا حصہ بنتے ہیں۔ یہ لانگ کورس ایبٹ آباد کی کاکول اکیڈمی میں ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے پر ایک اور ادارہ او ٹی ایس یا آفیسرز ٹریننگ سکول کہلاتا ہے جو پہلے کوہاٹ میں ہوا کرتا تھا بعد میں منگلا منتقل ہو گیا۔

جنرل عاصم منیر آفیسر منگلا میں ٹریننگ سکول سے پاس آؤٹ ہوئے جس کے بعد انہوں نے فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔او ٹی ایس پروگرام 1989 کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اور 1990 میں آفیسر ٹریننگ سکول کو جونئیر کیڈٹ اکیڈمی کا درجہ دے دیا گیا۔

دفاعی تجزیہ کار جنرل جنرل طلعت مسعود کا کہنا یے کہ اس سے قبل ضیاء الحق کے دور میں او ٹی ایس سے پاس آؤٹ ہونے والے جنرل عارف بھی فور سٹار جنرل بنے تھے لیکن آرمی چیف نہیں۔ یوں جنرل عاصم منیر پاکستان کے وہ واحد آرمی چیف ہیں جو آرمی چیف بننے سے قبل دو مختلف انٹیلی جنس اداروں کے سربراہ رہے ہیں۔ جنرل عاصم منیر 25 اکتوبر 2018 سے 16 جون 2019 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے۔ عمران خان نے انہیں ہٹا کر فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف بنا دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ملٹری انٹیلی جنس کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل آئی ایس آئی کے سربراہ تو آرمی چیف بنے ہیں، جیسے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، مگر کوئی ایسا فوجی سربراہ نہیں آیا جو دونوں ہی انٹیلی جنس اداروں کا سربراہ رہا ہو۔

اس کے علاوہ کوئی ایسا آرمی چیف بھی نہیں گزرا جس نے شمشیرِ اعزاز یا سورڈ آف آنر حاصل کیا ہو۔ یہ وہ اعزاز ہے جو جنرل عاصم منیر کے پاس ہے۔  سورڈ آف آنر یا شمشیرِ اعزاز وہ اعزازی تلوار ہوتی ہے جو پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹوں میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر دی جاتی ہے۔ اس اعزاز کا حصول ہر کیڈٹ کا خواب ہوتا ہے اور اسے پانے کے لیے ان کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔ یہ شمشیر مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔

جنرل عاصم منیر وہ پہلے آرمی چیف ہوں گے جو کوارٹر ماسٹر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ فوجی اصطلاح میں کوارٹر ماسٹر وہ عہدہ ہے جو فوجیوں کو مختلف قسم کا ساز و سامان فراہم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس ساز و سامان میں اسلحہ، گولہ باردو، فوجی گاڑیاں، وردیاں، وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ اہم عہدہ ہے مگر جنرل طلعت مسعود نے بتایا کہ عام طور پر فوج میں اس عہدے کو بہت زیادہ پسند نہیں کیا جاتا اور سمجھا جاتا ہے کہ کوارٹر ماسٹر جنرل بننے والے افسر کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ دوسرے اعلیٰ فوجی افسران کے برعکس کوارٹر ماسٹر جنرل اہم سکیورٹی چیلنجز کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں سے باہر ہو جاتا ہے۔ وہ فیصلے جو کور کمانڈر یا دوسرے سینیئر افسر کرتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار ماجد نظامی نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہوں گے جو حافظ قرآن ہیں۔ ان کے دونوں چھوٹے بھائی بھی حافظ قرآن ہیں۔ جنرل عاصم کے والد سرور منیر بھی حافظ قرآن تھے، انہوں نے سعودی عرب میں اپنی پوسٹنگ کے دوران کرنل بننے کے بعد قرآن حفظ کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button