عمران نے آرمی چیف اور ڈی جی ISI کے فون نمبرر کیوں بلاک کیے؟


ایک جانب سابق وزیراعظم عمران خان ملک میں فوری نئے الیکشن کروانے کے لئے فوج پر دباؤ بڑھا رہے ہیں تاکہ وہ شہباز حکومت کو ایسا کرنے پر مجبور کر سکے جبکہ دوسری جانب ایسی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے ناراض یر کر انکے فون نمبرز بلاک کر دیے ہیں۔
ان افواہوں کی تصدیق کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ انکو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغامات آرہےہیں لیکن وہ اب کسی سے بات نہیں کررہے، انکا کہنا تھا کہ میں نے ان کے لوگوں کے نمبرز بلاک کر دئیے ہیں، جب تک الیکشن کااعلان نہیں ہوتا، تب تک کسی سے بات نہیں ہو گی۔ صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھاکہ شہباز شریف کے علاوہ بھی پاکستان میں کئی میر جعفر اور میر صادق موجود ہیں جنہوں نے میری حکومت گرانے کی سازش میں پورا حصہ ڈالا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ ان کرداروں کے نام لیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ابھی ان کرداروں کے نام لینے کا وقت نہیں آیا، وقت آنے پر ان کرداروں کے نام لوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ’نیوٹرلز‘ کوبتایا تھا کہ ہماری معیشت مشکل سے مستحکم ہوئی ہے، شوکت ترین نے بھی ان کوسمجھایا تھا کہ سیاسی عدم استحکام معیشت کیلئے نقصان دہ ہے، جو میرے خلاف سازش کا حصہ بنے، میں ان سے سوال کرتا ہوں، کیا سازشوں کا ساتھ دینے والوں کو پاکستان کی فکر نہیں تھی؟ کیا پاکستان کا مستقبل سازش میں شریک لوگوں کی ترجیحات میں نہیں تھا؟ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو انکی جگہ اقتدسر میں لایا گیا، اس سے بہتر تھا پاکستان پرا یٹم بم گرا کر اسے تباہ کر دیا جاتا، جو کرمنلز اقتدار میں لائے گئے، انہوں نے ہر ادارہ اور جوڈیشل سسٹم تباہ کردیا ہے، ایسے میں اب کون سا حکومتی آفیشل ان مجرموں کے کیسزکی تحقیقات کرے گا؟
عمران خان کا کہنا تھاکہ میں سمجھتا تھا کرپشن بااثر شخصیات کیلئے بھی ایشو ہے، میں سمجھتا تھا کہ کرپشن پر ہمارا نظریہ ایک ہے لیکن کرپشن اہم شخصیات کیلئے مسئلہ ہی نہیں تھا، میں صدمے میں ہوں کہ یہ لوگ چوروں کو اقتدار میں لائے، مجھے بارہا کہا گیا آپ کرپشن کیسز کے پیچھے نہ پڑیں، مجھے کہا جاتا تھا کہ کارکردگی پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ سازش کرنے والوں نے غلط اندازہ لگایا، انھیں نہیں پتہ تھا مجھے ہٹانے پر اتنےعوام سڑکوں پرنکل آئیں گے۔ اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کے حوالے سے سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ میرے آخری دن تک اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اچھے رہے، لیکن دو معاملات پر اس سے عدم اتفاق رہا، مقتدر حلقے چاہتے تھے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ سے ہٹاؤں، انھیں بتایا سندھ میں گورننس اور کرپشن کے حالات بدتر ہیں، عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو لگاتا تو پارٹی میں دھڑے بندی ہو جاتی۔
ان کا کہنا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ سے دوسرا ایشو جنرل فیض کے معاملے پر تھا، میں چاہتا تھا کہ جنرل فیض سردیوں تک ڈی جی آئی ایس آئی رہیں، انہیں برقرار رکھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض کو داخلی سیاسی صورتحال کیلئے بھی برقرار رکھنا چاہتا تھا، مجھے اپوزیشن کی سازش کا جون سے پتہ تھا، ہمیشہ ایسے فیصلے ہوتے رہے کہ میری حکومت کمزور رہے۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھاکہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو آرمی چیف بنانے کا سوچا ہی نہیں تھا۔ان کا کہنا تھاکہ ن لیگ کے 30 ایم پی ایز فارورڈ بلاک بنانا چاہتے تھے، اگر فارورڈ بلاک بن جاتا تو ن لیگ کی سیاست ختم ہو جاتی لیکن ان ایم پی ایز کو طاقتور حلقوں نے پیغام دیا جہاں ہیں، وہیں رہیں، 8، 10لوگوں کو کرپشن میں سزا ہونی چاہئے تھی لیکن ایسا ہونے نہیں دیا گیا۔
اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے عمران خان کا مزید کہنا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ سے پیغامات آرہےہیں لیکن میں کسی سےبات نہیں کررہا، میں نے ان لوگوں کے نمبر بلاک کر دیے ہیں، جب تک الیکشن کااعلان نہیں ہوتا،تب تک کسی سےبات نہیں ہو گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ میں یوکرین معاملے پر ووٹنگ میں حصہ نہ لینا درست فیصلہ تھا۔
اسلام آباد مارچ سے متعلق ان کا کہنا تھاکہ اسلام آباد مارچ کیلئے تیاری شروع کر دی ہے، جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں تو بہت سے آپشن کھل جاتے ہیں۔ خیال رہے کہ قبل ازیں اپنے بیان میں عمران خان کا کہنا تھاکہ نیوٹرلز‘ کو خبردار کر دیا تھا کہ اگر سازش کامیاب ہوئی تو معاشی بحالی ڈوب جائے گی۔

Related Articles

Back to top button