ماضی کی پارٹی گرل فرح گوگی کے عروج کی داستان


عمران حکومت کے خاتمے کے بعد سے جس شخصیت پر سب سے زیادہ کرپشن کے الزامات عائد ہو رہے ہیں وہ بشریٰ بی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح خان عرف گوگی ہیں جن کا کپتان نے زندگی میں پہلی مرتبہ سامنے آ کر اور کھل کر دفاع کیا ہے۔ تحریک انصاف کے عمرانڈو اور یوتھیے بھی پریشان ہیں کہ آخر فرح خان میں ایسا کیا جادو ہے کہ جس نے ان کے کپتان کو بھی بار بار موصوفہ کی پارسائی کی قسمیں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔

چنانچہ فرح خان کے حوالے سے ایسے حقائق سامنے لائے جارہے ہیں جو عام لوگوں کے علم میں نہیں۔ انکا اصل نام فرحت شہزادی ہے جو 1995 میں اپنی بہن مسرت شہزادی عرف مُشی کیساتھ شیخوپورہ سے لاہور شفٹ ہوئی تھیں۔ یہ دونوں بہنیں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔‏ لاہور آ کر انہوں نے گلبرگ کالج میں داخلہ لیا۔ فرح شیخوپورہ میں سکول لیول پر اور پھر کالج میں بھی ہاکی کی کھلاڑی رہیں۔ ان کی بڑی بہن مسرت بیڈ منٹن کی کھلاڑی تھیں۔
فرحت شہزادی نے اپنے ہاکی کوچ شفیق الرحمن گوگی سے متاثر ہوکر اپنے نام کے ساتھ گوگی لگانا شروع کردیا۔ فورٹریس سٹیڈیم لاہور میں ایک مشہور کپڑوں کا برانڈ نی پنہال ہوا کرتا تھا جہاں پہلی بار مسرت شہزادی نے سیلز گرل کی جاب کی۔اس کے مالک کو فوٹو گرافی کا شوق تھا۔‏ نوے کی دہائی میں ہی فرح کی اس سے دوستی ہو گئی۔ اس نے فرح کا فوٹو شوٹ کیا اور سیلز گرل کو ماڈل گرل بنا دیا۔ یوں وہ لاہور کے سوشل سرکلز میں بطور ماڈل داخل ہو گئیں۔ خوبصورت، جوان اور بولڈ گوگی جلد ہی لاہور کی سوشل لائف اور نائٹ پارٹیز کی جان بن گئیں۔ اسی دوران ایک پارٹی میں فرح خان کی ملاقات احسن جمیل گجر سے ہوئی جو مسلم لیگی سیاست دان اقبال گجر کے صاحبزادے ہیں۔ یوں کچھ عرصہ بعد فرح کی احسن جمیل گجر سے دوسری شادی ہو گئی جن میں سے اب ان کے دو بچے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ احسن جمیل گجر کا بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور فرید مانیکا سے پچھلے تیس برسوں سے تعلق ہے اور اسی حوالے سے فرح اور بشریٰ کی بھی دوستی ہو گئی۔ ایک زمانے میں بشریٰ عرف پنکی بھی لاہور کی ایلیٹ کے سوشل سرکلز میں کافی جانی پہچانی شخصیت سمجھی جاتی تھیں۔ فرح نے احسن سے شادی کے بعد ان کے کاروبار کی دیکھ بھال شروع کر دی اور گلبرگ سینٹر پوائنٹ کے‏قریب واقع گجر کے دفتر میں بیٹھنا شروع کر دیا۔ اس دوران فرح خان نے سپلائی کا کام بھی شروع کر دیا تھا۔ عمران کی بشری ٰبی بی سے تیسری شادی بھی فرح کی ڈیفنس لاہور میں واقع رہائش گاہ پر ہوئی۔ شادی کی تصاویر میں فرح خان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی گوگی کی بہن مسرت عرف مُشی بھی موجود ہیں۔ اب دونوں بہنیں بیرون ملک فرار ہو چکی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ جب عمران خان برسر اقتدار آئے تو فرح خان عملا ًبنی گالہ ہی شفٹ ہوگئی تھیں اور ان کے ساتھ ہی قیام کیا کرتی تھیں۔ بشریٰ بی بی کا موقف تھا کہ وہ چونکہ گھر پر سارا دن اکیلی ہوتی ہیں اس لیے انہیں کسی کا ساتھ چاہیے لہٰذا کپتان نے بھی اعتراض نہیں کیا۔ اس دوران فرح نے احسن گجر کے دوست عثمان بزدار کو بھی خاور فرید مانیکا اور بشریٰ بی بی کے ذریعے پنجاب کا وزیر اعلیٰ لگوا لیا اور خود ڈی فیکٹو چیف منسٹر بن گئیں۔ اس دوران ملک ریاض نے بھی فرح کے ذریعے عمران خان تک رسائی حاصل کرلی۔ یاد رہے کہ ملک ریاض کی جانب سے اسلام آباد میں اربوں روپے کی جو ساڑھے چار سو کنال زمین القادر ٹرسٹ کے نام پر بشری ٰاور عمران کو الاٹ کی گئی اس میں فرح بھی ٹرسٹی ہے۔
اگرچہ لاہور کی ماڈرن کلاس کے سماجی حلقوں میں فرح خان کا نام تقریباً ڈیڑھ دہائی سے گونج رہا تھا لیکن میڈیا پر فرح خان کا ‏نام بشریٰ بی بی اور عمران خان کی 2018 میں ہونے والی شادی کے بعد سامنے آیا۔

خاتون اول بننے کے بعد فرح خان بشریٰ بی بی کے لاہور کے دوروں کے دوران بھی ان کے ہمراہ ہوتیں، انہیں حکومت کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں بھی دیکھا جاتا رہا ہے۔‏ فرح خان کے شوہر احسن جمیل گجر کا نام بھی میڈیا پر تب سامنے آیا جب عمران خان کی حکومت بننے کے بعد پاکپتن کے ڈی پی او رضوان گوندل کو تبدیل کروانے کا الزام احسن جمیل گجر پر آیا۔ اگست 2018 میں پولیس کی جانب سے بشریٰ بی بی کے ‏سابق شوہر خاور مانیکا کے اہل خانہ کی گاڑی روکنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر سے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کو تبدیل کرنے کا حکم جاری ہوا۔ اس واقعے کی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے چیف مہر خالق داد لک ‏نے اکتوبر 2018 میں جمع کروائی جس کے مطابق مانیکا فیملی نے پولیس کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی تھی۔ اس رپورٹ پر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لیا اور احسن جمیل گجر کو عدالت سے غیر مشروط معافی مانگنی پڑی اور حلف ‏اٹھانا پڑا کہ وہ آئندہ کسی حکومتی معاملے میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔

بتایا جاتا ہے کہ بزدار دور میں پولیس اور سول بیوروکریسی میں تمام اہم تقرریاں فرح کے ذریعے ہوتی تھیں جو ٹرانسفر اور پوسٹنگز کے لئے رشوت وصول کر کے آگے بھی بانٹتی تھیں۔ فرح صرف نام تجویز کرتی تھیں اور بزدار اس پر عمل کرنے کا پابند ہوتا تھا۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ ‏رشوت کا پیسہ وصول کرنے کے بعد فرح اپنا حصہ رکھ کر باقی بشری ٰبی بی کو پہنچا دیا کرتی تھیں۔

لیکن ان تمام معاملات سے ذرا پرے اور الگ ہوکر دیکھنا یہ ہوگا کہ فرح خان کی بڑی بہن مسرت شہزادی عرف مُشی کون ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جب یہ دونوں بہنیں لاہور آئیں تو مسرت نے اپنی تعلیم مکمل کرتے ہی اپنی خوب صورتی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لاہور کے ایک بڑے بزنس مین کو اپنی زلف کا اسیر بنالیا۔ میل ملاقاتوں کا خاتمہ دونوں کی شادی پر ہوا مگر دوران زچگی مسرت کو اس بزنس مین نے طلاق دے دی۔ اس طلاق کی وجہ وہ تیسرا شخص تھا جو ان دونوں کےدرمیان میں موجود تھا۔ وہ شخص مُشی کو اپنے ساتھ امریکہ لے گیا جہاں کچھ عرصے بعد اس کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جو تاحال امریکہ ہی موجود ہے اور زیر تعلیم ہے۔ اس کے بعد مُشی کا تعلق اس شخص سے مزید گہرا ہوتا چلاگیا اور تاحال برقرار ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران دور حکومت میں صرف فرحت شہزادی نے ہی مال نہیں بنایا بلکہ مسرت شہزادی بھی اس لوٹ مار میں برابر کی شریک رہی۔ جتنا عرصہ عمران حکومت میں رہے، مسرت شہزادی بھی زیادہ تر پاکستان میں ہی قیام پذیر رہی اور بشری ٰبی بی کی فرنٹ پرسن کہلانے والی فرح گوگی کی فرنٹ پرسن کا کردار ادا کرتی رہی۔

Related Articles

Back to top button