عمران کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی ذمہ داری فوج کو مل گئی


سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پشاور جلسے میں اپنے کارکنان سے لانگ مارچ میں شرکت کا حلف لینے کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ شر پسندوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔ یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو پشاور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران نے پارٹی قائدین، عہدیداروں، تحصیل اور ولیج کونسل کے ممبران اور کارکنان سے حلف لیا تھا کہ جب وہ لانگ مارچ کا اعلان کریں گے تو ہر کوئی اس میں شریک ہوگا۔

دوسری جانب اس اعلان کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عمران خان نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال دی تو دارالحکومت میں فوج تعینات کر دی جائے گی جو خود ہی انصافیوں سے نمٹے گی۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے عمران کی 25 مئی کے لانگ مارچ کی کال بھی اس لیے ناکام ہو گئی تھی کہ رینجرز کے دستوں نے سپریم کورٹ سے جلسے کی اجازت ملنے کے بعد اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچنے کی کوشش کرنے والے تحریک انصاف کے مظاہرین کو بھاری آنسو گیس کی شیلنگ سے منتشر کر دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کی صورت میں فوجی دستے اسلام آباد تعینات کرنے کا فیصلہ سامنے آنے سے ایک روز پہلے فواد چودھری نے اعلان کیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ کے تمام انتظامات اور تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں۔ اسلام آباد میں فوجی دستے تعینات کرنے کا فیصلہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس کے دوران پی ٹی آئی کے ممکنہ مارچ سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمرانی لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد کی تمام اہم عمارتوں اور ریڈ زون میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی فوج کے حوالے کر دی جائے گی تاکہ پولیس اور مظاہرین ایکدوسرے کے آمنے سامنے نہ آئیں اور خالق اور مخلوق ایک دوسرے سے خود ہی نمٹیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی دستوں کو آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا جائے گا، آرٹیکل 245 کہتا ہے کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرے کے خلاف پاکستان کا دفاع کرے گی اور جب اسے کہا جائے تو وہ شہری انتظامیہ کی مدد کے لیے قانون کے مطابق عمل کرے گی۔ اس سے پہلے عمران خان نے ٹیکسلا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مرتبہ ان کا لانگ مارچ حکومت کو ’سرپرائز‘ دے گا، کیونکہ حکومت کو انکے پلان اور حکمت عملی کا کچھ علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مارچ کا مقصد حکومت کو قبل از وقت انتخابات کرانے پر مجبور کرنا ہے، سابق وزیر اعظم نے تاحال لانگ مارچ کی حتمی تاریخ نہیں دی حالانکہ 25 مئی کے ناکام لانگ مارچ کے بعد انہوں نے حکومت کو چھ روز کی ڈیڈ لائن دی تھی اور دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا تھا۔ تب سے اب تک عمران کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی کال پر اسلام آباد پہنچنے والے ’عوام کے سمندر‘ کو حکومت قابو نہیں کرسکے گی۔ تم سمندر تو کیا ابھی تک کوئی نالہ بھی نہیں نکل سکا۔

دوسری جانب عمران خان کے ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت نے فوجی دستوں کو تعینات کرنے کے علاوہ کیپٹل پولیس فورس، سندھ پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے 30 ہزار جوانوں کو بھی اسلام آباد طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے لانگ مارچ میں 15 سے 20 ہزار مظاہرین شریک ہوسکتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تحریک انصاف کو مالی مدد فراہم کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ احتجاج کے دوران اسلام آباد کی حدود میں اسلحہ رکھنے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کرنے والوں کی مدد کرنے والے ہر سرکاری ملازم کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

Related Articles

Back to top button