عمران اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں پر

پی ڈی ایم اتحاد کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے فارغ ہونے کے چار ماہ بعد سابق وزیراعظم عمران خان کے اپنی محسن طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اب کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں جس کے واضح شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں کے تعلقات میں کشیدگی کا آغاز تب ہوا جب عمران ابھی وزیراعظم تھے اور انہوں نے فوجی قیادت کو عوامی جلسوں میں جانور اور نیوٹرلز جیسے القابات سے پکارنا شروع کر دیا تھا۔ بعد ازاں ایک خط کی بنیاد پر عمران خان غیر ملکی مداخلت اور امریکی سازش کا بیانیہ لے کر میدان میں آ گے اور تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہونے کے بعد کھلے عام فوجی اسٹیبلشمنٹ کو میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے نوازنا شروع کر دیا۔ عمران خان کی دیکھا دیکھی ان کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے بھی فوجی قیادت کے خلاف ایک زہریلی مہم شروع کردی اور آرمی چیف کے خلاف غدار کا ٹرینڈ چلا دیا۔ اسی دوران عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ونگ کے سربراہ ارسلان خالد کی ایک ٹیلی فونک گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس میں سابقہ خاتون اول ارسلان کو کہتی سنائی دیتی ہیں کہ بیٹا خان صاحب کے تمام مخالفین کے خلاف غداری کا ٹرینڈ چلا دو۔

اس ٹیلی فونک گفتگو سے یہ انکشاف ہوا کہ فوج اور اس کی قیادت کے خلاف غداری کا ٹرینڈ چلانے میں عمران خود ملوث ہیں۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کے تعلقات اور بھی کشیدہ ہو گئے۔

دوسری جانب عمران اس زعم میں مبتلا اپنا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ آگے بڑھاتے رہے کہ فوج پریشر لے کر دوبارہ ان کے سرپردست شفقت رکھ دے گی۔ لیکن دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ نے اسے سراسر بلیک میلنگ گردانا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطے مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں اور کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ان تعلقات میں آخری کیل کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کی شہادت کے بعد پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے چلائی جانے والی افسوسناک مہم ثابت ہوا جس کے بعد عسکری حلقوں کی جانب سے عمرانڈو صدر عارف علوی کو شہدا کے جنازوں میں شرکت سے روک دیا گیا۔

دوسری طرف عمران خان اب یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس میں ان کے خلاف آنے والے فیصلے کے پیچھے بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ اپنے نئے ایجنڈے پر عمل درآمد کا آغاز عمران نے گیلے تیتر نامی اینکر کے ساتھ انٹرویو کے دوران کیا جب انہوں نے یہ الزام لگا دیا کہ انہوں نے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر بنانے کا فیصلہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی اس یقین دہانی کے بعد کیا تھا کہ وہ ایک باکردار اور غیر جانبدار شخص ہیں۔ عمران کا کہنا تھا کہ جب سکندر سلطان راجہ کا نام سامنے آیا تو میں نے نیوٹرلز کو بتایا کہ یہ شخص تو نواز لیگ کا آدمی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن نیوٹرلز نے مجھے یقین دہانی کروائی کہ سکندر سلطان ٹھیک آدمی ہے اور جانبداری نہیں دکھائے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر لگا کر انہوں نے زندگی کی بہت بڑی غلطی کی لیکن اس کی ذمہ داری نیوٹرلز پر عائد ہوتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے الیکشن کمشنر لگوانے کا مدعا بھی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے کا بنیادی مقصد اپنے حامیوں میں فوج کے خلاف نفرت میں اضافہ کرنا ہے لیکن اب یہ حربے کارگر ثابت نہیں ہونے والے اور فارن فنڈنگ کیس میں حقائق چھپانے کی بنا پر عمران خان کی نااہلی یقینی ہے۔

Related Articles

Back to top button