عمران کی بیوی اورفرح انکی مرضی سے کرپشن کرتی تھیں


عمران خان کے سابق دست راست عون چوہدری نے اپنے سابقہ کپتان پر سنگین ترین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اور ان کی فرنٹ پرسن فرح گوگی خان صاحب کی رضامندی سے کرپشن کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کو بنی گالہ کے مکینوں کو خواب آتا تھا اور صبح نوٹوں سے بھرا ہوا بیگ گھر پہنچ جاتا تھا۔ جیو ٹی وی کے لیے سلیم صافی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عون چوہدری نے سوال کیا کہ پنجاب میں بزدار کے ہاتھوں کونسے ڈپٹی کمشنر، یا کمشنر، یا پرنسپل سیکرٹری کی پوسٹنگ پیسوں کے بغیر ہوئی؟ چیف انجینئر تک تو پیسے دے کر لگتے رہے۔ یہ تو ہوتا رہا ہے اس صوبے میں عمران خان کے وسیم اکرم پلس کے ہاتھوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کے خیال میں عمران ان سب کاموں سے لاعلم ہیں؟

عمران کی دوسری اور تیسری شادیوں میں بطور گواہ نکاح ناموں پر دستخط کرنے والے عون نے کہا میں نے تحریکِ انصاف کے لئے بہت جدوجہد کی لیکن مجھے اس کا صلہ یہ ملا کہ جب فتح قریب آئی تو مجھے دور کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمران کے وزیر اعظم کا حلف لینے کے دن مجھے فون آیا کہ ایک خواب دیکھا گیا ہے جس کے مطابق میرا عمران کی تقریبِ حلف برداری میں جانا ٹھیک نہیں ہو گا اسلئے آنے کی ضرورت نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ہماری وفاداریوں کے فیصلے ایسے خوابوں کی بنیاد پر ہی ہونے ہیں تو ہم ان فیصلوں سے دور ہی اچھے۔ جب عون سے پوچھا گیا کہ یہ خواب کیا عمران کی اہلیہ نے دیکھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ ہی ہے کہ بنی گالہ میں خواب کون دیکھتا ہے اور ان کی بنیاد پر فیصلے کون کرتا ہے۔

جب پوچھا گیا کہ بشریٰ بی بی نے انہیں عمران سے دور کیوں کیا؟ تو عون کا کہنا تھا کہ ایسا اس لئے کیا گیا کہ وہ عمران خان کے وفادار تھے۔ اگر میں نے کچھ غلط کیا ہوتا تو عمران تین سیکنڈ بھی بات اپنے پیٹ میں نہ رکھتے اور چارج شیٹ کر دیتے۔ لیکن مجھے اللہ نے بچانا تھا۔ پاکستانیوں کے ساتھ تین سال سے زیادہ جو ظلم ہوا ہے، اللہ نے مجھے اس میں حصہ دار بننے سے محفوظ رکھا، شاید اس لئے یہ ہوا۔ عون چوہدری کے مطابق بشریٰ بی بی نے انہیں عمران سے دور اس لئے کیا کہ وہ ان کے منصوبوں میں رکاوٹ تھے۔ بعد میں سب نے دیکھا کہ جو لوٹ گینگ آگے آیا اور جس نے پاکستان اور پنجاب کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا، اس میں کون لوگ شامل تھے؟ عون کا کہنا تھا کہ اس گینگ میں خاتون اول، ان کی دوست فرح گوگی، احسن جمیل گجر اور عثمان بزدار شامل تھے۔ ان سب نے مل جل کر لوٹ مار کی اور اربوں روپیہ کمایا۔ میں نے عمران خان کو ون آن ون میٹنگ میں کہا کہ آپ نے ایک نااہل آدمی کو آدھے پاکستان کا مالک بنا دیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے پنجاب کو عثمان بزدار نہیں، فرح گوگی اور احسن جمیل گجر چلاتے ہیں۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے ایک ہفتے کے اندر اندر پنجاب کابینہ سے علیحدہ کر دیا گیا۔ میں نے عمران سے کہا تھا کہ ہم نے جدوجہد اس لئے نہیں کی تھی کہ حکومت میں آ کر ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کی منڈیاں لگائیں اور مال بنائیں۔

جب پوچھا گیا کہ بشریٰ بی بی اور مانیکا خاندان کا لوٹ مار میں کیا کردار تھا، تو عون چوہدری نے کہا کہ میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن پنجاب میں زبان زدِ عام ہے کہ کس کے کہنے پر صوبے میں تقرریاں و تبادلے ہوتے تھے۔ رات کو خواب آتا تھا، اور دن کو بیگ آ جاتا تھا۔ اور اس کے فوری بعد فیصلہ ہو جاتا تھا۔ عون چوہدری کا کہنا تھا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ میں اس حکومت کا حصہ کیوں رہا۔ انکے بقول عمران نے ان سے کہا کہ میں تمہیں پنجاب میں ذمہ داری دے رہا ہوں اور تم وہاں میری آنکھیں اور میرے کان ہو گے۔ تم مجھے تمام حقیقت بتانا کہ پنجاب میں کیا ہو رہا ہے۔مانیکا خاندان کے کردار بارے گفتگو کرتے ہوئے عون نے کہا ایسا نہیں تھا کہ اس کی لوٹ مار اور کرپشن عمران کے علم میں نہیں تھی۔ ڈی پی او اور ڈی سی سے لیکر نیچے تک ہر ٹرانسفر اور پوسٹنگ مانیکا خاندان کی مرضی سے ہوتی تھی اور مال اوپر تک جاتا تھا۔ مانیکا خاندان نے تو ایسے حکمرانی کی جیسے ان کے باپ کو وزیر اعظم لگا دیا گیا ہے۔

سلیم صافی کے اس سوال پر کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے عمران خان کے نام پر بہت پیسہ بنایا، عون چوہدری نے کہا کہ آپ میرے بھی اثاثے چیک کروا لیں، فرح ‘گوگی’ کے بھی چیک کروا لیں اور عمران کے اثاثے بھی چیک کروا لیں۔ دیکھ لیں کس کے اثاثے پچھلے چار برسوں میں بڑھے ہیں اور کس کے کم ہوئے ہیں۔ الحمدللہ میں نے اس پارٹی پر پیسہ لگایا ہی ہوگا، جتنی بھی میری حیثیت تھی، لیکن پارٹی سے کبھی ایک پیسہ بھی نہیں لیا۔

عون چوہدری نے بتایا کہ عمران کو لوگ کان میں کہہ دیتے تھے کہ فلاں شخص غلط ہے لہٰذا اسے پارٹی سے نکال دو۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فواد چودھری ضمنی الیکشن ہارے تو انہوں نے کچھ ٹوئیٹس کر دیں، لوگوں نے آ کر عمران کو وہ ٹوئیٹس دکھائیں تو موصوف نے کہا کہ ابھی نوٹیفکیشن نکالو اور فواد چوہدری کو پارٹی سے نکال دو۔ بقول عون، میں حلفاً کہہ رہا ہوں، فواد زندہ ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں۔ میں نے جہانگیر ترین کو فون کیا اور کہا کہ فواد ایک اچھا سپوکس پرسن ہے، ہمیں اس کو نکال کر نقصان ہوگا۔ ترین نے اور میں نے عمران سے ملاقات کی، اور پھر فواد کو بلوا کر ملاقات کروائی۔ آج وہ پارٹی کے سپوکس پرسن ہیں۔ ہم نے پارٹی کے لئے دل و جان سے کام کیا تھا۔ اس لئے نہیں کہ ایک دن کوئی خواب آئے گا اور ہمیں پارٹی سے نکال دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر کرپشن کا الزام لگایا گیا، ٹکٹیں بیچنے کا الزام لگایا گیا۔ عمران کے سوشل میڈیا کے ہاتھوں تو کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ میں باتیں کھولنے پر آ گیا تو سوشل میڈیا والے تو آنکھیں اور کان بند کر کے گھر بیٹھ جائیں گے۔

عون چوہدری نے کپتان کے وسیم اکرم پلس کی جہالت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ عثمان بزدار نے ایک اجلاس میں گھنٹے کی پریذنٹیشن کے بعد پوچھا کہ نیسلے اور نیسپاک میں فرق کیا ہوتا ہے۔ یہ میں آپ کو حلفاً بتا رہا ہوں۔ میں نے ان سے کہا آپ نے ایک گھنٹے کی پریذنٹیشن ضائع کروا دی، آپ پہلے ہی یہ پوچھ لیتے۔ انکا کہنا تھا کہ عمران نے آدھے پاکستان پر ایک ایسا شخص وزیر اعلیٰ بنا کر لگایا جو ایک ڈمی تھا۔ اس شخص نے LDA میں وہ کام دکھائے کہ آپ کی سوچ ہوگی۔ عمران کے اس دعوے پر بات کرتے ہوئے کہ انہیں امریکہ نے اقتدار سے نکلوایا، عون چوہدری نے کہا میرے پاس ایسے ایسے قومی راز ہیں کہ میں بتا نہیں سکتا۔ اس ملک کے لئے خاموش رہوں گا، عمران حکومت کو تو گود میں بٹھا کر لوری دی گئی۔ عمران خودی کی بات کرتے ہیں تو وہ خود سے پوچھیں کہ انکی حکومت کس نے بنوائی۔ آپ میرا منہ کھلوائیں گے تو میں بتا دوں گا کہ کس کا مینڈیٹ کس کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

سلیم صافی نے عون چوہدری سے پوچھا کہ عمران ذاتی حیثیت میں تو دیانتدار ہیں کہ نہیں؟ اس پر عون نے کہا کہ جب میں عمران کو آ کر حلفاً کہوں کہ میں نے اپنی آنکھوں سے کرپشن ہوتے دیکھی ہے اور میں گواہ ہوں اس چیز کا لیکن وہ یہ سننے کے باوجود الٹا مجھے پیچھے پھینک دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ جان بوجھ کر لاعلم رہنا چاہتے تھے اور حقیقت نہیں سننا چاہتے تھے۔توشہ خانہ کی حقیقت بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے عون چوہدری نے کہا کہ آپ بنی گالہ سے انعام نامی ملازم کو بلا کر پوچھیں۔ اس کے پاس تمام رسیدیں اور بل موجود ہیں توشہ خانے سے لی گئی چیزوں کی، جنہیں اونے پونے داموں خرید کر بھاری قیمت پر بیچا گیا۔عبدالعلیم خان سے متعلق سوال پر عون نے کہا کہ وہ بے قصور تھے، انہیں صرف اس لئے اندر کروایا گیا کہ وہ وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار تھے۔

Related Articles

Back to top button