شہباز حکومت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے باہر کیسے نکلنے لگی؟

29 نومبر کو جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج واقعی اپنے اعلان کے مطابق غیر سیاسی ہوتی ہے یا نہیں، یہ تو ابھی دیکھنا ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب شہباز حکومت اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے باہر نکلتی ہوئی نظر آتی ہے جس کا واضح ثبوت اعظم نذیر تارڑ کی بطور وفاقی وزیر قانون کابینہ میں واپسی ہے۔ یاد رہے کہ کچھ ہفتے پہلے اعظم تارڑ کو جنرل باجوہ کی جانب سے اظہار ناراضی کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا تھا، تاہم اسے قبول نہیں کیا گیا تھا اور باجوہ کے  جاتے ہی تارڑ کو دوبارہ کابینہ کا حصہ بنا لیا گیا ہے اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

 

اعظم نذیر تارڑ نے 24 اکتوبر کو وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد وفاقی وزیر سردار ایاز صادق کو وزیر قانون کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی تھیں اور نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا۔ خیال رہے کہ تارڑ نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے چند گھنٹوں بعد ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر بطور وفاقی وزیر اپنی ذمہ داریاں جاری نہیں رکھ سکتا۔ تب میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اعظم تارڑ نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے دوران ’ فوج اور جنرل باجوہ مخالف نعروں‘ کی وجہ سے استعفیٰ دیا کیونکہ فوجی قیادت نے وزیر اعظم کے ساتھ سخت اظہار ناراضی کیا تھا۔ فوج کو گلہ تھا کہ وفاقی وزیر قانون کی موجودگی میں جنرل باجوہ کے خلاف نعرے لگے تو انہوں نے روکا کیوں نہیں؟

 

یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کے مطالبے پر حکومت کی جانب سے تین ’جونیئر ججز‘ کے حق میں اپنا ووٹ ڈالنے پر بطور اظہار ندامت استعفیٰ دیا۔ لیکن یہ بات غلط ہے اور اعظم تارڑ کو ایسی کوئی ندامت نہیں تھی ورنہ وہ سپریم کورٹ میں تین جونیئر ججز گھسانے کے لیے ووٹ دینے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیتے۔ اعظم تارڑ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کی جانب سے جونیئر ججوں کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کے باوجود اپنا منہ کالا کرتے ہوئے ان ججوں کو سپریم کورٹ میں گھسا دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اعظم تارڑ کا یہ جرم ناقابل معافی ہے چونکہ ان کی اس حرکت کا خمیازہ پاکستانی قوم اگلے دس سے پندرہ برس تک اسٹیبلشمنٹ کے گھسائے ہوئے پالتو ججوں کے فیصلوں کی صورت میں بھگتتی رہے گی۔ اعظم تارڑ کی وفاقی کابینہ میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ موصوف کو منانے کے لئے  وزیراعظم شہبازشریف نے ایک حکومتی وفد ان کے گھر بھیجا تھا جس کیساتھ مذاکرات کامیاب رہے اور انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔ وزرا کے وفد میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار، وزیر داخلہ رانا ثنااللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، اقتصادی امور کے وزیر ایاز صادق اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق شامل تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے مطابق وفاقی وزرا کے وفد نے اعظم نذیر تارڑ کو بتایا کہ وزیراعظم نے استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر قانون کے منصب پر ذمہ داریاں جاری رکھیں۔

 

تاہم کچھ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم نذیر تارڑ کو شہباز شریف کی مرضی سے اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر کابینہ سے نکالا گیا تھا اور اب جنرل باجوہ کے جانے کے بعد انہیں نوازشریف کی خواہش پر وفاقی کابینہ میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اب شہباز حکومت کھل کر کھیلے گی کیونکہ ایک تو مستقبل میں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ویسا دباؤ آنے کا امکان نہیں جیسا کہ باجوہ دور میں آتا تھا اور دوسرا اگر کسی معاملے پر دباؤ آیا بھی تو حکومت اسے تسلیم نہیں کرے گی۔

Related Articles

Back to top button