شجاعت کی صدارت بحال ہونے سے پنجاب حکومت خطرے میں


الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قاف لیگ کے چوہدری پرویزالٰہی گروپ کو نئے انٹرا پارٹی انتخابات سے روکنے اور چوہدری شجاعت کو پارٹی صدر برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی حکومت ایک مرتبہ پھر خطرات سے دوچار ہوگئی ہے۔ قاف لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی گردن چوہدری شجاعت حسین کی مٹھی میں آ گئی ہے، اگر وہ اپنے دس اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ کا ووٹ دے کر پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے دیں اور انہیں ڈی سیٹ کروانے کے لئے الیکشن کمیشن میں ریفرنس داخل کردیں تو پی ٹی آئی حکومت اکثریت کھو بیٹھے گی اور اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ عمران خان نے بطور پارٹی سربراہ الیکشن کمیشن کو اپنے ان 25 اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس بھجوایا تھا جنہوں نے وزارت اعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں پرویز الٰہی کی بجائے حمزہ شہباز کو ووٹ دیئے تھے، چنانچہ الیکشن کمیشن نے آرٹیکل 63 اے پر سپریم کورٹ کے 17 مئی کے فیصلے کی روشنی میں ان 25 اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا جس کے بعد پنجاب میں ضمنی الیکشن کروانا پڑ گئے تھے۔

اس سے پہلے چودھری شجاعت حسین نے خود کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کی غیرقانونی کوشش کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان سے رجوع کیا تھا۔ 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے نہ صرف پرویز الٰہی گروپ کی جانب سے اعلان کردہ ق لیگ کے انٹرا پارٹی انتخابات روک دیے بلکہ 16 اگست کو کیس کی اگلی سماعت تک سٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم بھی دے دیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کیس کی سماعت کی۔ چودھری شجاعت کے وکیل نے بتایا کہ 28 جولائی کو ایک کاغذ وائرل ہوا کہ ق لیگ کا ایک اجلاس ہوا جس کی صدارت کامل علی آغا نے کی جس کے بعد چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت اور طارق بشیر چیمہ کو سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ وکیل عمر اسلم نے کہا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا طریقہ کار پارٹی آئین کے آرٹیکل 43 میں درج ہے۔سینٹرل ورکنگ کمیٹی میں 150 ارکان جنرل کونسل نامزد کرتی ہے۔ کمیٹی میں 50 ارکان پارٹی صدر کے نامزد کردہ ہوتے ہیں۔جنرل کونسل کی جانب سے 150 ارکان کے انتخاب کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

چنانچہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے ق لیگ کے انٹرا پارٹی الیکشن روکنے اور سٹیٹس کو برقرار رکھنے کا حکم دے دیا جس کے مطابق چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے صدر برقرار رہیں گے جب کہ طارق بشیر چیمہ سیکرٹری جنرل ہوں گے۔ اسکے بعد کیس کی سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔ فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت کے صاحبزادے سالک حسین نے بتایا کہ اب چودھری شجاعت ہی ق لیگ کے صدر ہیں اور پارٹی اور اس کے منتخب اراکین اسمبلی سے متعلق تمام فیصلے کرنے کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔

ایسے میں اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر چوہدری شجاعت حسین حمزہ شہباز کی بجائے پرویز الٰہی کو ووٹ دینے والے اپنے دس ممبران پنجاب اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھ دیں تو پنجاب میں ایک مرتبہ پھر آئینی بحران کھڑا ہو سکتا ہے کیونکہ اگر عمران خان کو پارٹی صدر مانتے ہوئے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو ڈی سیٹ کردیا تھا تو چوہدری شجاعت کے خط پر بھی ان کی جماعت کے دس اراکین پنجاب اسمبلی ڈی سیٹ ہوجائیں گے۔ یوں پنجاب اسمبلی میں پرویز الٰہی کی اکثریت ختم ہو جائے گی اور حمزہ شہباز دوبارہ سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button