عمران ریاض کی گرفتاری سے حکومت کو فائدہ ہو گا یا نقصان؟


سوشل میڈیا پر متنازع اینکر پرسن عمران ریاض خان کی حسب روایت بغاوت کے الزام میں گرفتاری کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر عمران خان دور میں صحافیوں کی گرفتاریاں غلط تھیں تو شہباز شریف دور میں بھی ایسا کرنا غلط ہے۔ عمران ریاض کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر نے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ بغاوت اور غداری کے نو آبادیاتی قانون کو ہمیشہ اختلاف رائے دبانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس بدنام زمانہ قانون کے تحت عمران خان دور کے حکومت میں ہونے والی صحافیوں کی گرفتاریوں کی بھی ہم نے ہمیشہ مذمت کی اوراس قانون کے تحت شہباز شریف کے دور حکومت میں بھی عمران ریاض خان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔

یاد رہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید کے الزام میں غداری اور بغاوت کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے عمران ریاض خان ماضی میں حامد میر پر بھی غداری کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ عمران ریاض خان کو 5 جولائی کی رات اسلام آباد جاتے ہوئے اٹک میں درج بغاوت کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عمران ریاض خان کے وکیل میاں علی اشفاق نے بتایا یے کہ عمران کو اٹک میں درج یونے والے بغاوت کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران ریاض کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی تھیں لہذا اب پولیس کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ میاں علی اشفاق نے بتایا کہ عمران ریاض خان کے خلاف پنجاب بھر میں 17 بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

عمران ریاض خان کے وکلا کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئی جی پنجاب، آئی جی اسلام آباد اور ڈی سی اسلام آباد نے توہین عدالت کی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ توہین عدالت کرنے والے افسران کو طلب کرکے کاروائی کرے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمران ریاض کی فوری رہائی کا حکم دے۔ درخواست میں آئی جی اسلام آباد ، آئی جی پنجاب اور ڈی سی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائی نے عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روکا تھا، لیکن ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران ریاض خان کی گرفتاری پر دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کی جانب سے مجاز افسر کو 6 جولائی کی صبح دس بجے عدالت طلب کیا اور وضاحت مانگی کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کیوں ہوئی؟ یہ احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیے تھے۔ لیکن کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے قرار دیا کہ عمران ریاض کی گرفتاری انکے دائرہ کار کی حدود سے باہر ہوئی ہے لہذا وہ اس پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ رات کو رپورٹ آئی کہ عمران ریاض کو پنجاب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ عمران ریاض کے وکیل نے کہا کہ اینکر پرسن نے مجھے فون پر بتایا تھا کہ وہ اسلام آباد ٹول پلازہ پر ہیں، ان کی گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی ہے۔ وکیل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پولیس نے 17 مقدمات درج ہونے کی رپورٹ دی، لیکن عدالت کو رات کی ایف آئی آر بارے نہیں بتایا گیا تھا، یہ چھپائی گئی، میں نے لاہور ہائی کورٹ میں الگ سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہر عدالت کا اپنا دائرہ اختیار ہے لہٰذا میرے خیال میں لاہور ہائی کورٹ اس معاملے کو دیکھ سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ عمران ریاض کی گرفتاری اٹک کی حدود میں میں ہوئی جو کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا، یہ عدالت پنجاب کی تفتیش تو نہیں کر سکتی۔

عمران ریاض کے وکیل نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت نے ان کے موکل کو گرفتار نہ کرنے کے واضح احکامات دیے تھے جن کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ لیکن جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس عدالت نے اسلام آباد سے گرفتاری کی بات کی تھی لیکن یہ گرفتاری ہمارے دائرہ اختیار کے باہر سے ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس نے عمران ریاض خان کی گرفتاری نہیں کی، گرفتاری پنجاب پولیس نے کی ہے، اس لیے ہم اس کیس میں کوئی آبزرویشن نہیں دے رہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ قرار دے کہ اسلام آباد سے گرفتاری ہوئی ہے تو آپ وہ آرڈر اس عدالت کے سامنے لے آئے گا۔ وکیل نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کہہ رہی ہے گرفتاری پنجاب سے ہوئی جبکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ گرفتاری اسلام آباد کی حدود سے ہوئی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آپ کے انٹرسٹ میں ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ اسکے بعد انہوں نے درخواست نمٹا دی۔

واضح رہے کہ عمران ریاض کے خلاف ریاستی اداروں کی تضحیک کے الزام میں چار مختلف شہریوں کی شکایات پر عمران ریاض کے خلاف گوجرہ میں ایک، مظفر گڑھ میں ایک اور جھنگ میں دو مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔شکایات میں کہا گیا تھا کہ اینکر کا یہ عمل ایک بڑا جرم اور آئین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ اس سے پاکستانی عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ یکساں متن پر مشتمل ایف آئی آرز جھنگ کی کوتوالی پولیس نے اقبال نگر محلہ کے سہیل اقبال کی شکایت پر، جھنگ کی صدر پولیس نے صوفی موڑ کے خالد محمود ملک کی شکایت پر اور گوجرہ صدر پولیس نے محبوب علی خان کی شکایت پر درج کی تھیں۔ اسکے علاوہ میجر ذکاالحق شہید کے بھائی ایڈووکیٹ ریاض الحق نے بھی فوج کے خلاف بولنے پر عمران ریاض کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109، 501-سی1، 503 اور 505 کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔ جس کیس میں عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا ہے وہ اینٹی الیکٹرانک کرائم ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا، شکایت میں کہا گیا کہ عمران ریاض خان کے بے بنیاد الزامات سے فوج کی ساکھ خراب ہوئی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی عمران ریاض خان سمیت چند صحافیوں کے خلاف ریاستی اداروں پر تنقید کرنے اور بغاوت پر اکسانے کے الزام میں مقدمات درج کر لیے گئے تھے۔ عمران ریاض کے خلاف ایک ایف آئی آر ٹھٹہ کے دھابیجی تھانے میں بغاوت پر اکسانے، فساد پر اکسانے، دہشت گردی اور فساد کو ہوا دینے کے الزامات پر درج کی گئی تھیں۔ دوسری جانب وزیرِ قانون پنجاب ملک احمد خان نے بتایا کہ عمران ریاض کو ضلع اٹک، راولپنڈی ڈویژن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران ریاض پر پنجاب میں مقدمات درج ہیں، لہذا انہیں پنجاب کی حدود میں سے ہی گرفتار کیا گیا ہے، اور یہ تاثر غلط ہے کہ انکی گرفتاری اسلام آباد سے عمل میں آئی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا شہباز گل کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے عمران ریاض خان سے اظہار یکجہتی کے لیے کل ملک گیر احتجاج کریں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل اسد عمر نے بھی عمران ریاض خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائے کے اظہار کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، گرفتاری سے نہیں۔ تاہم یہ بیان داغتے ہوئے دونوں بھول گئے کہ انکے اپنے دور اقتدار میں بھی ریاست اور حکومت کے ناقد درجنوں صحافیوں کو اسی طرح گرفتار کیا جاتا تھا اور اس روایت نے انکے اپنے دور حکومت میں فروغ پایا جب جب صحافیوں کو گولیاں بھی ماری گئیں اور اغوا بھی کیا گیا۔

آے آر وائی سے وابستہ اینکر پرسن اقرار الحسن نے بھی ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ عمران ریاض خان کے اندازِ صحافت سے بہت سے اختلافات کے باوجود میں اُنکے آزادی اظہار کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ عمران ریاض کو فوری رہا کیا جانا چاہئیے کیونکہ اپنی مرضی کی بات کہنے کی پاداش میں کسی بھی صحافی کا پابندِ سلاسل کیا جانا قابلِ مذمت ہے۔صحافی امیر عباس نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیں ہر عروج کو زوال ہوتا ہے، اللّہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری ریاست تو پہلے ہی کئی معاملات میں بے شرمی کی انتہا تک پہنچ چکی تھی لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی ریاست اتنی ڈھٹائی، بے حیائی، اور بے شرمی سے اور ننگی ہو کر بھی سامنے کھڑی ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button