شہبازگل کا فوج پرالزام دیگر الزامات سے خطرناک کیوں ہے؟


عمران خان نے اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل کے خلاف بغاوت کیس کے اندراج کے بعد یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ماضی میں نواز شریف اوردیگر سیاستدان بھی فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں لیکن غداری کا کیس صرف شہباز گل پر ہی کیوں بنایا گیا؟ عمران کے یوتھیے فالورز بھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ گل کی فوج پر تنقید اور نواز شریف کی فوج پر تنقید میں ایسا کیا فرق ہے کہ گرفتاری صرف شہباز گل کی گئی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تحریک انصاف کے حامی صارفین دیگر کئی سیاستدانوں کے مختلف بیانات کے کلپس شیئر کر رہے جن میں وہ اداروں پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کلپس کے ساتھ صارفین کا یہی سوال ہے کہ کارروائی اس بیان پر ہی کیوں کی گئی؟ 10 اگست کو جب شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا تو انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ادارے ہماری جان ہیں، ہم نے کبھی اداروں کے خلاف بیان نہیں دیا۔ ادھر اے آر وائی چینل نے شہباز کی گرفتاری کے بعد باقاعدہ یہ موقف اپنایا ہے کہ یہ بیان گل کا ذاتی موقف تھا، اور چینل کی پالیسی یہ نہیں۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین نے نواز شریف، آصف زرداری، مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان کے ایسے بیان شیئر کیے جن میں فوج پر تنقید کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ سے نااہل ہونے اور سزا پانے کے بعد جب نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تو انھوں نے عوامی رابطہ مہم کے دوران اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کی تھی اور فوج کو بطور ادارہ آئین کی پاسداری کرنے کی تاکید کی تھی۔ اسی طرح ان کا وہ بیان بھی شیئر کیا جا رہا ہے جس میں وہ شہباز شریف کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا لیکن گرفتار شہباز کو کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عاصم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنا لیے؟ اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا؟اسی طرح خواجہ آصف کا ماضی میں قومی اسمبلی میں دیا گیا ایک بیان بھی سوشل میڈیا پر کافی دیکھنے کو ملا جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’انھوں نے سیاچن ہارا، ہم نے پوچھا اُن سے۔۔۔ انھوں نے کارگل ہارا، ہم نے پوچھا۔۔۔‘

ایسے میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا شہباز گل کا بیان بھی اسی تنقید کے زمرے میں آتا ہے اور کیا باقی رہنماؤں پر بھی ایسے کیسز بن سکتے تھے؟ اینکر پرسن اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کا ماننا تھا کہ ان بیانات کا پس منظر الگ تھا۔ ’ایک تو یہ ہے کہ آپ فوج کی سیاست میں مداخلت پر تنقید کریں جو کہ ہم سب کرتے ہیں۔ لیکن دوسرا یہ ہے کہ ایک ادارہ ہے جو چلتا ہی ڈسپلن پر ہے، اس کے اہلکاروں کو کہا جائے کہ وہ افسران کے احکامات نہ مانیں تو یہ تو آخری حد تک جانے والی بات ہے۔‘ نسیم زہرہ کے مطابق ’میں نے شہباز گِل کو سنا جس میں وہ کہتے ہیں کہ آپ جانور نہیں انسان ہیں، اپنی عقل استعمال کریں۔۔۔ میں بالکل واضح ہوں کہ یہ بہت خطرناک بیان ہے اور اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، آپ صاف الفاظ میں جوانون کو قیادت کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘

تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ سیاست دان قومی اسمبلی کے اندر جو بھی کہتے ہیں اس کو تو قانونی طور پر کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔پارلیمنٹ کے اندر جو تنقید ہوتی ہے اس کے خلاف تو کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی، وہاں کہی گئی کوئی بھی بات چاہے کسی کے بھی خلاف ہو، کتنی ہی سخت ہو اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں اگر مختلف سیاست دانوں نے پارلیمان کے علاوہ کسی اور فورم پر فوج کے خلاف بات کی تھی تو تحریک انصاف کو اس وقت نوٹس لینا چاہیے تھا، وہ مقدمات کر سکتے تھے۔ مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کو پہلے تو شہباز گِل کی کہی گئی بات پر اپنی پارٹی کی جانب سے وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ اس سے متفق ہیں یا نہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے معاملات قانون سے حل نہیں کیے جا سکتے، ’پی ٹی آئی اپنا موقف دے، شہباز گِل تاسف کا اظہار کریں اور عمران خان اپنے کارکنوں کو تاکید کریں کہ وہ ایک حد میں رہ کر اپنی رائے دیں تو معاملے کو نمٹا یا جا سکتا ہے۔ قومی اداروں کو متنازع نہیں بنایا جانا چاہیے۔‘

لیکن سوقل یہ ہے کہ دوسری جماعتیں بھی تو فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مجیب الرحمان شامی کہتے ہیں کہ ’اگر فوج اقتدار میں نہیں ہے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے تو دنیا میں کہیں بھی یہ کلچر نہیں کہ فوج کو مذاکروں اور مباحثوں میں موضوع بحث بنایا جائے۔شامی کے مطابق شہباز گل کا معاملہ فوج پر تنقید کا نہیں، بلکہ فوجی اہلکاروں کو حکم عدولی پر اُکسانے کا ہے اور عام معمول کی تنقید سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

پی ٹی آئی کے اس مطالبے پر کہ فوج پر تنقید کرنے والے دیگر سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا چاہیے، تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفتاریاں ملک کے لیے اچھی نہیں، اس سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ جو چیز قانون کے خلاف ہے، اس پر تو ٹھیک ہے لیکن ہر ایک کو غدار اور ہر ایک کو کافر کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’پہلے پہلے لیڈر شب پیان دیتی تھی، وہ احتیاط کرتی تھی۔ اب سوشل میڈیا پر اور ٹرولنگ کرنے والے بلا سوچے سمجھے بات کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا فوری سامنے خبر اور بیان لاتا ہے اور پھر ردعمل بھی فوری آتا ہے۔‘

مسلم لیگ ن کے رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہوا ہے، نہیں ہونا چاہیے تھا۔سینیٹر پرویز رشید بھی ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جو فوج کے سیاست میں کردار پر کُھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جمہوریت کے لیے جو ہماری جدوجہد ہے، اس کا پی ٹی آئی کی آج کل کی گفتگو سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔وہ کہتے ہیں کہ ’جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے لوگوں نے کبھی کسی کیلئے میر جعفر، میر صادق، نیوٹرل، جانور ایسے الفاظ نہیں استعمال نہیں کیے۔ ہماری جدوجہد جمہوریت اور قانون، آئین اور پارلیمان کی بالا دستی کے لیے تھی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’سیاسی جدوجہد کرنے والوں پر مقدمے بنتے رہے ہیں۔ ہم نے جیلیں کاٹیں، میں نے چار مارشل لا میں جیلیں کاٹیں، لیکن ہم نے نہ ایسے الزام لگائے نہ شکایتیں کی تھیں۔ ہمارے نعرے تو یہ ہوتے تھے کہ ظلم کی دیوار کو ایک دھکا اور دو، جمہوریت کا سورج طلوع ہو گا، ہم یہ کہتے ہیں کہ بندوق کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کسی سے کہ تم میرے ہاتھ کی بندوق بن جاؤ۔‘

Related Articles

Back to top button