عمران 15 اپریل سے پہلے فیض کو آرمی چیف بنانے والے تھے


سینئیر اینکرپرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان غلط بیانی کر رہے ہیں کہ انہوں نے رواں برس نومبر میں لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف لگانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔ ان کے بقول حقیقت یہ ہے کہ عمران نے بطور وزیر اعظم لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو 15 اپریل 2022 سے قبل آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے صدارتی نظام لا کر آئندہ 15 سے 20 برس تک حکومت کرنے کا سوچ رکھا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں رواں برس نومبر میں فوج کے سربراہ کی تبدیلی ہونی ہے اور فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ اپنے عہدے میں دوبارہ توسیع دینے کے خواہشمند نہیں ہیں۔ نئے آرمی چیف کے تقرر میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں لیکن ایک بار پھر فوج کے سربراہ کے تقرر کے حوالے سے تنازعات سامنے آ رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بحیثیت وزیرِ اعظم اگلا آرمی چیف تعینات کرنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جب وقت آئے گا تو جو افسر بھی میرٹ پر ہوگا، اسے آرمی چیف تعینات کر دیا جائے گا، تاہم تب کی حزبِ اختلاف کو خوف تھا کہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف لگایا جائے گا۔ لہذا انہوں نے فوری طور پر میری حکومت گرانے کا فیصلہ کیا۔ سابق وزیرِ اعظم کے اس بیان پر بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کا تقرر ایک ایسا موضوع ہے جس کو عمران سمیت کوئی بھی سیاست دان نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران غلط بیانی کر رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں کا باقاعدہ منصوبہ تھا، جس کے تحت انہوں نے صدارتی نظام لا کر آئندہ 15 سے 20 برس تک حکومت کرنے کا سوچ رکھا تھا۔ حامد میر کے مطابق پیپلز پارٹی نے اس منصوبے کو ناکام بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب فوج کے سابق بریگیڈیئر حارث نواز کہتے ہیں کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹا جا رہا ہے لیکن فوج اب سیاست سے دور ہوچکی ہے۔

ایک طرف آرمی چیف کے تقرراورعمران خان کے مبینہ منصوبے کی بازگشت ہے تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر فوج اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر شدید تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ قمر جاوید باجوہ کے خلاف متعدد سوشل میڈیا ٹرینڈز ٹوئٹر پر گزشتہ کئی دن سے ٹاپ پر ہیں۔ واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف 10 اپریل کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی پیش کردہ تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہوئی تھی، جس کے بعد وہ اس منصب پر برقرار نہیں رہے تھے اور ایوان نے ان کی جگہ سابق اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب کر لیا تھا۔ تب سے تحریک انصاف نے فوجی قیادت اور خصوصا جنرل باجوہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک منفی پروپیگنڈا مہم شروع کر رکھی ہے۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے حامد میر کہتے ہیں کہ وزرا حزبِ اختلاف سے رابطے کر رہے تھے کہ تحریکِ عدم اعتماد کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ تمام معاملات حل ہونے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف نے فیصلہ کر لیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو ملک کی سیاست سے کنارے پر لگا دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پیپلز پارٹی سے رابطہ کر کے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں تحریکِ انصاف کے لیے گنجائش پیدا کرے جس کے جواب میں تحریکِ انصاف وفاق میں پیپلز پارٹی کو ایڈجسٹ کرے گی۔ نواز شریف تو باہر نکل گئے ہیں، اب شہباز شریف کو باہر کرتے ہیں۔

حامد میر نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے سندھ کے ایک سینیٹر تحریکِ انصاف سے مذاکرات کر رہے تھے۔ اس سینیٹر نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ لمبا چوڑا منصوبہ ہے۔ اصل میں یہ مذاکرات سویلین خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کے کچھ افسران کر رہے تھے۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے ان مذاکرات میں کچھ لوگ وہ بھی تھے جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام صورتِ حال واضح ہوئی تو معلوم ہوا کہ اپریل 2022 میں نئے آرمی چیف کا تقرر کیا جانا تھا، اس کے بعد 2022 کے اختتام تک نئے الیکشن کرانے تھے، جس میں تحریکِ انصاف کو دو تہائی اکثریت دلائی جانی تھی۔ پیپلز پارٹی کو اس منصوبے میں ساتھ شامل ہونے کا کہا تو گیا تھا لیکن حقیقت میں انہیں صرف استعمال کیا جانا تھا۔

اس مبینہ منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دو تہائی اکثریت کے حصول کے بعد تحریکِ انصاف نے آئین میں ترمیم کرکے صدارتی نظام لانا تھا اور 18ویں ترمیم ختم کی جانی تھی۔ اس کے علاوہ کالا باغ ڈیم بھی بنایا جانا تھا۔ حامد میر کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس جب تمام معلومات آگئیں، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ لڑائی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے نواز شریف سے بات کی۔ اس کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان براہِ راست بات چیت میں حتمی فیصلے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس اپریل میں اگر لیفٹننٹ جنرل فیض حمید آرمی چیف بن جاتے، تو اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سیاست ختم ہو جاتی۔ اسی وجہ سے عمران نے کوشش کی تھی کہ فیض حمید آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے برقرار رہیں۔ حامد میر کے بقول جب یہ بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک پہنچی، تو انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے تبادلے کے معاملے پر فوج کے اندر فیصلہ کیا کہ ایسا نہیں ہو گا اور فوج کو نیوٹرل رہنا ہے۔ فوج کے اس فیصلے کا حزبِ اختلاف نے فائدہ اٹھایا۔

سینئر صحافی نے تحریکِ انصاف کے حوالے سے مزید بتایا کہ جب تحریکِ عدم اعتماد آ گئی تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا گیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ فوج کے سربراہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈز پر حامد میر کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے بعض حامی اب سوشل میڈیا پر آرمی چیف پر تنقید کر رہے ہیں، کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے آئندہ 20 سال حکومت کرنے کے منصوبے کو جنرل قمر جاوید باجوہ نے ختم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جنہوں نے یہ منصوبہ پیپلز پارٹی کو بتایا اور پھر پیپلز پارٹی نے یہ منصوبہ نواز شریف تک پہنچایا۔ اس کے بعد ان سب نے مل کر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو ہی باہر کر دیا۔ سوشل میڈیا ٹرینڈز کے حوالے سے حامد میر نے کہا کہ یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ٹرولنگ ہو رہی ہے، مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔۔ان کے بقول وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اگر اختر مینگل، آصف علی زرداری یا علی وزیر ایسا کرتے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ چکے ہیں۔ اس کے باوجود قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں تحریکِ انصاف کی حکومت کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیرِ داخلہ شیخ رشید کو شرکت کی دعوت دی جا رہی ہے۔

حامد میر کے مطابق بلوچستان کے ایک وزیر نے ان سے کہا کہ اس وقت سوشل میڈیا پر جو ٹرولنگ فوج کی ہو رہی ہے، اگر بلوچستان کی کوئی جماعت ایسا کرتی تو اب تک اس پارٹی کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا ہوتا، مگر عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ سابق وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کے اس بیان پر کہ سیاست میں عدلیہ اور فوج باقاعدہ پلیئر ہیں، حامد میر نے کہا کہ پرویز مشرف کے ترجمان یہ بات کر رہے ہیں کہ پاکستان کی فوج باقاعدہ پلیئر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ فواد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج سیاست میں رہے۔ فوج کہہ رہی ہے کہ وہ غیر جانب دار رہنا چاہتی ہے۔

دوسری طرف فوج کے سابق بریگیڈیئر حارث نواز نے کہا کہ آرمی چیف کے تقرر کے لیے موجودہ سربراہ کی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل نام بھجوائے جاتے ہیں، جس پر وزیرِ اعظم فیصلہ کرتے ہیں لیکن دنیا میں کسی جگہ ایسا نہیں ہوتا کہ اس تقرر کو متنازع بنا دیا جائے۔ننیا آرمی چیف تعینات کیے جانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس عمل کو مشکوک بنانے سے فوج کے جوانوں میں بد دلی پھیلتی ہے۔مان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی فوجی افسر کیسے کئی برس تک آرمی چیف رہ سکتا ہے؟ ہر پانچ برس بعد انتخابات ہوتے ہیں اور نئی حکومت آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر جماعت کی اپنی پسند اور ناپسند ہوتی ہے لیکن اس سےفرق نہیں پڑتا۔ آرمی چیف کا عہدہ ایک ڈسپلنڈ عہدہ ہے، جس میں تمام افسران صرف چیف کو فالو کرتے ہیں۔ حارث نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج نظم وضبط کی انتہائی پابند ہے اور ان کے پاس اس وقت بہت زیادہ سیکیورٹی سے متعلق امور ہیں، لہٰذا انہیں ان سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ نالائقی حکومت کی ہے۔ ففتھ جنریشن وار فئیر یہی ہے کہ عوام اور فوج میں دوریاں پیدا کی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جن جن ممالک میں فوج کمزور ہوئی، وہاں بیرونی دشمنوں کے عزائم پورے ہوئے۔ اس وقت یہی کوشش پاکستان کی فوج کے خلاف ہو رہی ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ فوج پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاستدان فوج کی بیساکھی استعمال کرتے رہے ہیں اور فوج اس میں حصہ لیتی رہی ہے لہٰذا فوج نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ اس عمل میں شامل نہیں ہو گی۔

Related Articles

Back to top button