عمران خان اس بار دھرنا دیئے بغیر گھر کیوں چلے گئے؟


عمران خان کی جانب سے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دینے کے اعلان کے بعد اچانک پتلی گلی سے نکل جانے پر یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر انہوں نے دھرنا دینے کا ارادہ ترک کیوں کیا؟

سیاسی حلقوں میں مختلف توجیہات پیش کی جارہی ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ عمران خان اپنے ناکام لانگ مارچ کی وجہ سے کوئی تاثر نہیں بنا پائے تھے اور نہ ہی ان کے ساتھ لوگوں کی اتنی تعداد تھی کہ وہ ایک با عزت دھرنا دینے میں کامیاب ہو پاتے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ مکمل طور پر ناکام ہو جاتا اگر سپریم کورٹ جسٹس اعجاز الاحسن کی زیر قیادت ان کے ریسکیو کے لئے سامنے نہ آتی اور انہیں اسلام آباد پہنچانے کے لیے سہولت کاری نہ کرتی۔ عمران کے ساتھیوں کا بھی کہنا ہے کہ دو روز کے نوٹس پر مئی کے گرم موسم میں حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان ایک بڑی سیاسی غلطی تھی جس کا خمیازہ عمران کو ساکھ کے بحران کی صورت میں بھگتنا پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اس لانگ مارچ میں اسٹیبلشمنٹ کے کمزور دھڑے کی حمایت حاصل تھی جس نے انہیں پشاور سے اپنا سیاسی ایڈونچر شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ پشاور سے چلنے کا ایک اور بڑا مقصد خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کا استعمال تھا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اور ٹرانسپورٹ لے کر اسلام آباد جایا جائے۔ لیکن کپتان کو تب شدید دھچکا لگا جب انہیں خیبرپختونخوا میں وہ حمایت نہ مل پائی جس کی وہ امید کر رہے تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران کا بیرونی سازش اور امپورٹڈ حکومت کا بیانیہ اب ٹھس ہوچکا ہے اور لوگوں کو باہر نکالنے کیلئے کوئی نیا چورن لانا پڑے گا۔ ویسے بھی اب جون اور جولائی کی سخت گرمی میں کسی سیاسی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لہذا عمران کی جانب سے چھ روز بعد دوبارہ لانگ مارچ کرنے کی دھمکی ایک گیدڑ بھبکی کے سوا کچھ نہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب نےعمران خان کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ بنی گالا جا کر سو گئے ہیں اور اب کبھی باہر نہیں نکلیں گے۔ ‘جیو نیوز ‘سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے تخریب کاری کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے بقول عمران خان پاکستان کی ترقی اور عوام کے روزگار کے خلاف ہیں اور وہ آج خالی ہاتھ اسلام آباد سے گھر واپس گئے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار انصار عباسی نے عمران کے ‘حقیقی آزادی مارچ’ کے اچانک ختم ہونے پر سوال کیا کہ “کیا ہوا؟ اتنے تماشے اور جانی و مالی نقصان کے بعد فوری طور پر عمران خان کیوں گھر چلے گئے؟”۔انصار عباسی نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کی قیادت یہ ضرور سوچے کہ کیا اسلام آباد میں آگ لگا کر پاکستان کو دنیا بھر میں تماشا بنا کر پیش کرنا ہی مقصد تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپنی قیادت میں خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرنے سے قبل اپنے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلام آباد میں سرینگر ہائی وے کے بجائے ڈی چوک کے مقام پر جمع ہوں۔ تاہم جمعرات کی علی الصباح پی ٹی آئی کے کارکن جناح ایونیو کے مقام پر جمع ہوئے تو عمران خان نے مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے حکومت کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر اس نے چھ روز میں نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو وہ دوبارہ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔ عمران خان مارچ کے اختتام کا اعلان کرنے کے بعد اپنی رہائش گاہ بنی گالا روانہ ہوئے جس کے بعد کارکن بھی منتشر ہو گئے۔ اس سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پی ٹی آئی کے بعض کارکن ڈی چوک پہنچے تو پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کی۔

تحریکِ انصاف کے ایک حامی اسفند یار بھٹانی نے عمران خان کے اعلان پر تبصرہ کیا کہ کارکنان ناراض ہونے پر حق بجانب ہیں لیکن ہم سے بہتر وہ جانتے ہیں۔ پرسکون رہیں اور عمران خان پر یقین رکھیں۔ صحافی طلعت حسین کہتے ہیں کہ عمران خان کو بتایا گیا کہ آپ کے پاس نمبر نہیں ہیں اس لیے اپنے آپ کو شرمندہ نہ کریں۔ جس کے بعد وہ بنی گالا کی طرف چلے گئے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے 22 مئی کو ‘ حقیقی آزادی’ مارچ کا اعلان کیا تھا اور ان کا دعویٰ تھا کہ 20 لاکھ افراد اس مارچ میں شریک ہوں گے۔

ماضی کے مقابلے میں سندھ اور پنجاب کے بڑے شہروں سے اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کرنے کے بجائےانہوں نے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔

صحافی عمر چیمہ عمران خان کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں “بٹھا کر یار کو اسلام آباد میں رات بھر ۔۔جو لوگ کچھ نہیں کرتے، کمال کرتے ہیں۔” پاکستانی فن کار اور برابری پارٹی کے سربراہ جواد احمد کہتے ہیں اب تک نہ کوئی اسمبلی تحلیل ہوئی، نہ ہی نئے انتخابات کا اعلان ہوا اور عمران بنی گالہ میں اپنے 300 کنال کے گھر میں واپس چلے گئے ہیں۔ جواد احمد کے مطابق عمران خان کے حامی حیران ہیں کہ وہ ان کے غلام ہیں یا نہیں۔

صحافی اویس یوسفزئی کہتے ہیں “مارچ والے بہت تیز نکلے۔ دارالحکومت میں درختوں، میٹرو اسٹیشن کو آگ لگانے، نجی املاک اور اے ٹی ایمز کو نقصان پہنچانے کے بعد سپریم کورٹ کے کھلنے کے وقت سے پہلے ہی ڈی چوک سے اپنی عزت بچا کر نکل گئے۔ تاہم سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور انہیں تحریک انصاف کے ججز ونگ کا سربراہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جسٹس اعجازالاحسن نے یہ بھولتے ہوئے کہ وہ ایک جج کی کرسی پر بیٹھے ہیں، آئین شکن عمران خان کے پرتشدد لانگ مارچ کا راستہ ہموار کیا اور حکومت کے ہاتھ باندھ دیئے جس کا نتیجہ اسلام آباد میں جگہ جگہ توڑ پھوڑ اور آتش زدگی کی صورت میں سامنے آیا۔

Related Articles

Back to top button