لیکڈ آڈیو نے عمران کا سازشی خط کیسے پرزے پرزے کیا؟


سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُنکے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کی لیکڈ آڈیو نے ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی حکومت کو امریکی سازش کے نتیجے میں گرائے جانے کا جھوٹا بیانیہ گھڑا تھا تا کہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے وگرنہ اس میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ آڈیو لیک نے شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اس موقف پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ عمران کی جانب سے دھمکی آمیز قرار دیئے جانے والے خط میں کوئی دھمکی موجود نہیں تھی اور نہ ہی حکومت کے خلاف کسی قسم کی کوئی غیر ملکی سازش کی گئی۔

یاد یہ ہے کہ عمران خان نے جسے امریکی دھمکی آمیز خط قرار دیا تھا وہ دراصل واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کی جانب سے لکھا جانے والا ایک سفارتی مراسلہ تھا جسے سائفر کہتے ہیں۔ اس سائفر میں اسد مجید خان نے اپنے گھر میں ایک ڈنر کے دوران سینئر امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا احوال بیان کیا تھا۔ بعد ازاں شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اسد مجید خان نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کی جانب سے لکھے گئے خط میں کسی بھی دھمکی یا سازش کا ذکر نہیں کیا گیا تھا اور عمران خان نے ان کے خط کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر پیش کیا۔

28 ستمبر کو عمران خان اور اعظم خان کی لیک ہونے والی آڈیو گفتگو نے ان تمام باتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ آڈیو میں عمران کہتے ہیں ’ہم نے اب سائفر کے معاملے پر کھیلنا ہے لیکن امریکہ کا نام نہیں لینا۔ ہمیں بس کھیلنا ہے اس پر اور کہنا ہے کہ یہ گیم پہلے سے طے تھی۔ جواب میں تب کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ میں سوچ رہا تھا کہ سائفر پر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم لوگ ایک میٹنگ کریں، شاہ محمود قریشی اور فارن سیکریٹری کے ساتھ۔ شاہ محمود قریشی وہ لیٹر پڑھ کر سنائیں گے اور ہم اسے مرضی سے بدل دیں گے۔ میں اس میٹنگ کے منٹس خود لکھوں گا اور کہوں گا کہ فارن سیکریٹری نے یہ چیز بنا دی ہے۔ اس کے بعد ہم اس کا تجزیہ بھی اپنی مرضی کا بنا لیں گے اور یقینی بنائیں گے کہ منٹس وزارت خارجہ کے ریکارڈ کا حصہ بن جائیں۔ اس کے بعد شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے ہوئے عمران کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اپنے باس کو کہتے ہیں کہ خط کا اینلسز یہ بنایا جائےگا کہ یہ ایک تھریٹ ہے، اعظم خان نے کہا ہم بتائیں گے کہ ڈپلومیٹک لینگویج میں اس کو تھریٹ کہتے ہیں۔ پھر موصوف نے کہا، خان صاحب، دیکھیں، میٹنگ کے منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا، ہم اسکے منٹس خود ہی ڈرافٹ کر لیں گے۔ اس کے بعد عمران اپنے پرنسپل سیکریٹری کو پوچھتے ہیں کہ ’اس میٹنگ میں کس کس کو بلائیں، پھر خود ہی کہتے ہیں کہ شاہ محمود، میں آپ اور سہیل‘، اس کے جواب میں اعظم خان کہتے ہیں بس۔ اس پر عمران کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ ’ٹھیک ہے، کل ہی میٹنگ کرتے ہیں۔‘

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور اعظم خان کی پبلک ہونے والی آڈیو نے نہ صرف پی ٹی آئی چیئرمین کے امریکی سازش کے بیانیے کو دھچکا پہنچایا ہے بلکہ ان کی سیاسی ساکھ کو بھی تباہ کردیا ہے۔ عمران نے 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ کے جلسے میں ایک خط لہراتے ہوئے اسے امریکی دھمکی آمیز خط قرار دیا تھا لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ دراصل یہ خط امریکیوں نے نہیں بلکہ امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے لکھا تھا۔ اسد مجید خان چند ماہ پہلے تک امریکا میں پاکستانی سفیر تھے جن کی جگہ آزاد کشمیر کے سابق صدر مسعود احمد خان کو نیا سفیر تعینات کیا گیا تھا۔ اسلام آباد میں سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لو سے ایک ملاقات کے بعد دفتر خارجہ کو ایک خفیہ مراسلہ بھیجا تھا۔ لیکن عمران نے اس خط کو اپنی مرضی کا رنگ دیتے ہوئے یہ کیس بنا دیا کہ انہیں غیر ملکی سازش کے تحت نکالا جا رہا ہے اور اگر یہ سازش کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کر دی جائیں گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان اور اعظم خان کی لیک ہونے والی آڈیو گفتگو نے ان کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے اور ان کا سازشی خط پرزے پرزے کر دیا ہے۔

Related Articles

Back to top button