عمران نے سیاست کو کفر اور اسلام کی جنگ کیوں بنا دیا؟

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور کئی کتابوں کے مصنف حسین حقانی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنے حامیوں کو سیاسی مخالفین سے ایسے لڑنے کی ترغیب دی ہے جیسے اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کافروں سے لڑا کرتے تھے۔ اس رویے کی ایک حالیہ مثال اپریل میں سعودی عرب میں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام مسجد نبوی میں عمرہ ادائیگی کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کا اراکین کے ساتھ بدسلوکی کا واقعہ ہے۔ حسین حقانی نے ان خیالات کا اظہار معروف امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین میں کیا یے۔ ان کی اس تحریر کا ترجمہ امریکہ میں مقیم معروف صحافی آفاق فاروقی نے کیا ہے۔
حسین حقانی لکھتے ہیں کہ کئی سالوں کے پروپیگنڈے نے پاکستانیوں کو ملکی حالات کے بارے میں اصل حقائق کی بجائے غیر حقیقی بیانیے پر یقین کرنا سکھا دیا ہے۔ جب سے عمران خان کا اقتدار ختم ہوا ہے وہ مسلسل سڑکوں پر ہین اور احتجاج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ دوسری جانب عوام عمران خان کے حامیوں اوران کے مخالفین کے درمیان، اسلام پسندوں اور مغربی جمہوریت کے حامیوں کے درمیان اور فوج کے حامیوں اور اسکے مخالفین کے درمیان بٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے مخالفین انھیں ایک خطرناک پاپولسٹ کہتے ہیں جو کہ جہوری اصولوں پر چلنے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف خان کے حامی انہیں ایک کرپشن مخالف مسیحا کے طور پر دیکھتے ہیں۔
حسین حقانی کے بقول عمران خان نے اپنے سپورٹرز کو اپنے مخالفین سے ایسے لڑنے کی ترغیب دی ہے جیسے اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان کافروں سے لڑا کرتے تھے۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران خان ایسی ہی جنگ لڑنے کے موڈ میں ہیں لیکن اب فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد حالات عمران خان کیلئے بھی کچھ زیادہ سازگار نہیں رہے۔ حقانی کا کہنا ہے کہ خان کے فالورز کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے امریکہ اور مغرب کی پاکستان میں دلچسپی باقی نہیں رہی، عمران کے حامی اس جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں جو ان کا لیڈر ان سے بولتا ہے، جیسے پاکستان کو روس کے ساتھ قریبی تعلقات بنانے سے فائدہ ہوگا، یا یہ کہ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ کے اتحاد سے پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ ہے۔ حقانی لکھتے ہیں کہ پاکستان میں عمران خان کے بیانے کی کامیابی اور مقبولیت کی وجہ وہ گھسا پٹا قومی بیانیہ ہے جو کئی دہائیوں سے پاکستانیوں کے ذہنوں میں سویلین اور فوجی حکومتیں انڈیلتی آ رہی ہیں۔ پاکستانیوں کو عموماً اس تائثر سے بے خبر رکھا جاتا ہے کہ ان کا ملک عالمی سطح پر نا صرف دہشت گروں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر جانا جاتا ہے بلکہ اس وجہ سے اسے عالمی تنہائی کا بھی سامنا ہے۔
ذیادہ افسوس کی بات یہ یے کہ پاکستانی میڈیا صرف سیاسی بدعنوانی کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتا ہے، نہ کہ ملک کی کم شرح خواندگی، ٹیکسوں کی عدم ادائیگی، تعلیم کا خراب معیار، کم زرعی یا صنعتی پیداوار، اور بیرونی امداد اور قرضوں پر ملک کے انحصار کو۔
حسین حقانی کے بقول عوام کو پاکستان کے بارے میں ہمیشہ سے یہی جھوٹ پڑھایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان ایک خاص ملک ہے جسے خدا نے قدرتی دولت سے نوازا ہے لیکن اس کی معاشی بدحالی کی وجہ دراصل بد عنوان سیاستدان ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں عقائد کے اس نظام کا دوسرا عنصر جو عمران خان کے بیانیے کو مضبوط کرتا ہے وہ غیر ملکی تعلقات بارے ہے۔ پاکستانی رہنما طویل عرصے سے عوام کو بتا رہے ہیں کہ ملک کو بین الاقوامی سازشوں کا سامنا ہے۔
بھارت پاکستان کا مستقل دشمن ہے، اسرائیل اور امریکہ پاکستان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ یہ دنیا کا واحد ایٹمی ہتھیاروں سے لیس مسلم ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کو غیر روایتی جنگ یعنی جہادی عسکریت پسندی کے زریعے سے خود کو بیرونی سازشوں سے بچانا چاہئے۔ پاکستان کے بیانیے کی گہرائی کا اندازہ اس فیصلے سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے جون 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے ماسٹر مائینڈ ساجد میر کو حال ہی میں گرفتار کر لینے کے باوجود اس خبر کو پبلک نہیں کیا تھا، برسوں تک پاکستانی حکام ساجد میر کے وجود سے ہی انکار کرتے رہے اور ہھر یہ کہا گیا کہ اگر ایسا کوئی شخص تھا بھی تو اب وہ مر چکا ہے، ساجد میر کے خلاف پاکستان کے اس فوری اقدام کی بینادی وجہ دراصل دہشت گردی کیلئے مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو پورا کرنا تھا۔ یاد رہے کہ پاکستان 2018 سے ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ پر ہے، اور ساجد میر کے خلاف کارروائی پاکستان کو اس لسٹ سے نکالنے کیلئے ضروری تھی۔ لہٰذا جب پاکستان نے معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایف اے ٹی ایف کی یہ شرط پوری کردی تو حکام نے جہادیوں کے ردعمل کے خوف سے ساجد میر کی گرفتاری کا اعلان نہ کرنے کا انتخاب کیا۔
حسین حقانی لکھتے ہیں کہ پاکستانی عوام برسوں سے دہشت گردوں کے بارے میں ملے جلے جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں، پاکستان کے اندرونی مباحثوں میں دہشت گردوں کو بھارت کے خلاف جہاد کرنے والے آزادی کے جنگجوﺅں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے کیلئے ہندوستان سے آزادی چاہتے ہیں۔ انھوں نے لکھا کہ پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے کھلے عام یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے کشمیر کے عسکریت پسندوں کو تربیت دی، اور جنھیں باقی دنیا دہشت گرد سمجھتی ہے وہ پاکستان کے ہیرو ہیں۔
عمران خان القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے کے علاوہ افغانستان میں طالبان کی فتح کو غلامی کا طوق توڑنے کے مترادف قرار دے کر دنیا کو حیران کر چکے ہیں، وہ یہ بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی حکام جہادی عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی صرف مغرب کو خوش کرنے کیلئے کرتے ہیں، لیکن وہ غیر ملکی قابضین کو نکالنے کیلئے لڑنے والے گروہوں کے شہری آبادیوں پر حملوں پر تنقید کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اپنی تحریر کے آخر میں حسین حقانی کہتے ہیں کہ شاید عمران کے سیاسی مخالفین انھیں اگلے الیکشن میں جیتنے یا اقتدار میں واپس آنے سے روک لیں، لیکن وہ برسوں کے اس پروپیگنڈے کو ختم نہیں کر سکتے جس نے نا صرف پاکستانیوں کو سازشی نظریات کا عادی بنا دیا ہے بلکہ انھیں اپنے ملک کو درپیش اصل مسائل سے بھی بے خبر رکھا ہوا ہے۔

Related Articles

Back to top button