مشال نے یاسین ملک کوعمرقید کی سزا کوانصاف کا قتل قراردے دیا


بھارت کی تہاڑ جیل میں برسوں سے قید کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے شوہر کو بھارتی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کو مسترد کر دیا ہے اور اسے انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا کی خصوصی عدالت نے یاسین ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔ اس سے پہلے یاسین ملک نے کہا تھا کہ ’میں عدالت سے بھیک نہیں مانگوں گا، جو سزا دینی ہے دے دیں۔‘ عدالت نے یاسین ملک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے علاوہ دہشت گرد کارروائیاں کرنے، دہشت گرد تنظیم کا حصہ بننے اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔ بھارتی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے عدالت سے یاسین کو سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی۔

اس پر یٰسین ملک نے عدالت سے کہا تھا کہ آپ نے جو سزا دینی ہے دے دیجیے، لیکن میرے کچھ سوالات کا جواب دیجیے۔ انہوں نے سوال اٹھائے کہ ’اگر میں دہشت گرد تھا تو انڈیا کے سات وزیر اعظم مجھ سے ملنے کشمیر کیوں آتے رہے؟ اگر میں دہشت گرد تھا تو اس پورے کیس کے دوران میرے خلاف چارج شیٹ کیوں نہ فائل کی گئی؟اگر میں دہشت گرد تھا تو وزیراعظم واجپائی کے دور میں مجھے پاسپورٹ کیوں جاری ہوا؟‘ اگر میں دہشت گرد تھا تو مجھے انڈیا سمیت دیگر ملکوں میں لیکچر دینے کا موقع کیوں دیا جاتا رہا؟‘

عدالت نے یسین ملک کے سوالات پر ریمارکس دیئے کہ ان باتوں کا وقت گزر گیا، اب یہ بتائیں کہ آپ کو جو سزا تجویز کی گئی ہے اس پر کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اس پر یاسین ملک نے کہا کہ میں عدالت سے رحم کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ جو عدالت کو ٹھیک لگتا وہ کرے۔‘

تاہم یاسین ملک کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان کی اہلیہ مشال ملک نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔ انسانی حقوق کی ایسی بدترین خلاف ورزی پہلے کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مہذب ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ ان کے شوہر کو سنائی جانے والی سزائے موت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین کے خاندان کو بھی ان سے بات کرنے اور خط لکھنے کی اجازت نہیں دی جا رہی جو جنیوا کنونشن کے تحت ان کا حق ہے۔ تشویش ہے کہ یٰسین ملک عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کیسے کریں گے کیوں کہ ان کو وکیل فراہم نہیں کیا جا رہا اور بھارت سرکاری وکیل ٹھونسنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے مشال ملک نے کہا کہ مقبول بٹ کو کیوں پھانسی دی گئی، یہ سب کے سامنے ہے۔ اب اسی تہاڑ کے ڈیتھ سیل میں یٰسین ملک کو رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یٰسین ملک سے آخری مرتبہ بات فروری 2019 میں ہوئی تھی اور ٹیلی فون پر بات کے دوران ہی فورسز نے چھاپہ مارا تھا۔ اس دوران یٰسین ملک نے بتایا کہ ’وہ مجھے لینے آ گئے ہیں۔‘ یٰسین ملک کے اپنی بیٹی رضیہ سے کہے گئے الفاظ یہی تھے کہ ’میں بہت دور جا رہا ہوں۔ میری طرف سے بہت پیار اور دعائیں۔‘

دوسری جانب خود کو سزائے موت سنائے جانے سے پہلے یاسین ملک نے خود پر عائد الزامات پر احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ جھوٹا اور سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا۔ اگر آزادی کی جدوجہد جرم ہے تو میں یہ جرم کرنے اور اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔‘ یاسین کو اپریل 2019 میں انڈیا کی نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی نے دو برس پرانے ’دہشت گردی اورر علیحدگی پسندی کے لیے فنڈنگ‘ کے ایک کیس میں گرفتار کیا تھا ۔ وہ اس کیس سے قبل مارچ سے ہی پپلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید تھے۔ ان پر 1990 میں انڈین ایئر فورس کے چار افسران کو قتل کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا جس میں ان کے ساتھ سات افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔ 1995 میں اس کیس میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے سٹے آرڈر جاری کیا تھا جسے اپریل 2019 میں اسی عدالت نے ختم کر دیا تھا۔ یاسین ملک پر ایک الزام یہ بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے 1989 میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کی بیٹی ربیعہ سعید کو اغوا کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

یاسین ملک انڈین زیرانتظام کشمیر کے معروف آزادی پسند لیڈر اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا جے کے ایل ایف کے چیئرمین ہیں۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پاکستان اور انڈیا کے درمیان منقسم ریاست جموں کشمیر کی مکمل آزادی اور وحدت کی علمبردار ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے ایک زائد دھڑے انڈیا اور پاکستان کے زیرانتطام کشمیر کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی سرگرم ہیں۔ یاسین ملک اپنے نوجوانی کے دور سے ہی آزادی پسند سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے۔ انہیں کئی بار قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ نوے کی دہائی کے وسط تک یاسین ملک کی جماعت انڈیا کے خلاف مسلح کاررائیوں کو درست سمجھتی تھی تاہم 1994 میں اس جماعت نے عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں یاسین ملک نے انڈین زیرانتظام کشمیر میں ایک دستخطی مہم بھی چلائی تھی۔ پاکستان میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے دور میں جب انڈیا کی واجپائی سرکار سے کشمیر کے معاملے پر بات چیت کا اغاز ہوا تو یاسین ملک دیگر کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے اور ان کا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھرپور استقبال کیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button