شہباز گل کو PTI قیادت نے بے یارومددگار چھوڑ دیا


بغاوت کیس میں گرفتار ہونے والے عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کو نہ صرف انکی پارٹی قیادت نے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے بلکہ ان کے خاندان نے بھی ان سے رابطہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور موصوف پچھلے کئی روز سے کپڑوں کے اسی جوڑے میں حوالات میں بند ہیں جو انہوں نے گرفتاری کے وقت پہنا ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ شہباز گل کی آخری امید ان کا ڈرائیور تھا لیکن وہ بھی اپنے گھر پولیس کا چھاپہ پڑنے کے بعد مفرور ہو چکا ہے۔ پولیس ڈرائیور کو اس لئے تلاش کر رہی ہے کہ گرفتاری سے پہلے شہباز گل نے اپنے موبائل فون اس کے حوالے کر دیے تھے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل تین دن سے پاکستانی فوج کے جوانوں کو اپنی قیادت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں اسلام آباد پولیس کی حراست میں ہیں۔ پولیس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہباز گل تھانہ کوہسار میں گزشتہ 72 گھنٹوں سے اکیلے موجود ہیں اور اس دوران انکے وکیل کے علاوہ نہ تو کوئی پارٹی رہنما ان سے ملاقات کے لیے آیا ہے اور نہ ہی ان کے خاندان کے کسی فرد نے ان سے رابطہ کیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز گل شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور رات گئے اٹھ کر ٹہلنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں پارٹی قیادت کی جانب سے خود کو تنہا چھوڑ دینے کی امید ہرگز نہیں تھی۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عام طور پر ملزمان کے رشتہ دار دوست وغیرہ ان کے لیے تھانے میں کھانا، کپڑے، ادویات وغیرہ بھیجتے رہتے ہیں اور پولیس اہلکار انہیں قیدیوں تک پہنچا بھی دیتے ہیں، تاہم شہباز گل کے معاملے میں ان کی پارٹی یا اہل خانہ کی جانب سے نہ تو کوئی رابطہ کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی چیز مہیا کی گئی ہے۔ایک پولیس اہلکار نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ’شہباز گل کے پاس شلوار قمیض کا ایک ہی جوڑا تھا جو اس نے گرفتاری کے وقت پہنا ہوا تھا۔ لیکن انہیں دوسرا لباس دینے بھی انکے گھر کا کوئی فرد یا رشتہ دار نہیں آیا۔ چنانچہ اب پولیس نے ان کو خود کپڑے منگوا کر دیے ہیں کیونکہ ان کو خود سے بدبو آرہی تھی۔

ذرائع کے مطابق انہیں پولیس کی جانب سے کھانا بھی مہیا کیا جا رہا ہے اور بستر بھی مہیا کیا جا رہا ہے تاہم وہ بنی گالہ کی حوالات میں خاصے رنجیدہ ہیں۔ خیال رہے کہ بنی گالا کاتھانہ عمران خان کی رہائش گاہ سے کچھ ہی دور واقع ہے لیکن موصوف نے ابھی تک اپنے چیف آف سٹاف سے ملنے کی زحمت گوارا نہیں کی حالانکہ اسے خان صاحب کی رہائش گاہ کے دروازے سے گرفتار کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ عمران خان سمیت کسی بھی اہم پارٹی رہنما نے کھل کر شہباز گل کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی نہیں کیا۔

پارٹی ترجمان فواد چوہدری نے بھی اگلے روز ایک ٹی وی پروگرام میں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ شہباز گل نے افواج پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ان کا ذاتی بیان تھا اور پارٹی پالیسی نہیں تھی۔ خود عمران نے ان کی گرفتاری کے طریقہ کار کی مذمت کی اور کہا کہ ’اگر شہباز گِل نے کچھ غلط کہا ہے تو قانون موجود ہے لہذا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ماضی میں افواج پاکستان کے حوالے سے نواز شریف سمیت دیگر سیاستدانوں نے جو گفتگو کی ہے اس کی بنیاد پر بھی مقدمات قائم کئے جائیں۔ انکاکہنا تھا کہ شہباز گِل کو عدالت میں اپنی صفائی دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ لیکن ایسا کہتے وقت خان صاحب شاید بھول گئے کہ عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز گل واضح طور پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ فوج سے محبت کرتے ہیں لیکن انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے انہیں شرمندہ ہونا پڑے ۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ وزیراعلٰی پنجاب پرویز الٰہی نے شہباز گل سے اظہار لاتعلقی کیا ہے اور انہیں عقل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ’شہباز گل نے جو جملے کہے وہ ان کو نہیں کہنے چاہیے تھے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بھی شہباز شریف گل کی جانب سے کی گئی گفتگو کو نامناسب قرار دیا ہے۔

دوسری جانب پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تفتیش شہباز گل سے خاصی اہم معلومات ملی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو اب بھی شہباز گل کے دوسرے موبائل کی تلاش ہے تاہم ان کے ڈرائیور اظہار کے گھر رات گئے چھاپوں اور ان کی اہلیہ اور برادر نسبتی کی گرفتاری کے باوجود موبائل برآمد نہیں ہو سکا۔ پولیس نے بتایا کہ اظہار کی اہلیہ اور برادر نسبتی نے کار سرکار میں مداخلت کی اور مقدمے سے متعلق حقائق چھپانے کی کوشش کی۔ بنی گالاپولیس نے شہباز گل سے موبائل برآمد کرنے کے لئے دو روز کا ریمانڈ حاصل کیا تھا اور اب انہیں 12 اگست کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Related Articles

Back to top button