عمران کی آڈیو لیکس سے یوتھیوں کو فرق کیوں نہیں پڑے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ عمران خان کا مخالف دھڑا ان کی جتنی بھی آڈیو ٹیپس لیک کر دے اور ان میں بڑی سے بڑی سازش کا انکشاف بھی کر لے لیکن خان صاحب کے فالوورز کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ وجہ یہ ہے کہ تمام عمرانڈوز اور یوتھیے شدت سے قائل ہوچکے ہیں کہ امریکہ ہی نے عمران حکومت کو فارغ کرنے کی گیم بنائی تھی۔ ان کی دانست میں عمران خان دورِ حاضر کے ”مجاہد اسلام“ ہیں جو کہ بطور وزیر اعظم پاکستان کو غیر ملکی دباﺅ سے نکال کر خود مختار وتوانا بنانے کی تگ ودو میں مصروف تھے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ جن ”ذہن سازوں“ کو ان دنوں ہماری ریاست کے اصل مالکان تک رسائی میسر ہے وہ اپنے یوٹیوب چینلز کے ذریعے دعویٰ کررہے تھے کہ جس ہیکر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی مختلف لوگوں سے ہوئی گفتگو کو لیک کیا تھا وہ ہماری سکیورٹی کے رکھوالوں کے قابو آچکا ہے۔ یہ ”خبر“ دینے کے بعد امید یہ بھی دلائی کہ مزید لیکس کا سلسلہ ہیکر گرفتاری کے بعد رک جائے گا۔ یوں ”فکر ناٹ“ والا ماحول بنانے کی کوشش ہوئی۔ لیکن ہیکر ابھی تک آزاد ہے اور پاکستانی سکیورٹی ادارے اس کا سراغ لگانے میں ناکام ہین۔ اس دوران عمران خان کے مخالف دھڑے نے جوابی واردات ڈالتے ہوئے انکی دو عدد آڈیوز لیک کر دی ہیں جن سے صاف پتا چلتا ہے کہ کپتان کا امریکی سازش کا بیانیہ حقائق پر مبنی نہیں تھا بلکہ اسے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے تراشا گیا تھا۔ لیک ہونے والی گفتگو میں مجاہد اسلام عمران خان امریکہ سے آنے والے سائفر سے ”کھیلنے“ کا ارادہ باندھتے سنائی دیتے ہیں۔ ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اس ضمن میں کلیدی سہولت کار کا کردار نبھانے کو دل وجان سے آمادہ محسوس ہوئے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان کی پہلی آڈیو لیک ہونے کے بعد شہباز شریف کی مختلف افراد سے ہوئی گفتگو کو لیک کرنے والا ہیکر پریشان ہوگیا اور اس نے جرنیل نمبر 13 کی آڈیو ریلیز کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔ یاد رہے کہ پاکستانی جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم 13ویں نمبر پر ہیں۔ شہباز حکومت کی آڈیوز لیک کرنے والے ہیکر کا دعویٰ تھا کہ وزیر اعظم ہاﺅس میں ہوئی گفتگو کی اسکے پاس سو سے زائد گھنٹوں کی ریکارڈنگز موجود ہیں جو وہ 30 ستمبر کو جاری کر دے گا۔ ان میں سے فقط چند”ٹوٹے“ اس نے منظر عام پر لانے کے بعد ”مزید“ کی تمنا بھڑکانے کی کوشش کی۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ موسلادھار بارش کی طرح برستی لیکس کے اس موسم کی بابت ذاتی طورپر میں قطعاََ لاتعلق محسوس کررہا ہوں۔ میرا اصرار یے کہ جس ہیکر نے شہباز شریف کی آڈیوز لیکس کی ہیں اس کے پاس ”سنسنی خیز“ مواد موجود نہیں ہے۔ ابھی تک جو لیکس منظر عام پر آئی ہیں ان کا ٹھنڈے دل سے اگر جائزہ لیں تو شہباز شریف ”اچھی حکومت“ کی بلکہ علامت سنائی دیتے ہیں۔ جو معاملہ ان کے روبرو رکھا جائے اس کی بابت اپنے ساتھیوں سے بھرپور مشاورت کے بھی طلب گارسنائی دیتے ہیں۔ ”سفارش“ چاہے ان کی بھتیجی یعنی مریم نواز کی جانب سے بھی آئے تو حکومتی قواعد وضوابط کے تحت ہی فیصلہ کرنے کا حکم صادر کرتے ہیں۔ میرا یہ دعویٰ کئی افراد کو ناراض کرسکتا ہے۔ لیکن میں سیاست اعر صحافت کا طالب علم ہوتے ہوئے یہ کہنے سے باز نہیں رہوں گا کہ عمران خان صاحب کی لیک ہونے والی گفتگو کا منظر عام پر آنا سابق وزیر اعظم کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ان کے دیرینہ حامی شدت سے اس امر پر قائل ہوچکے ہیں کہ امریکہ ہی نے عمران حکومت کو فارغ کرنے کی گیم لگائی تھی کیونکہ وہ پاکستان کو خودمختار بنانے کی تگ ودو میں مصروف تھے۔

عمران کے حمایتیوں کا موقف ہے کہ تیل کی عالمی منڈی میں نرخ طے کرنے والی اجارہ دار کمپنیاں امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک کی دفاعی اور خارجہ امور کے حوالے سے اپنائی ترجیحات کوبھی ذہن میں رکھتی ہیں۔ ان کی اجارہ داری کو جھٹکا لگانے کے لئے عمران فروری میں ماسکو گئے اور روسی صدر پوٹن کے ساتھ دوستی بڑھانے کی کاوشیں شروع کردیں۔ عمرانڈوز اور یوتھیوں کا موقف ہے کہ روسی صدر سے ملاقات کی وجہ سے عمران خان ”امریکہ کے کنٹرول“ سے باہر نکلتے نظر آئے تو روایتی سامراجی سازشوں سے کام لیتے ہوئے واشنگٹن میں بیٹھے شاطروں نے انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھجوا دیا۔ نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ امریکی سازش کے تحت ” ریجیم چینج“ کا تصور عمران خان کے ہر حامی کے دل ودماغ میں اب جبلت کی صورت بس چکا ہے۔ اس تصور کو ”جھوٹا“ ثابت کرنے والی آڈیو لیکس ان کی سوچ کسی صورت نہیں بدل پائیں گی، مختصراََ یوں کہہ لیں کہ ”سچ“وہی ہے جو آپ کے من کو بھائے۔ اسکے ثبوت کے لئے آپ کو ”لیکس“ کی ضرورت نہیں۔

Related Articles

Back to top button