شہباز حکومت کو فوری الیکشن کے لیے ڈیڈلائن کس نے دی؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون میں دو اہم معاملات پر اختلاف رائے پیدا ہو چکا ہے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ الیکشن کب ہونگے جبکہ دوسرا سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو کب تک اقتدار میں رہنا چاہیئے؟ اس معاملے پر مسلم لیگ ن میں تقسیم واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبر عام ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے موجودہ حکومت کو جلد از جلد انتخابات کی تاریخ دینے کا کہا گیا تھا اور 20 مئی کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی تھی اس کے بعد فوری طور پر نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے حکومتی وزرا کو لندن طلب کیا تھا تاکہ اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ الیکٹورل ریفارمز کروائے بغیر نہیں کروائے جائیں گے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت کا خیال ہے کہ فوری نئے الیکشن کی صورت میں عمران خان کو فائدہ ہوگا اور اور ان کی مخالف سیاسی جماعتوں کو نقصان ہوگا۔ لہذا عمران خان کا نئے الیکشن کا مطالبہ تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ” میں اپنا سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ شہباز شریف جو بات لندن جا کر نواز شریف سے کر رہے ہیں، وہ پاکستانی قوم کو بھی بتائیں، بات واضح ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام تر دعوؤں کے باوجود فوری نئے الیکشن کا کوئی امکان نہیں ہے اور اگر الیکشن ہوئے بھی تو اگلے برس تک بات جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ نئی حکومت کو عمران خان کا پھیلایا ہوا گند صاف کرنا ہے اور اس میں وقت لگے گا۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ اس لیے انتخابی اصلاحات کے بعد تین چار مہینے میں نئے انتخابات ہو جائیں گے۔ انہون نے کہا کہ کچھ لوگ شہباز شریف کو کہہ رہے ہیں کہ 20 مئی تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیں تاکہ نئی حکومت آ کر معاملات سنبھالے اور نئے الیکشن کروانے کی تیاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص جو اس ملک میں جمہوریت چاہتا ہے وہ ملک میں الیکشن چاہتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ہم ستمبر یا اکتوبر سے پہلے انتخابات نہیں کرا سکتے۔ پہلے نئی حلقہ بندیاں کرینگے۔ آصف زرادری بھی کہہ چکے کہ پہلے اصلاحات چاہتے ہیں، قانون بدلنا چاہتے ہیں اور معیشت میں بہتری لانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے الیکشن بارے کنفیوژن دور کرنا وزیراعظم شہباز شریف کا کام ہے۔ جب وہ خود یہ نہیں بتا رہے کہ ان پر نئے الیکشن کے لیے دباؤ کون ڈال رہا ہے تو تو میں کیوں بتاؤں؟ میں بھی چاہتا ہوں کہ ملک میں الیکشن ہوں، ہر جمہوریت پسند شخص کہتا ہے ملک میں الیکشن ہوں، لیکن چند معاملات طے کیے بغیر فوری نے الیکشن کا کوئی امکان نہیں چاہیے عمران خان جتنا بھی دباؤ ڈالیں۔

Related Articles

Back to top button