شہباز گل کا کیس فوجی عدالت میں بھیجنے کا امکان


شہباز گل کیس کی تحقیقات کرنے والے افسران کا کہنا ہے کہ عمران خان کے چیف آف سٹاف کی جانب سے اے آر وائے نیوز چینل پر فوج کے خلاف کی جانے والی گفتگو کا مکمل ٹرانسکرپٹ پڑھا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے فوج کے رینک اینڈ فائلز کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی ترغیب دی۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت کورٹ مارشل کی کارروائی کا فیصلہ ہو جائے۔ تحقیقاتی افسران کا کہنا ہے کہ شہباز گل کی اے آر وائی پر گفتگو کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بریگیڈئیر رینک اور اس کے اوپر تک کے افسران کو آپس میں تقسیم کرنے کی کوشش کی اور بریگیڈئیر رینک سے نچلے رینک کے افسران کو تحریک انصاف سے منسلک کرنے کی کوشش کی۔

خیال رہے کہ شہباز گل نے اپنی گفتگو میں کہا تھا کہ فوج کا جو لانس نائیک ہے، حوالدار ہے، سپاہی ہے، کیپٹن ہے، میجر ہے، کرنل ہے، بریگیڈئیر ہے، ان رینکس میں تحریک انصاف کے لیے محبت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لوگ اصل میں پاکستان کے لئے محبت رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کو جیسا پاکستان چاہیے وہ صرف تحریک انصاف ہی بنا سکتی ہے۔ گل نے مزید کہا کہ میں تمام افسران سے التماس کروں گا کہ آپ صرف اپنی نوکری بچانے کے لیے اس جعلی اور چور حکومت کا آلہ کار نہ بنیں کیونکہ ہم ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے تمام لوگ جو اس برے کام میں ملوث ہیں انشاء اللہ ان کا احتساب کیا جائے گا۔

اے آر وائی پر ایک اور سوال کے جواب میں شہباز گل نے فوج کے اندر اور عوام میں بغاوت کرانے کی کوشش کرتے ہوئے دھمکایا کہ اگر آپ نے یہ جنگ نہ لڑی تو ہمارا پاکستان جلد ہندوستان اور امریکہ کی کالونی بن جائے گا۔ شہباز نے کہا کہ جو افسران کہتے ہیں کہ ہم تو حکم کے پابند ہیں، انہوں نے امر بالمعروف بھی تو پڑھا ہوا، وہ محمد ﷺ کے اُمتی بھی ہیں، وہ قائداعظم محمد علی جناح کے بنائے ہوئے پاکستان کے شہری بھی ہیں، لہٰذا اگر آپ کو کوئی غلط حکم ملا ہے تو آپ نہ تو پاگل ہیں، نہ اندھے ہیں اور نہ ہی جانور ہیں، آپ انسان ہیں۔

آپ بتائیے کہ سر آپ جو حکم دے رہے ہیں یہ میرے اپنے ملک کی فوج کے خلاف ہے، آپ جو حکم دے رہے ہیں اس سے میرا ادارہ کمزور ہو گا، آپ یہ بھی بتائیے کہ کبھی بھی دنیا کی کوئی فوج تگڑی نہیں ہوتی، جب تک اس کے پیچھے عوام کی اکثریت نہ کھڑی ہو، انہیں بتائیے کہ آپ جو حکم دے رہے ہیں وہ اکثریت کی خواہشات کے خلاف ہے، اور آپ اگر یہ کریں گے تو فوج اور عوام کے درمیان جو محبتوں کا گہرا رشتہ ہے، اس میں نفاق پڑے گا۔ لہذا اندھی تقلید کرتے ہوئے آپ کو یہ سوچنا ہو گا کہ آپ کی حب الوطنی کہیں داؤ پر تو نہیں لگ گئی، آپ غداری کے مرتکب تو نہیں ہو رہے، آپ ایک غیر آئینی، غیر قانونی حکم کو تو نہیں مان رہے، آپ ایک ایسا حکم تو نہیں مان رہے، جس کے ماننے کی وجہ سے آپ اپنے ملک کے دفاع کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔

شہباز گل نے اے آر وائے پر اپنی گفتگو کے دوران مزید کہا کہ آپ نے ملک کا دفاع صرف سرحدوں پر جا کر بندوقوں کے ساتھ نہیں کرنا۔ اس وقت ففتھ جنریشن وار چل رہی ہے، اب ملکوں کو اندر سے توڑا جاتا ہے۔ آج اگر پاکستان کی پوری قوم نے یہ جنگ اپنی سڑکوں پر چوکوں پر، کالجز اور یونیورسٹیز، اور ہسپتالوں میں جاگتے ہوئے نہ لڑی تو ہم ہمیشہ کے لیے ہندوستان اور امریکہ کی کالونی بن جائیں گے، ہم ان کے اثر و رسوخ میں چلے جائیں گے، ہم ایک خوددار ملک نہیں رہ پائیں گے۔ آج ہم نے یہ جنگ اجتماعی شعور سے لڑنی ہے، نہ کہ کسی ٹینک، ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز، یا گرنیڈ اور میزائل سے۔ جو جنگ اس وقت جاری ہے، یہ بیانیے کی جنگ ہے جو ہمیں ہر صورت جیتنی ہے۔

چنانچہ تحقیقاتی افسران کا کہنا ہے کہ شہباز گل کا بیان فوجی افسران کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے علاوہ انہیں سیاست میں ملوث ہونے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ لہذا گل کے کورٹ مارشل کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں اور ایسا ماضی میں بھی ہو چکا ہے جب کسی سویلین کو فوجی عدالت میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا۔

Related Articles

Back to top button