روس سے سستا تیل خریدنے کے لیے امریکہ کا پاکستان کو گرین سگنل

امریکی بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ اسے پاکستان سمیت کسی بھی دوسرے ملک کے روس سے سستا تیل خریدنے پر کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ ان ممالک کی مالی مشکلات کو سمجھتا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ اس نے فی الوقت ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کر رکھی جس کے تحت روس سے دوسرے ملکوں کو تیل برآمد نہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پاکستان ہمسایہ ملک بھارت کی طرح روس سے سستا تیل خریدنے سے ہچکچا رہا تھا لیکن اب امریکی انتظامیہ نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کی ہے۔

 

باخبر ذرائع کے مطابق روس پاکستان کو بھارت اور چین جیسے ریٹ پر سستا تیل دے گا، بھارت اور چین روس سے عالمی مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی بیرل سستا تیل لے رہے ہیں، روس پاکستان کو بھی برینٹ آئل مارکیٹ کے مقابلے میں 20 سے 30 ڈالر فی بیرل سستا تیل دے گا۔باوثوق وزارت پٹرولیم ذرائع کا کہنا تھا کہ روس سے پٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے معاملہ پر جنوری میں پیش رفت متوقع ہے، روس کے ساتھ انشورنس، شپنگ اور دیگر چارجز پر بات ہونا باقی ہے، روس سے ساڑھے 65 ڈالر فی بیرل تک تیل درآمد ہونے کا امکان ہے، تمام بین الاقوامی ٹیکسز شامل کرکے پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 41 سینٹ فی لٹر تک ہو گی۔ ذرائع نےمزید بتایا کہ درآمدی تیل آنے پر پٹرول کی قیمت 42 روپے فی لیٹر کم ہو سکتی ہے کیونکہ پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 92 روپے 27 پیسے لٹر بنتی ہے اور پٹرول پر فی لٹر مقامی ٹیکس 90 روپے تک ہیں۔

 

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پاکستان کے روس سے رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کے اعلان کے بعد اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ان خبروں سے آگاہ ہے اور امریکہ نے دوسرے ملکوں پر روسی توانائی کی درآمدات پر فی الحال کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ ایندھن کی قیمتوں سے متعلق مختلف ملکوں کی مشکلات کو سمجھتا ہے۔ ہمیں اس دبائو کا احساس ہے جس کا سامنا حکومتوں کو  ایندھن کی آسان خریداری میں ہے۔ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ہر ملک کو وقت اور حالات کے مطابق خود فیصلے کرنا ہیں۔ہم اس بارے میں بہت واضح ہیں کہ ہر ملک کو اپنے حالات کے مطابق، توانائی کے ذرائع کی درآمدات کے بارے میں خود کوئی راستہ اختیار کرنا ہے۔

 

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم سینیٹر مصدق ملک نےاگلے روز کیا تھا کہ روس پاکستان کو کم قیمت پر تیل فراہم کرے گا۔ اپنے دورہ ماسکو سے متعلق میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے سینیٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ یہ دورہ توقعات سے زیادہ کامیاب رہا اور روس نے پاکستان کو رعایتی قیمت پر خام تیل اور قابل استعمال تیل جیسے پیٹرول اور ڈیزل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مصدق نے کہا کہ روس کے ساتھ تیل کی فراہمی کی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں البتہ جنوری میں معاہدہ طے پانے کے بعد پاکستان کو تیل کی فوری فراہمی شروع ہوجائے گی۔

 

لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا کو باور کرایا ہے کہ روس توانائی کی عالمی مارکیٹ میں قابل بھروسہ فراہم کنندہ نہیں ہے۔ اسکاکہنا ہے کہ یوکرین اور یورپ میں روس کے اقدامات نے واضح طور پر یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ توانائی کا قابل بھروسہ سپلائر نہیں ہے، اور ہم روس سے توانائی کی فراہمی پر طویل مدتی انحصار کو کم کرنے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔لیکن دوسری جانب معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی دبائومیں روس سے تیل کی خریداری پاکستان کے لیے مدد گار ہو سکتی ہے۔ انکے مطابق اگر پاکستان روس سے رعایتی قیمتوں پر پیٹرولیم مصنوعات خریدنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر خرچے میں کمی آئے گی جو کہ پاکستان کے کل درآمدی بل کا بڑا حصہ ہے۔ اس طرح پاکستان کچھ زرمبادلہ بچا سکے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے پاکستانی روپے پر دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔ جب کہ اس سے پاکستان کی درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانے میں مدد ملے گی۔ مجموعی طور پر یہ معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔

 

خیال رہے کہ بھارت روس سے کم قیمت پر تیل حاصل کر رہا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال میں بھارت نے روس سے اپنی تیل کی درآمد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق روسی تیل خریدنے سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر اب کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ بھارت پہلے ہی روس سے تیل خرید رہا ہے اور امریکہ نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

Related Articles

Back to top button