عمران خان کو کس جرنیل کا نام اتنا خوفزدہ کر رہا ہے؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی تقرری پر جتنا شور مچایا جارہا ہے اور جتنے غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی نام ایسا ہے جو انہیں خوف میں مبتلا کر رہا ہے۔ لیکن یہ خوف ہمارے ہر سویلین حکمراں پر سوار رہا ہے اور اسی وجہ سے ماضی میں یا تو جونیئر جرنیلوں کو سینئر پر ترجیح دی جاتی رہی، اور یا پھر انہیں توسیع دی جاتی رہی۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ یہ اہم ترین فیصلہ جتنا آسان ہوتا ہے، ہم لوگ ہر تین سال بعد اسے ایک انجانے خوف میں مبتلا ہو کر مشکل تر بنا دیتے ہیں۔ مظہر بتاتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے قانون کے تحت چار یا پانچ جرنیلوں کے نام وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم کو بھیجے جاتے ہیں جن میں سے کسی ایک کو بطور فور اسٹار جرنیل ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کرنا ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ شاذو نادر ہی اس لسٹ سے ہٹ کر کسی کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے۔ البتہ یہ وزیر اعظم کا آئینی اختیار ہوتا ہے کہ وہ تجویز کردہ ناموں میں سے سینئر ترین جرنیل کو نیا چیف لگاتے ہیں یا ان میں سے کسی کو دیگر پر ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اگر بات توسیع پر آجائے تو پھر معاملہ مختلف ہوجاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہو گا کہ شہباز شریف بحیثیت وزیر اعظم آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ میرے علم میں یہ بات تو نہیں کہ وزیراعظم کی لندن میں اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے اس سلسلے میں کیا مشاورت ہوئی۔ لیکن تقرری یا توسیع کے حوالے سے دونوں کے درمیان یہ اتفاق ہو گیا ہے کہ فیصلہ کسی دبائو میں آ کر نہیں کیا جائے گا، یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ پی ڈی ایم حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ دوسری طرف اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے عمران خان نے بھی اسلام آباد پر چڑھائی کی دھمکی دے دی ہے۔ مظہر عباس کے خیال میں عمران کی برطرفی کے بعد سے بننے والی پی ڈی ایم حکومت پچھلے پانچ ماہ میں اپنی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے اور عمران نے انتخابی کامیابیاں حاصل کر کے ثابت کیا ہے کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ عمران نے آرمی چیف کی اہم ترین تقرری پر غیر ضروری طور پر ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے اور وہ بھی اپنی اطلاعات کی بنیاد پر۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا اس پر ردعمل سامنے آیا تو خان صاحب کے کیمپ میں کچھ پریشانی لاحق ہوئی۔ اسکے بعد کامران خان سے انٹرویو میں عمران یہ تو کہہ گئے کہ نئے آرمی چیف کا تقرر نئی منتخب حکومت کو عام انتخابات کے بعد کرنا چاہئے اور تب تک اس اہم تعیناتی کو مؤخر کر دینا چاہئے، مگر سوال یہ ہے کہ اس دوران کیا ہو گا، عمران تو توسیع کا لفظ اپنی زبان پر لاتے ہوئے گھبراتے نظر آئے مگر اللہ بھلا کرے فواد چوہدری کا جنہوں نے تصدیق کر دی کہ خان صاحب کے کہنے کا مطلب توسیع ہی تھا۔ خان صاحب کو اصل غصہ یہ ہے کہ اگر نیا آرمی چیف نواز شریف اور آصف زرداری کے کہنے پر لگا تو یہ تقرر میرٹ پر نہیں ہو گا۔ اس کے معنی بہت سادہ سے ہیں کہ کوئی نام ہے جو انہیں خوف میں مبتلا کر رہا ہے۔ یہ وہی خوف ہے جو حکمرانوں کو جونیئر جرنیلوں کو آرمی چیف بنانے اور پھر انہیں توسیع دینے پر آمادہ کرتا رہا ہے۔ مظہر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہماری سیاست کا اٹوٹ انگ رہا ہے۔ ایک مرتبہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل مرحوم نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’ہم سے بنیادی غلطی تب ہوئی جب ایک حاضر سروس چیف کو وزیر دفاع بنا کر حکومت میں شامل کر لیا گیا، چنانچہ جنرل ایوب خان نے مارشل لا لگا دیا‘‘۔ بھٹو شہید سب سے طاقتور سویلین حکمران تھے مگر خوف کا یہ عالم تھا کہ جنرل گل حسن کو پہلے چیف آف اسٹاف لگایا اور پھر ہٹا کر جنرل ٹکا خان کو کمانڈر انچیف لگا دیا۔ اس کے بعد بھٹو صاحب نے 6 سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ساتویں نمبر کے جونیئر جنرل ضیاء الحق کو نیا آرمی چیف بنا دیا۔ ضیاء نے بعد میں بھٹو اور پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب پر عیاں ہے۔

مظہر عباس یاد دلاتے ہیں کہ نواز شریف نے سویلین حکمرانوں میں سب سے زیادہ آرمی چیفس کی تقرریاں کی ہیں۔ مگر شاید ہی اس اہم ترین عہدے پر تعینات ہونے والے کا ان سے تنازع نہ بنا ہو۔ یہ بھی درست ہے کہ غلطی صرف ایک فریق کی نہیں رہی۔ کم از کم جنرل مشرف کے کیس میں تو ایسا ہی ہے۔ مگر شاید جنرل جہانگیر کرامت کے معاملے میں نواز شریف ضرورت سے زیادہ آگے چلے گئے۔ موصوف نے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز دی تھی لہذا ان سے استعفیٰ مانگ لیا گیا۔ وہ تو کرامت نے استعفیٰ دے دیا ورنہ سعید مہدی کو آرمی چیف کی برطرفی کی سمری تیار کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا جو انہوں نے استعفیٰ کے بعد روک لی۔ انکے بعد آنے والے جنرل راحیل شریف نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ وہ توسیع نہیں لیں گے لیکن نواز شریف کے بقول راحیل شریف نے بھی توسیع لینے کی بھرپور کوشش کی اور 2014 کے دھرنے کے دوران عمران خان سے ملاقات بھی کر ڈالی۔ سابق صدر آصف زرداری نے آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کو پوری ایک مدت کی توسیع دی اور پھر پہلی بار توسیع کے حوالے سے بات سپریم کورٹ تک پہنچ گئی۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے حوالے سے اسی سال اپریل 2022 میں ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح اعلان کیا کہ وہ توسیع نہیں لیں گے چاہے انکو وزیر اعظم توسیع دینا بھی چاہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی جانب سے اگلے الیکشن اور نئی حکومت کے قیام تک جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ بظاہر تو حکمران اتحاد کی جانب سے اس تجویز پر کوئی مثبت رد عمل نہیں آیا اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھی واضح کیا ہے کہ آرمی چیف توسیع نہیں لینا چاہتے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر کیوں آرمی چیف کی تقرری سویلین حکمرانوں اور سیاست دانوں کے ذہنوں پر سوار رہتی ہے۔کیا بہتر نہ ہو گا کہ یہ فیصلہ فوج کے ادارے پر ہی چھوڑ دیا جائے، یا پھر جس طرح سپریم کورٹ نے اپنے چیف جسٹس کے بارے طے کرلیا ہے کہ سینئر ترین جج ہی اس عہدے پر براجمان ہو گا، اسی طرح آرمی چیف کے لیے بھی یہی فارمولہ اپنا لیا جائے تاکہ تنازعہ پیدا ہونے کا امکان ہی نہ رہے۔

Related Articles

Back to top button