عمران کا اپنے آئی ایس آئی چیف سے اپنے آرمی چیف تک کا سفر


فوجی قیادت پر حملے تیز کرتے ہوئے اسے گیدڑ قرار دے دینے والے سابق وزیر اعظم عمران خان کو یاد رکھنا چاہئے کہ آرمی چیف لگانے کا اختیار آئینِ پاکستان کے تحت وزیرِ اعظم کو حاصل ہے نہ کہ ’مقبول ترین‘ لیڈر کو۔ ویسے بھی اگر خان صاحب اتنے ہی ’مقبول ترین‘ ہیں تو پھر وہ جنرل حمید گل، جنرل شجاع پاشا، جنرل ظہیر السلام اور جنرل فیض حمید کے سہاروں کے بغیر بھی سیاست کر سکتے ہیں، چنانچہ انہیں ہمت کرنی چاہئے اور جو بھی نیا آرمی چیف آ رہا ہے اسے آنے دیں۔ عمران نے پہلے بھی ’اپنے‘ ڈی جی آئی ایس آئی کے شوق میں حکومت ختم کروا لی تھی اور اب یہ خطرہ ہے کہ کہیں وہ ’اپنے‘ آرمی چیف کی خواہش میں کوئی بڑا نقصان نہ کروا لیں۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لئے اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ انسانی دماغ کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ یہ ہر شے کو اس کی ضد سے پہچانتا ہے، اب ایک نظر بساطِ سیاست پر ڈالیں تو ہو بہو یہی معاملہ نظر آئے گا، سفید اور سیاہ خانے، مادرِ ملت فاطمہ جناح اور ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاالحق، نواز شریف اور پرویز مشرف، ایک کو سمجھنے کے لیے دوسرے کی تفہیم ضروری ہے۔ اب اسی اصول کی روشنی میں عمران خان کو دیکھیے، وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی لیڈر اتنا مقبول نہیں رہا جتنا اس وقت میں ہوں، تو سوال یہ ہے کہ خان صاحب کس کے مقابلے میں مقبول تر ہیں؟ عمران کا سیاست میں تو ایک ہی حریف ہے، نواز شریف، اسے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سیاست سے باہر کر رکھا ہے، اس پر تو انتخاب لڑنے کی پابندی ہے، اسے تو اپنی پارٹی کا صدر بننے کی بھی اجازت نہیں ہے، حتیٰ کہ اس کی سیاسی وارث مریم نواز کو بھی الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے، تو پھر یہ کیسے طے کیا جائے کہ عمران خان اپنے سیاسی حریف سے مقبول تر ہیں؟ ایک حریف کے ہاتھ میں بندوق پکڑا کراور دوسرے کو نہتا کر کے ’ ریفری اعلان کر دے کہ میں ’نیوٹرل‘ ہوں تو کوئی نہیں مانے گا، ایسے میں نہ تو نیوٹرل کو کوئی نیوٹرل مانے گا اور نہ ہی مقبول ترین کو کوئی مقبول ترین تسلیم کرے گا۔

حماد غزنوی اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ادارے سیاست میں چھیڑ خانی سے صدقِ دل سے توبہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی پہلی شرط عمران خان کے اصل حریف پر سے پابندیاں ہٹانا ہے تاکہ’ مقبول ترین‘ کا فیصلہ کیا جا سکے۔ بے شک ہم ضد سے چیزوں کو پہچانتے ہیں۔ دوسری جانب اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ عمران انتہائی مقبول سیاسی راہ نما ہیں، لیکن ان کی مقبولیت کے سفرکا ایک معروضی جائزہ بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ اپنے دورِ اقتدار میں عمران ایک قطار میں، ایک کے بعد ایک، پندرہ الیکشن ہارے۔ اس سے عمران کے ’مقبول ترین‘کے دعوے کی عمر کا تعین کیا جا سکتا ہے، یعنی یہی کوئی 5 ماہ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ عمران حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کیے گئے اپنے ہی معاہدے کے نتیجے میں مہنگائی کا جو طوق شہباز حکومت کے گلے پڑا، اس نے عمران کو ’مقبول ترین‘ لیڈر بنا دیا۔

حماد غزنوی عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ کو ان سیاسی لیڈران کی تاریخ تو معلوم ہی ہو گی جو دہائیوں تک پاکستان کے مقبول ترین لیڈرز رہے اور پھر انہیں اس مقبولیت کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ یہ داستان پُر ملال ہے، اس کا ہر باب خوں چکاں ہے، مادرِ ملت فاطمہ جناح اور حسین شہید سہروردی سے لے کر شیخ مجیب الرحمٰن، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک، شہرِ عشق کے گرد مزار ہی مزار ہیں۔ ان لوگوں میں سے کوئی نصف صدی تک مقبول ترین رہا اور کوئی ربع صدی تک، کوئی جلاوطن ہوا، کوئی دار کی خشک ٹہنی پہ وارا گیا، اور کسی کو تو نا معلوم سنائپر شوٹر کی اندھی گولی چاٹ گئی۔ عمران خان کا حریف نواز شریف 1993 سے 2018 تک کبھی نیم شفاف الیکشن بھی نہیں ہارا، کبھی جیل، کبھی جلاوطنی اور کبھی نااہلی سے ریاست کے حکیم اس کی مقبولیت کا علاج کرتے رہے ہیں۔ نواز شریف پاکستانی تاریخ میں اپنی زندگی کے دوران طویل ترین عرصے تک ملک کے مقبول ترین راہ نما ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، آج تک ان کے نام پر پڑنے والے کل ووٹوں کی تعدادپاکستان کے ہر سیاست دان سے زیادہ ہے۔یہ حقائق ہیں، اناپ شناپ دعوے نہیں، آپ چاہیں تو سنجیدگی سے ان دعوئوں کو اعداد و شمار کی چھلنی سے گزار سکتے ہیں۔ تو کل ملا کر یہ بنے ہی پاکستان کے مقبول ترین سیاسی راہ نما کے سنگھاسن پر نواز شریف کے تیس سال۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اب ذرا پانچ ماہ سے مقبول ترین لیڈر کا درجہ حاصل کر لینے والے عمران خان کی جانب آ جاتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ بہت سے جمہوریت پسند دوستوں کو اس کاروانِ منزل شناس کے ساتھ ایک ہی سانس میں عمران خان کا ذکر کھَلے گا، کیوں کہ خان صاحب اعلانیہ طور پر ملکی سیاست کی غیر جمہوری رو سے جُڑے ہوئے ہیں، وہ اپنے جلسوں میں پاکستان کے پہلے آئین شکن کی ویڈیوز چلا کر ملک کے سنہری دور کو یاد کرتے ہیں، اُن کے منہ سے کبھی کسی نے آئین کا الف بھی نہیں سنا، انہوں نے کبھی بھول کر بھی یہ نہیں کہا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرے میں لوٹ جانا چاہیے، ان کی نظر میں نیوٹرل سے جانور اور پھر گیدڑ تک کا سفر طے کرنے والے جری جرنیل کی ذمہ داری فقط انہیں اقتدار میں رکھنا ہے، کیوں کہ وہ خود کو ’حق‘ کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ بہرحال، ان کا نام اس فہرست میں ان کے نظریات کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی ’پنج ماہی‘ مقبولیت کی وجہ سے شامل کیا جا رہا ہے۔ آخر میں عرض یہ ہے کہ آرمی چیف لگانے کا اختیار آئینِ پاکستان کے تحت وزیرِ اعظم کو حاصل ہے نہ کہ ’مقبول ترین‘ کو اور عمران خان کے لئے یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے ورنہ وہ ’اپنے‘ آرمی چیف کی خواہش میں اپنا کوئی بڑا نقصان بھی کروا سکتے ہیں۔

Related Articles

Back to top button