عاصم منیر کے آرمی چیف بننے سے عمران کی تسلی کیسے ہوئی؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی منتخب وزیرِ اعظم اور آرمی چیف کی لو سٹوری کا انجام اچھا نہیں ہوا اور شاید آئندہ بھی نہ ہو سکے، جب تک کہ سول ملٹری تعلقات کو آئین کے منطقہ میں نہ لایا جائے گا۔ منتخب وزرائے اعظم پر ہمیشہ یہ الزام رہا ہے کہ وہ ’اپنا‘ چیف لانا چاہتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ’غیر سیاسی‘ چیف ڈھونڈتے رہے ہیں، کبھی کسی سینئر افسر کو اور کبھی کسی جونیئر افسر کو۔ تاہم اب جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح فوج کے سینئیر موسٹ جرنیل کو نیا آرمی چیف بنانے کا اعلان ہو چکا ہے تو جنرل عاصم منیر کو بھی اپنے حلف کی پاس داری کرتے ہوئے اور فوج کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے غیرسیاسی ہونے کے اعلان پر سختی سے عمل پیرا ہو کر دکھانا ہوگا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ 6 سال تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہنے کے بعد بالآخر جنرل باجوہ ایک اور توسیع کی حسرت دل میں لیے رخصت ہو رہے ہیں۔ لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ باعزت طریقے سے رخصت ہوتے اور انکے جانے سے صرف ایک ہفتہ پہلے نکی جانب سے پچھلے 6 برس میں بنائی گئی جائیدادوں اور اثاثوں کا پول نہ کھلتا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے جنرل قمر باجوہ کے اہل خانہ کے انکم ٹیکس ریکارڈ کے غیر قانونی طور پر لیک ہونے کی انکوائری کے حکم نے پہکے ہی تصدیق کردی ہے کہ معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس پر شائع ہونے والی اثاثوں اور جائیدادوں کی کہانی مصدقہ دستاویزات کی بنیاد پر تیار کی گئی جو کہ ایف بی آر سے لیک کی گئیں۔ یاد رہے کہ فیکٹ فوکس نے ایک ایسے موقع پر یہ رپورٹ شائع کی جب حکومت اور فوجی قیادت کے مابین مبینہ طور پر نئی فوجی تقرریوں کے حوالے سے ڈیڈلاک چل رہا تھا۔ چنانچہ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے کہ ڈیٹا حکومت کی مرضی سے لیک ہوا ہو گا، وزیر خزانہ نے فوری طور پر انکوائری کا حکم جاری کیا یے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انکوائری یہ نہیں ہو رہی کہ جنرل باجوہ کے حوالے سے چلنے والی رپورٹ جھوٹی ہے یا سچی، بلکہ یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ جنرل صاحب کا ڈیٹا کس نے لیک کر دیا؟

یاد رہے کہ ’فیکٹ فوکس‘ ہر شائع ہونے والی احمد نورانی کی تحقیقاتی رپورٹ میں ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے خاندان نے گزشتہ 6 برسوں میں 12 ارب روپے سے زائد کی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔باجوہ خاندان کی جائیداد اور اثاثوں کے حوالے سے خبر بریک کرنے سے پہلے فیکٹ فوکس نامی تحقیقاتی ویب سائٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف اور سابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن کے حوالے سے بھی خبریں شائع کی ہیں۔

آرمی چیف کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈ کے حوالے سے فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اندر اور باہر آرمی چیف اور انکی اہلیہ کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں 2013 سے 2021 تک جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کی ویلتھ سٹیٹمنٹس بھی شیئر کیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل قمر باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے اثاثے جو 2016 میں صفر تھے، وہ بعد کے 6 برسوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے ہو گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کہا گیا ہے کہ اس رقم میں فوج کی جانب سے ان کے خاوند کو ملنے والے رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور مکانات شامل نہیں ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اکتوبر 2018 کے آخری ہفتے میں جنرل قمر باجودہ کی بہو ماہ نور صابر کے ڈیکلیئرڈ اثاثوں کی کُل مالیت صفر تھی اور ان کی شادی سے صرف ایک ہفتہ قبل ہی یعنی 2 نومبر 2018 کو ان کے اثاثے ایک ارب 27 کروڑ روپے سے زائد ہوگئے۔اسی طرح فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ ماہ نور کی بہن ہمنا نصیر کے اثاثے 2016 میں صفر تھے جو 2017 تک ’اربوں‘ میں پہنچ گئے۔ رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ ماہ نور کی 3 بہنوں میں سب سے چھوٹی نابالغ بہن کے ٹیکس ریٹرن پہلی بار 2018 میں جمع کرائے گئے جب کہ ابھی وہ صرف 8 سال کی تھیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اسکے 2017 کے ریٹرن ظاہر کرتے ہیں کہ اسے پانچ عدد جائیدادیں بطور تحفہ دی گئیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ آرمی چیف کے دوست اور ان کے صاحبزادے کے سسر صابر حمید مٹھو کے ٹیکس گوشوارے 2013 میں 10 لاکھ سے بھی کم تھے، تاہم آنے والے برسوں میں وہ بھی ارب پتی ہوگئے اور لاہور کے طاقتور بزنس ٹائیکون بن گئے اور بیرون ملک اثاثے منتقل کرنے شروع کر دیے۔

فیکٹ فوکس کے مطابق وہ تمام تر کوششوں کے باوجود جنرل قمر باجوہ کے دونوں بیٹوں کے نام پر موجود اثاثوں کا ڈیٹا حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ فیکٹ فوکس نے دعویٰ کیا کہ یہ خبر شائع کیے جانے کے بعد سے ان کی ویب سائٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔حماد غزنوی اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ لگ بھگ پچپن سال پہلے جب کراچی میں جنرل موٹرز کا پلانٹ گوہر ایوب صاحب نے لیا تھا تو حیرت ہوئی تھی، افسوس ہوا تھا، غصہ آیا تھا، ہم نے انصاف مانگا تھا، مگرہماری نہیں سنی گئی، اور پھر چل سو چل۔ یونہی خیال آیا کہ وہ جو اپنے ایوب خان تھے انہیں ایکسٹینشنز کا بہت شوق تھا، پہلے چار سال چیف رہے، پھر چار سال کی ایکسٹینشن لی، پھر جون 1958 میں ایک چھوٹی سی، کیوٹ سی دو سالہ ایکسٹینشن لی، لیکن پھر ’صبرِ ایوب‘ کی انتہا ہو گئی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ ایکسٹینشن نہیں مانگیں گے، بلکہ خود ایکسٹینشن دیں گے، سو انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اگلے دس سال خود کو وسیع تر قومی مفاد میں توسیع دیتے رہے۔تو پھر اس قصے سے کیا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ ایکسٹینشنز سے بچوں کی ’پاکٹ منی‘ میں اضافہ ہوتا ہے؟ بہرحال، فوج کی قیادت اتنی بالغ نظر ہو چکی ہے کہ لفظ ایکسٹینشن سے باقاعدہ چِڑ کھاتی ہے، اور باجوہ صاحب تو اپنی پچھلی ایکسٹینشن پر بھی افسوس کا اظہار کر چکے۔ تاہم یاد رہے کہ انکی جانب سے یہ اظہار افسوس ایک اور ایکسٹینشن حاصل کرنے کی کوششں بری طرح ناکام ہو جانے کے بعد کیا گیا۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دوست آرمی چیفس کی تعیناتی کے حوالے سے میاں صاحب کے ماضی کے فیصلوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ میاں صاحب کی تو اپنے ہر چیف سے لڑائی ہو جاتی ہے، لیکن جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری کے بعد اب توقع ہے کہ مذاق اڑانے والوں کو ایک اور موقع نہیں ملے گا، عمران خان نے آج تک کبھی کوئی آرمی چیف تو تعینات نہیں کیا لیکن جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن ضرور دی ہے، تاہم امید ہے کہ خان صاحب کی بھی جنرل عاصم منیر کی بطور نئے آرمی چیف تعیناتی کے اعلان سے تسلی ہو چکی ہو گی۔

Related Articles

Back to top button