عمران نے شیروں کی فوج کے لیڈر کو گیدڑ کیوں قرار دیا؟


اپنی تازہ تقریر میں عمران خان نے شیروں کی فوج کے لیڈر کو گیدڑ قرار دے کر واضح کر دیا ہے کہ حال ہی میں جنرل قمر باجوہ اور سابق امریکی سفیر رابن رافیل سے ان کی خفیہ ملاقاتیں بے نتیجہ اور بے فیض ثابت ہوئی ہیں چنانچہ موصوف کے لیے طبل جنگ بجانا مجبوری بن گیا تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا عمران ایک اور لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں خصوصاً جب ان کا 25 مئی کا اسلام آباد لانگ مارچ بری طرح ناکام ہو گیا تھا؟ روزنامہ جنگ میں تازہ سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی اس وقت یہ کوشش ہے کہ وہ ڈوبتے ہوئے صنم کو بھی اپنے ساتھ ہی لے ڈوبیں۔ اس عمل میں پوری ریاست بھونچال کی زد میں ہے اور مملکت اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ سیاسی عدم استحکام معاشی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے اور بالآخر ریاست تباہ ہو جاتی ہے۔ 75 سالہ قومی سیاست کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1951 سے اب تک سیاسی عدم استحکام اورحکومتی اکھاڑ پچھاڑ میں ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ کے با صلاحیت اور حاضر سروس حضرات نے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ادارے کے ایما پر انواع و اقسام کے نظام اس احتیاط کیساتھ متعارف کرائے کہ رائج الوقت آئین کی پامالی مسلسل جاری رہی۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان سخت جان ثابت ہوا اور صاحب فراش ہو جانے کے باوجود زندہ اور تابندہ ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ آج تک منتخب ہونے والے ہمارے تمام وزرائے اعظم کو طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے زور زبردستی اقتدار سے علیحدہ کیا؟ لیکن عمران کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ خود اپنے کاندھوں پر بٹھا کر اقتدار میں لائی تھی لیکن خان صاحب کی پونے چار سالہ حکومتی کارکردگی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کاندھوں کا بوجھ بن گئی۔ عمران کو بنانے اور اقتدار میں لانے والوں نے خود تسلیم کیا کہ اسکا دورِ اقتدار نا اہلی، بد انتظامی، اور کرپشن کی بدترین مثال ثابت ہوا۔ نیازی کہتے ہیں کہ دس برس تک اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بنے رہنے کے بعد اب خان اپنے خالقوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال رہا ہے لہٰذا ہمارے اداروں کو بھی سبق سیکھنا چاہیے اور مزید تجربات سے باز آ جانا چاہئے۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کی اقتدار سے معزولی اگرچہ آئینی ذریعے سے ہوئی لیکن انکے جھوٹے امریکی سازش کے بیانیے نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے ساتھ مل کر انکی سیاست میں جان ڈال دی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران آج بھی اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف کرپشن کا جو بیانیہ لے کر نکلے ہوئے ہیں یہ دراصل 2014 کے دھرنے کے وقت ان کے خالقوں نے انہیں رٹوایا تھا اور پھر اسی کی بنیاد پر بعد ازاں سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کی حکومت بھی ختم کروائی گئی تھی تب ہماری اسٹیبلشمنٹ کا عزم عمران کو اقتدار تک پہنچانے کا تھا۔ اسی لیے میڈیا کو عمران کا اسیر بنا دیا گیا اور انکے جھوٹے بیانیے کو ابھارنے کے علاوہ نواز شریف اور آصف زرداری کی کردار کشی کی گئی۔ اس دوران عمران خان کی حامی اور مددگار عدالتوں نے اپنے’’ شاندار‘‘ فیصلوں سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے میں رتی بھر بخل نہ دکھایا۔اسی لیے آج ہمارا ملکی نظام سو فیصد جھوٹ پراستوار ہے۔ آج دو آتشہ، سوشل میڈیا عمرانی سیاست کی تدوین و آرائش کا جزو لازم بن چکا ہے اور موصوف اسی طاقت کے بل بوتے پر اپنے محسنوں اور خالقوں کو نگلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے علاوہ عمران خان نے اپنی چوری چکاری اور غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکتوں کو بے نقاب ہونے سے روکنے کے لیے جارحانہ رویہ اپنائے رکھا۔ موصوف نے اپنی بدزبانی سے فوج اور عدلیہ کے علاوہ الیکشن کمیشن پر بھی تابڑ توڑ حملے کیے تا کہ ان کی ساکھ مجروح کی جا سکے اور اپنے خلاف آنے والے ممکنہ فیصلوں کو روکا جا سکے۔ بنیادی مقصد یہ تھا کہ خان کے پنے تین سالہ اقتدار کے دوران ہونے والی مالی کرپشن اور بد عنوانیوں پر بات نہ ہو۔دوسری جانب 18پارٹیوں کا حکمران ٹولہ اقتدار حاصل کر کے 75 سال کی ناکامیاں اپنے کھاتے میں ڈال چکا ہے۔ عمران کا بیانیہ مؤثر ہونے کی بری وجہ بھی یہی ہے کہ ان کے سامنے کوئی دوسرا فریق میدان عمل میں ہے ہی نہیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ اندرونی خلفشار اور تصادم اور ٹکراؤ کے پاپولسٹ بیانیے نے عمران خان کی سیاست کو عروج دیا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ گول پوسٹ اور اہداف میں بار بار تبدیلی اور بیانیے کے تضادات نے عمران کی سیاست کا بال بھی بیکا نہیں کیا۔ عمران نے اقتدار سے نکلنے کے بعد امریکی سازش کا جو بیانیہ گھڑا تھا اب اس کا اختتام آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے پر ہوا ہے۔ موصوف نے احسان فراموشی کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اب اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ کو گیدڑ کا لقب دے دیا ہے جس کا بنیادی مقصد فوج کے ادارے کو زیر کرنا ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عملاً ایسا ہونا ممکن نہیں اور ریاست سے ٹکرانے والے کا بالآخر اپنا ہی نقصان ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button