عمران نے 9 سیٹوں سے ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیوں کیا؟


2018 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 5 نشستوں پر الیکشن لڑ کر جیتنے والے عمران خان نے اب قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی 9 نشستوں پر ضمنی الیکشن میں خود ہی امیدوار بننے کا حیرت انگیز فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اپنا پچھلا ریکارڈ توڑ سکیں۔ ایسے میں اگر عمران واقعی الیکشن لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں تو آٹھ نشست سیٹوں پر دوبارہ سے ضمنی الیکشن ہو گا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ضمنی الیکشن سے پہلے الیکشن کمیشن میں کپتان کی نااہلی کے لیے دائر کردہ درخواستوں پر فیصلہ تو نہیں آ جاتا؟ خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کیس کی بنیاد پر عمران کی نااہلی کے لئے دو درخواستیں دائر ہو چکی ہیں جن پر سماعت 18 اور 23 اگست کو ہونی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کی خالی قرار دیی گئی تمام 9 سیٹوں پر خود الیکشن لڑنے کا اعلان ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے کی نیت سے کیا گیا ہے جس کا عمران کو بھرپور سیاسی فائدہ ہوگا اور حکومت کو نقصان ہوگا کیونکہ عمران کے مقابلے میں کسی بھی اور جماعت کے امیدوار کا جیتنا کافی مشکل ہو گا۔ عمران کے چیف آف سٹاف شہباز گِل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی جس بھی سیٹ سے استعفٰے منظور کیے جائیں گے وہاں خان صاحب خود امیدوار ہوں گے اور خود الیکشن لڑیں گے۔ مخالفین آ جائیں میدان میں، انہیں لگ پتہ جائے گا اب۔‘  

دوسری جانب تحریک انصاف نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک انصاف کے 11 ارکان کے استعفے منظور کرنے کے عمل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ ’عمران خان نے 9 نشستوں پر انتخابات لڑنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تاہم معاملہ عدالت میں ہونے کی وجہ سے امید ہے کہ ضمنی انتخابات پر حکم امتناعی جاری ہوجائے گا۔‘ لیکن اگر ایسا ہو گیا تو پاکستانی سیاست میں پہلا موقع ہوگا کہ کوئی پارٹی سربراہ تمام نشستوں پر خود میدان میں اترے ہوں۔ اس سے پہلے بھی کئی سیاستدان ایک سے زائد نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں لیکن، دو یا تین نشستوں پر، تاہم یہ ایک نئی صورتحال ہے جس میں 9 نشستوں پر ایک ہی امیدوار میدان میں ہوگا۔ پاکستانی قانون کسی درد کو ایک سے زائد نشستوں پر الیکشن لڑنے سے نہیں روکتا لہٰذا قانونی طور پر کوئی قدغن نہیں ہے، لیکن اگر حکومت چاہے تو قانون میں ترمیم کر کے ان کا راستہ روک سکتی ہے۔

لیکن اس بارے میں سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ عمران خان کا یہ فیصلہ ووٹرز کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے عمران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کل کو اگلے عام انتخابات میں خان صاحب تمام 272 حلقوں سے خود الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں لیکن اسکا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنی پارٹی کے دیگر لوگوں پر اعتبار نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ الیکشن ہار جائیں گے۔ ویسے بھی یہ ووٹرز کے ساتھ مذاق ہوگا کیونکہ اگر عمران خان 9 سیٹیں جیت بھی جائیں تو انہوں نے ان سے استعفی دینا ہے چونکہ انکا اصولی فیصلہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ دور میں پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ الیکشن میں قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں دو سے تین کروڑ روپے کے اخراجات آتے ہیں لہٰذا یہ قومی خزانے کا بھی ضیاع ہے اور ووٹرز کے ساتھ بھی مذاق ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے مطابق اس کے تمام منتخب اراکین نے اپنی مرضی سے اسمبلی کی نشستوں سے استعفے دیے ہیں مگر سب کی اسمبلی چھوڑنے کی آرزو ابھی پوری نہیں ہو سکی ہے۔ جن 11 اراکین کے نام سپیکر نے قرعہ نکالا ہے ان میں سے نو ارکان جنرل نشستوں پر منتخب ہوئے تھے جبکہ دو ارکان مخصوص نشستوں پر آئے تھے۔ عمران کے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے اعلان کے بعد تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن شیڈول معطل کرنے کے لئے ایک متفرق درخواست دائر کی ہے۔ فواد چوہدری کا موقف ہے کہ انکے تمام اراکین قومی اسمبلی استعفی دے چکے ہیں اور سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری انہیں منظور بھی کر چکے ہیں لہٰذا مرحلہ وار استعفے منظور کرنے کی بجائے ایک ہی مرتبہ تمام استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔فواد چوہدری کے مطابق یہ حکومت کی طرف سے ایک سیاسی چال ہے کہ صرف 11 سیٹوں سے استعفے قبول کر کے پی ٹی آئی کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جائے۔ تاہم ان کے مطابق عمران کی طرف سے تمام نشستوں سے خود انتخابات لڑنے کا فیصلہ حکومتی سیاسی چال کے جواب میں ’نہلے پہ دہلا‘ ہے۔

اس معاملے پر پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان نو نشستوں سے جیت جاتے ہیں تو پھر انھیں ممنوعہ فنڈنگ جیسی حالیہ پیش رفتوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق جیت کی صورت میں عمران اپنے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ہونے والی کارروائی کاونٹر کرنے کے لیے سیاسی فائدہ اٹھائیں گے۔ احمد بلال کے مطابق عوامی ردعمل اداروں پر اثر انداز ہوتا ہے، چاہے کوئی یہ کہتا رہے کہ وہ بیرونی حالات کا اثر قبول نہیں کرتا۔ ان کے مطابق عمران خان اگر جیت جاتے ہیں تو پھر وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ وہ عوام میں اب بھی مقبول ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان نے سنہ 2018 کے عام انتخابات میں پانچ نشستوں سے انتخاب میں حصہ لیا تھا اور پانچوں میں فتح اپنے نام کی تھی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے ان پانچ نشستوں سے جن امیدواروں کو شکست دی تھی ان میں این اے 131 لاہور سے خواجہ سعد رفیق، این اے 53 اسلام آباد سے شاہد خاقان عباسی، این اے 243 کراچی سے ایم کیو ایم کے سیّد علی رضا عابدی، این اے 95 میانوالی سے مسلم لیگ (ن) کے عبید اللہ خان، اور این اے 35 بنوں سے جمعیت علما اسلام (ف) کے اکرم خان درانی شامل تھے۔ یوں اگر عمران خان اس بار تمام 9 نشستوں پر کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنا ہی بنایا ہوا پرانا ریکارڈ توڑ ڈالیں گے۔

Related Articles

Back to top button