ریٹائیر ہونے والے فیض حمید کا سیاسی میدان میں آنے کا امکان

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں فوج سے ریٹائر کیے جانے والے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور عمران خان کے قریبی دوست لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جلد ہی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاسی میدان میں اتر آئیں گے، یاد رہے کہ جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننتے ہی کور کمانڈر بہاولپور کے عہدے پر فائز لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ جنرل قمر باجوہ اور فیض حمید کو پروجیکٹ عمران خان کا خالق قرار دیا جاتا ہے جس کے تحت سابق کرکٹر کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور پھر اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکلوایا گیا بلکہ 2018 کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی بھی کروائی گئی تاکہ عمران خان کو وزیراعظم بنایا جا سکے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل باجوہ کو پروجیکٹ عمران خان وراثت میں ملا تھا جسے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے شروع کیا تھا اور اس کے بعد اگلے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام اسے پروان چڑھاتے رہے۔

بعد ازاں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر جانے والے ظہیر الاسلام نے جاتے ہوئے یہ پروجیکٹ جنرل قمر باجوہ کو سونپ دیا تھا جنہوں نے اس کی ذمہ داری جنرل فیض حمید کو سونپی تھی اور انہوں نے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ یاد رہے کہ فیض حمید کو عمران خان کی حکومت کا مضبوط ترین ستون قرار دیا جاتا تھا اسی لیے ان کی بطور ڈی جی آئی ایس آئی ٹرانسفر کے چند ہی ماہ بعد عمران کی حکومت گر گئی۔ اب یہ اطلاع ہے کہ فیض حمید عمران کی تحریک انصاف کا باقاعدہ حصہ بننے جا رہے ہیں۔

عام طور پر ریٹائرڈ سینئر جنرلز ریٹائرمنٹ کے بعد عوامی تقاریر یا بیانات نہیں دیتے اور نہ ہی ریٹائر ہونے کے فوری بعد بولتے ہیں۔حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے بھی اپنی الوداعی تقریر میں کہا تھا کہ اب وہ ’گمنامی میں چلے جائیں گے لیکن روحانی طور پر فوج کے ساتھ رہیں گے۔‘ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ پابندی روایتی ہے اور اس پابندی کی کوئی قانونی حیثیت بھی موجود ہے؟

انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق عسکری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق یہ آرمی ایکٹ کا حصہ تو نہیں لیکن فوجی قواعد و ضوابط کا حصہ ضرور ہیں، جن پر عمل درآمد لازم ہے اور عمل درآمد نہ کرنے پر تادیبی کارروائی عمل میں لائے جا سکتی ہے۔ریٹائر ہونے والے دیگر آرمی چیفس کی طرح جنرل قمر جاوید پر بھی انٹرویوز دینے اور تقاریر کرنے پر آئندہ دو سال تک پابندی ہوگی۔ اسی طرح بطور سینیئر جنرل فیض حمید پر بھی یہ پابندی لاگو ہو گی کہ وہ کوئی سیاسی تقریر یا انٹرویو نہیں دیں گے۔

دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب کا کہنا ہے کہ یہ سخت آرڈر ہے اور فوج کے ڈسپلن کا حصہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک تقاریر، انٹرویوز یا سیاست میں حصہ نہیں لیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ’اس کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی اور اگر ڈسپلن کی خلاف ورزی کریں گے تو محکمانہ کارروائی ہو گی۔

اس سوال پر کہ اگر کوئی ریٹائر آفیسر قواعد کی خلاف ورزی کرے تو پھر محکمہ کیا کارروائی کرتا ہے؟ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ ’اس متعلقہ افسر کی پینشن روک لی جاتی ہے یا دیگر مراعات بند کر دی جاتی ہیں یا کم کر دی جاتی ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کیونکہ یہ کوئی ایسا اقدام نہیں جس سے کورٹ مارشل یا کوئی سزا دی جائے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’دو سال پورے ہونے کے بعد آپ بولنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن دو سال کے بعد بھی اگر غیر ملکی میڈیا انٹرویو کے لیے رابطہ کرتا ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے پہلے مشورہ کر لیں۔

بقول جنرل (ر) امجد شعیب: ’یہ قانون یا قواعد ضابطے نہیں ہیں لیکن کسی بھی مستقبل کی پریشانی سے بچنے کے لیے مشورہ کر لینا بہتر ہے تاکہ اگر منہ سے کوئی بات نکل بھی جائے تو بعد میں کوئی دقت نہ ہو یا جوابدے نہ ہونا پڑے۔‘ یاد رہے کہ پچھلے برس سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل اسد درانی کی جانب سے لکھی گئی ایک کتاب میں کچھ انکشافات کیے جانے کے بعد فوج کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا اور وہ کیس ابھی زیر التوا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے بتایا کہ ’بھارتی میڈیا نے سیاچن کی جنگ پر مجھ سے انٹرویو کرنے کی درخواست کی جس کے انتظامات دبئی میں کیے گے تھے۔ میں نے انٹرویو کے لیے لکھ کر جی ایچ کیو سے اجازت طلب کی تھی کہ میں یہ انٹرویو دینا چاہتا ہوں۔ جی ایچ کیو نے اجازت تو دے دی لیکن ساتھ ہی ریاست کا موقف بھی لکھ کر بھیجا کہ یہ پاکستان کا موقف ہے اور آپ نے پاکستان کے موقف کی ہی نمائندگی کرنی ہے۔

اس سوال پر کہ یہ پابندی صرف آرمی چیفس پر ہے یا تمام سینیئر ریٹائرڈ جنرلز پر؟ جنرل (ر) امجد شعیب نے بتایا کہ ’یہ پابندی صرف آرمی چیف کے لیے نہیں بلکہ تمام رینکس پر ہے۔ چاہے وہ کپتان کا رینک ہے میجر، کرنل، بریگیڈیئر یا لیفٹیننٹ جنرل کا رینک ہو، سب پر یہ لاگو ہوتا ہے۔‘  انہوں نے کہا: ’میں ریٹائرمنٹ کے دو سال تک ویسے ہی نہیں بولا تھا کیونکہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد تین سال تک فوجی فرٹیلائزر کا سربراہ تھا اور جب وہ ملازمت بھی ختم ہوئی تو پابندی کا وقت بھی پورا ہو چکا تھا۔

لیکن دو سال کی مدت پوری ہونے سے پہلے اگر متنازع ہونے کی صورت میں اپنی پوزیشن کی صفائی دینا ضروری ہو اور بیان جاری کرنا پڑے تو ایسی صورت میں کیا راستہ ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں امجد شعیب نے بتایا کہ ’ایسی صورت حال میں جنرل ہیڈکوارٹرز سے اس کی نہ صرف اجازت لینا ہوتی ہے بلکہ انٹرویو یا تقریر کا مواد بھی کلیئر کروانا ہوگا۔ ان کے مطابق: ’سب سے بہتر راستہ یہ ہوتا ہے کہ کسی دوست کے ذریعے خبر شائع ہو جائے جو یہ دعویٰ کرے کہ میں ان سے ملا تھا اور جو بات پھیلائی جا رہی ہے، وہ ویسے نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

انہوں نے کہا کہ ’جیسے جنرل قمر باجوہ کے اثاثہ جات پر خبریں سامنے آنے پر ایک سینیئر صحافی نے جنرل باجوہ کی حمایت میں یوٹیوب پروگرام کیا اور کہا کہ جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع سے بات ہوئی ہے، جنہوں نے بتایا کہ جنرل باجوہ پر پورے کیریئر میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن کا الزام نہیں ہے اور ان کے تمام اثاثہ جات ڈکلیئرڈ ہیں۔‘ جب جنرل (ر) امجد شعیب سے سوال کیا گیا کہ ریٹائرمنٹ کے کتنے عرصے بعد کوئی سیاست میں باضابطہ شمولیت اختیار کر سکتا ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ’دو سال بعد ریٹائرڈ فوجی افسر کو اجازت ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لے سکتا ہے لیکن دو سال سے پہلے اگر سیاست میں شمولیت اختیار کرنا ضروری ہو تو جی ایچ کیو سے تحریری اجازت نامہ لے کر این او سی حاصل کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جنرل راحیل شریف ریٹائرمنٹ کے فوری بعد سعودی عرب نئی نوکری کے لیے گئے تو اس سے پہلے ان کو جی ایچ کیو سے این او سی کلیئرنس حاصل کرنا پڑی تھی، اس کے بعد وزارت دفاع نے اس کلیئرنس کی بنیاد پر این او سی جاری کیا تھا۔

Related Articles

Back to top button