عمران خان کے اپنے 4 مقصود چپڑاسی بھی سامنے آگئے


اس کو مکافات عمل کہیں، کرما کہیں یا جیسی کرنی ویسی بھرنی کہہ لیں، لیکن حقیت یہ ہے کہ عمران خان کے لیے اپنا تھوکا خود چاٹنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ شہباز شریف کو مقصود چپڑاسی کا طعنہ دینے والے کپتان کے اپنے چار عدد مقصود چپڑاسی سامنے آ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جب عمران خان دور حکومت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف رمضان شوگر ملز کے حوالے سے ٹی ٹیز کا کیس بنایا گیا تو کپتان کی جانب سے صبح و شام عوام کو بتایا جاتا تھا کہ کس طرح شریف برادران نے چند ہزار روپے تنخواہ لینے والے مقصود چپڑاسی کے اکائونٹس کے ذریعے کروڑوں روپوں کی منی لانڈرنگ کی اور باہر سے پیسے اس کے اکائونٹس میں منتقل ہوتے رہے۔ شریف خاندان کے ملازم مقصود چپڑاسی کا پچھلے دنوں دبئی میں ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا تھا۔ لیکن اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سنائے گئے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں عمران خان کے ایک نہیں بلکہ چار مقصود چپراسی بے نقاب ہو گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے دیئے گئے فیصلے میں پی ٹی آئی کے اپنے چار ملازمین کے ذریعے باہر سے کروڑوں روپے وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان ملازمین کے نام پر چھ اکائونٹس کھولے گئے اور ان اکائونٹس میں ایک کروڑ روپے سے زائد رقم ڈالی اور نکالی گئی۔ پی ٹی آئی کے ان چار ملازمین میں طاہر اقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق شامل ہیں۔ ارشد اور رفیق کے نام پر دو دو جبکہ طاہر اقبال اور نعمان کے نام پر تحریک انصاف کا ایک ایک اکائونٹ کھولا گیا۔

عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف نے سب سے پہلے بے نامی اکائونٹس کے لیے اپنے ہی سیکرٹریٹ کے ملازم طاہر اقبال کا نام استعمال کیا اور بینک اسلامی میں ایک اکائونٹ کھولا۔ اس اکائونٹ میں 47 لاکھ روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ اس ملازم کی ماہانہ تنخواہ صرف 38 ہزار روپے تھی لیکن اس کے اکائونٹ میں 47 لاکھ روپے آنے پر الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کے کان کھڑے ہوئے۔ جب مزید تفتیش کی گئی تو بے نامی اکائونٹس کی تفصیل سامنے آ گئی۔ اس کے بعد محمد رفیق کے نام پر دو بینک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ ایک اکائونٹ بینک اسلامی جبکہ دوسرا اکائونٹ حبیب بینک میں کھولا گیا۔ رفیق کی ماہانہ تنخواہ پی ٹی آئی نے صرف 23 ہزار روپے مقرر کر رکھی تھی لیکن اس کے بینک اسلامی والے اکائونٹ میں 47 لاکھ روپے جبکہ حبیب بینک کے اکائونٹ میں 34 لاکھ روپے بیرون ملک سے پاکستان لائے گئے۔ پی ٹی آئی نے اپنے جس تیسرے ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا اس کا نام نعمان افضل ہے۔ اس کے بینک اسلامی کے اکائونٹ میں آٹھ لاکھ روپے کی رقم ڈالی اور نکالی گئی۔ نعمان کی ماہانہ تنخواہ صرف 35 ہزار روپے تھی۔ پی ٹی آئی کے جس چوتھے ملازم کا شناختی کارڈ بینک اکائونٹ کھلوانے کے لیے استعمال کیا گیا اس کا نام محمد ارشد تھا جس کے نام پر بینک اسلامی میں پہلا اکائونٹ کھولا گیا جبکہ دوسرا اکائونٹ حبیب بنک میں کھولا گیا۔ ارشد کے بینک اسلامی والے اکائونٹ میں آٹھ لاکھ چالیس ہزار روپے جبکہ حبیب بینک والے اکائونٹ میں چھ لاکھ تیس ہزار روپے فارن فنڈنگ کے ڈالے گئے اور انہیں پاکستان میں کیش کروایا گیا۔

یوں تحریک انصاف کے ان چار مقصود چپڑاسیوں کو بیرون ملک سے غیرقانونی ایک کروڑ چالیس لاکھ روپے سے زائد رقم منگوانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ قانونی ماہرین ان چار ملازمین کے نام پر منگوائے گئے پیسوں کو آف شور یا بے نامی اکائونٹ کہہ رہے ہیں۔ یہ ایسا ہی کیس ہے جیسا شہباز اور حمزہ کے خلاف مقصود چپڑاسی کے اکائونٹس استعمال کرنے کا ہے یا پیپلزپارٹی کے فالودے اور پاپڑ والے کے نام پر جعلی اکائونٹس سے منی لانڈرنگ کرنے کا ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فارن فنڈنگ کاالزام ایک طرف، لیکن اگر ان چار پی ٹی آئی ملازمین کو ہی شامل تفتیش کر کے تحقیقات کی جائیں تو کپتان کی جماعت کے بہت سے غیر قانونی دھندے سامنے آسکتے ہیں جن کا مجرم عمران خان کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اگر یہ ملازمین عمران خان اور پارٹی کے دوسرے عہدیداروں کے خلاف سلطانی گواہ بن جائیں تو خان کی اس کیس میں سزا اور نااہلی یقینی ہے کیونکہ کسی بے نامی اکائونٹ کو استعمال کرتے ہوئے پیسہ منتقل کرنا منی لانڈرنگ ہے اور اس جرم کی سزا صرف نااہلی ہی نہیں بلکہ قید اور جرمانہ بھی ہے۔

ذرائع یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان ملازمین کے اکائونٹس کو استعمال کرنا کوئی بھول چوک یا لاعلمی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا تاکہ باہر سے آنے والے پیسوں کوخفیہ رکھا جاسکے اور چھوٹے ملازمین کو استعمال کرکے غیر قانونی کام آسانی سے کیا جاسکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے فنڈز کا حساب رکھنے والے مرکزی پارٹی عہدے داروں میں اسد قیصر، عارف علوی اور عمران اسماعیل نمایاں ہیں جنہوں نے اپنے اکائونٹس اس گندے دھندے کے لیے اس لیے استعمال نہیں کیے کہ الیکشن لڑتے وقت ان کو اپنے اثاثے اور اکائونٹس ڈکلیر کرنے پڑتے ہیں اور وہاں یہ راز کھلنے کا ڈر تھا اس لیے چار مقصود چپڑاسیوں کے ناموں پر بینک اکائونٹس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔

Related Articles

Back to top button