لاہور گرامر کے بعد اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی


پاکستان کے نامور تعلیمی اداروں میں مرد اساتذہ کے ہاتھوں طالبات کے استحصال اور اور ان کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور گرامر اسکول کی طالبات نے مرد اساتذہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کو جنسی طور پر ہراساں کر رہے ہیں اور اب پاکستان کی معروف تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے اساتذہ پر بھی ایسا ہی الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ فزکس کے استاد کے خلاف ایک خاتون طالبہ کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی شکایت کے بعد وائس چانسلر نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ اولڈ راویئن فیس بک گروپ کے ایک رکن نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے ایک استاد کا اسکرین شاٹ اور تصاویر پبلک کی ہیں اور ایک طالبہ کے حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اسکو اور اسکی دوست کو ایک مرد استاد بار بار امتحان میں فیل کر رہے تھے اور انہیں جنسی طور پر ہراساں بھی کر رہے تھے تاکہ وہ اس استاد نما بھڑئیے کی جنسی خواہشات کی تسکین کریں۔
فیس بک پوسٹ کے مطابق گروپ کے رکن نے بتایا کہ اس نے طالبہ کی جانب سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس نے الزام لگایا ہے کہ استاد اس سے اور اس کی سہیلیوں سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں۔ پوسٹ میں استاد پر الزام لگایا گیا کہ وہ طالبات کو ان کی ویڈیو کالز اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ بیہودہ گفتگو کی جا سکے۔ فیس بک پوسٹ میں کہا گیا کہ ہفتے کے روز استاد نے ایک ایسی طالبہ کو ویڈیو کال کی جس نے ‘استاد کو بے نقاب کرنے’ کا فیصلہ کیا تھا اور کچھ اسکرین شاٹس بھی لیے جس میں وہ ‘بغیر قمیض کے اور بظاہر نشے میں تھے’۔ ویڈیو کال کے دوران جب اسکرین شاٹس لینے کے بعد طالبہ نے اپنا وائی فائی بند کردیا تو استاد نے اسکے موبائل نمبر پر کال کرنا شروع کردی اور پیغام بھیجا کہ وہ اس کی کال اٹھائیں۔ فیس بک پوسٹ میں ویڈیو کالز کے کال لاگ، میسجز اور اسکرین شاٹس شامل تھے۔ پوسٹ میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اصغر زیدی سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
دریں اثنا وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی کو یونیورسٹی کے ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے ایک اعت خاتون طالب علم کو نامناسب کالز اور میسج کرنے کی بھی شکایات موصول ہوئی۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں ایک خاتون رکن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی سی یو میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کو ہر گز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پروفیسر اصغر زیدی نے کہا کہ طلبا اور عملہ کی جانب سے اس طرح کی شکایات درج کرنے کے لیے فروری 2020 سے وائس چانسلر ویب پورٹل تشکیل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری کے اختتام تک یونیورسٹی اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کو معاملے کی مکمل رازداری برقرار رکھنے اور شکایت کنندہ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ تاہم اسکولوں اور کالجوں کی طالبات والدین نے تعلیمی اداروں میں ایسے بے غیرت اور ہوس کے مارے اساتذہ کی بھرتی پر شدید تنقید کی ہے جو اپنی جنسی خواہشات کی تسکین کے لئے ان کی بیٹیوں کو تنگ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے لاہور گرامر اسکول کی غالب مارکیٹ برانچ طالبات کی جانب سے مرد اساتذہ پر لگائے گے جنسی ہراسگی کے الزامات کے بعد ایک بڑے سکینڈل کی زد میں آگئی تھی جسکے بعد سکول انتظامیہ نے آٹھ طالبات کو مبینہ طور پر فحش تصاویر اور پیغامات بھیجنے کے الزام میں ایک مرد استاد کو برطرف کر دیا تھا۔ یہ الزامات ان طالبات کی جانب سے سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس کے ذریعے لگائے گئے تھے۔ سکول طالبات کے مطابق اعتزاز شیخ سکول میں مناظرہ اور سیاسیات کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تقریری مقابلے ’ماڈل یونائیٹڈ نیشن‘ کی کوچنگ بھی کراتے تھے اور مبینہ طور پر ان کو جنسی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ طالبات کے ساتھ جنسی ہراسگی کا یہ سلسلہ 2016 سے جاری تھا لیکن اسکول انتظامیہ نے بار بار کی شکایات کے باوجود کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ایل جی ایس سکول کی انتظامیہ نے اس سکینڈل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان تمام تر الزامات کے نتیجے میں اعتزاز شیخ اور ان کے ساتھ مزید دو اور لوگوں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا گیا ہے۔ جب سکول انتظامیہ سے سوال کیا گیا کہ طالبات کا الزام ہے کہ ہراسگی کا یہ سلسلہ 2016 سے جاری تھا تو کئی سال پہلے اس نام نہاد استاد کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا، تاہم سکول انتظامیہ نے اس معاملے پر مذید بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اب تک ایل جی ایس کی کئی طالبات نے ایسے واقعات کی نشاندہی کی ہے جن میں اعتزاز شیخ کی جانب سے انھیں پیغامات بھیجے گئے۔ یہ پیغامات اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ نے ان تمام تر شواہد کو دیکھتے ہوئے اعتزاز شیخ سمیت دو اور ٹیچرز کو نوکری سے برطرف کیا ہے۔ اعتزاز رحمان شیخ اے لیول کے فرسٹ ایئر کی طالبات کو پڑھاتے تھے۔
ایک طالبہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعتزاز کی طرف سے مبینہ طور پر کم عمر لڑکیوں کو تصاویر بھیجنے اور ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ تقریباً چار سال سے جاری ہے۔ طالبہ کے مطابق اعتزاز نے انھیں 2016 سے 2018 تک پڑھایا تھا جس دوران وہ پڑھائی کا سال ختم ہونے کے بعد بھی انھیں میسیجز کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر میسیجز ذومعنی تھے۔ ’ایک دن سر نے مجھے کہا کہ وہ مجھ سے جنسی تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ جس کے بعد میں نے سر اعتزاز کو بلاک کر دیا۔‘ طالبہ نے بتایا کہ وہ اس سے پہلے بھی ایل جی ایس کی انتظامیہ کو ان واقعات کے بارے میں بتاتی رہی ہیں لیکن ان کے مطابق ’انتظامیہ نے ٹیچر کی طرف سے اپنی آدھی ننگی تصاویر طالبات کو بھیجنے کا الزام اُلٹا لڑکیوں پر لگاتے ہوئے اُن کو پورے کپڑے پہننے کا کہا اور ساتھ میں ٹیچرز کو بہکانے کا الزام بھی لگایا۔‘ اب اعتزاز پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ایل جی ایس کی تقریباً ہر برانچ میں پڑھنے والی طالبہ کو انھوں نے مبینہ طور پر اسی قسم کے میسجز کیے ہیں اور اپنی تصاویر بھی بھیجیں۔ تاہم حکومت پنجاب کی جانب سے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کے باوجود اب تک اس استاد نما بھیڑیے کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button