ملک ریاض نے عمران خان پر کون سا جادو کیا ہے؟

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث زوروں پر ہے کہ آخر بحریہ ٹاون کے کھرب پتی مالک ملک ریاض حسین نے وزیر اعظم عمران خان پر کیا جادو کیا ہے کہ ان کی جماعت کا ایک سینیٹر اور سنیئر قانون دان بیرسٹر سید علی ظفر حکومت کے خلاف طاقتور بزنس ٹایئکون کو ریلیف دلوانے کے لیے سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے اور ساتھ ہی کپتان نے اٹارنی جنرل کو بھی ہدایت کر دی ہے کہ اگر عدالت عظمی ملک ریاض کو ریلیف دینے سے متعلق حکومتی موقف مانگے تو ملک ریاض کا ساتھ دیا جائے۔
یاد رہے کہ اقتدار میں آنے سے پہلے عمران خان نجی محفلوں میں ملک ریاض کو اس کرپشن مافیا کا حصہ قرار دیتے تھے جو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد سے اب عمران خان اور ملک ریاض میں قریبی تعلقات قائم ہو چکے ہیں لہذا پوچھنے والے سوال کرتے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ دوسروں پر جادو ٹونے کروانے والے بنی گالہ کے رہائشی عمران خان ملک ریاض کے جادو کے سحر میں جکڑے گئے۔ ملک ریاض اور عمران خان کے قریبی تعلقات کا بڑا ثبوت ایک حالیہ واقعہ ہے جب حکومتی سینیٹر ملک ریاض کو ریلیف دلوانے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ دوسری جانب حکومت نے بھی بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو ہدایت کی ہے کہ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران یہ مؤقف اپنائے کہ اگر اعلی عدلیہ قسطوں کی ادائیگی میں بحریہ ٹاؤن کو رعایت دے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اس کیس میں بحریہ ٹاؤن کے وکیل کپتان کے قریبی ساتھی اور سینیٹ کے نومنتخب رکن بیرستر سید علی ظفر ہیں جو کہ سابق وزیر قانون سینیٹر ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے حال ہی میں سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کرونا کی وجہ سے ان کے مؤکل ملک ریاض حسین کا پراپرٹی کا کاروبار شدید متاثر ہوا ہے لہٰذا اس بنیاد پر انھیں واجب الادا قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے۔ لیخن ناقدین سوال کر رہے ہیں کہ کیا اخلاقی طور پر کرپشن مخالف بیانیہ لیکر چلنے والی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر بننے والے علی ظفر کو ملک ریاض جیسے مشکوک کردسر کی وکالت کرنی چاہیے؟
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے خلافِ قواعد زمین کے حصول کے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملک ریاض کو سات سال کی مدت میں 460 ارب روپے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ قومی خزانے میں ایک ہزار ارب روپے جمع کروا دیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ایک ہزار ارب روپے سے شروع ہونے والا یہ معاملہ 460 ارب روپے میں طے پا گیا۔اس عدالتی فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کی طرف سے یہ درخواست دی گئی تھی کہ وفاق کو یہ رقم خرچ کرنے کا اختیار دیا جائے تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی تھی۔بحریہ ٹاؤن کے وکیل کے مطابق ان کا کلائنٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اب تک 58 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کروا چکا ہے۔ لیکن اب انکے وکیل وزیر قانون علی ظفر کا کہنا ہے کہ کرونا کی وجہ سے دیگر شعبوں کی طرح ملک ریاض کا کاروبار بھی شدید متاثر ہوا ہے لہٰذا انہوں بقیہ قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں وزارت قانون کا ایک خط بھی جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اور حکومت پاکستان کی نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مابین ایک یادداشت پر دستخط ہونے کی توقع ہے جس کے تحت بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اسلام آباد اور کراچی میں کم لاگت والے پانچ ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کر کے دے گی جن میں سے تین ہزار اسلام آباد میں جبکہ دو ہزار کراچی میں تعمیر کیے جائیں گے۔ خط میں کہا گیا کہ تعمیراتی سیکٹر میں بحریہ ٹاؤن ایک قابل ذکر کھلاڑی ہے اور اگر سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کی طرف سے قسطوں کی ادائیگی میں ریلیف کی درخواست پر غور کرتی ہے تو وفاقی حکومت کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جائے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو قسطوں کی ادائیگی میں رعایت دینے سے اس ڈیڈ لائن میں کوئی فرق نہیں پڑے گا جو کہ عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن کو رقم کی ادائیگی کے لیے دی ہوئی ہے۔
اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق وزارت قانون کے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کو قسطوں کی ادائیگی میں کوئی رعایت دیتی ہے تو حکومت کو اس پر اعراض نہیں ہو گا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان قسطوں پر حاصل ہونے والے مارک اپ کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی اور بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اعلی عدالت کی طرف سے ریلیف ملنے کے باوجود بحریہ ٹاؤن اپنے عہد کو پورا نہیں کرتی تو حکومت سپریم کورٹ کی طرف سے قسطوں کی ادائیگی میں دی گئی چھوٹ پر نظر ثانی کے لیے درخواست دائر کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن عملدرآمد مقدمے کی آخری سماعت گذشتہ برس جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی تھی۔ بعد ازاں جسٹس فیصل عرب ریٹائر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں نیا بینچ تشکیل نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی کپتان حکومت ملک ریاض کو ریلیف دلوانے کے لیے سپریم کورٹ تک پہنچ گئی ہے۔ یاد ر رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 2019 میں آئیندہ سات برس کے دوران 460 ارب روپے ادا کرنے کے وعدے کے بعد ملک ریاض کے خلاف قانونی کارروائی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔  لیکن اب ملک ریاض اسی ادائیگی کے حوالے سے سپریم کورٹ سے ریلیف لے رہے ہیں اور کپتان حکومت ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ یہاں اس بات کو بھی یاد رکھا جائے کہ جب یہ ثابت ہوگیا تھا کہ ملک ریاض کے ریئل اسٹیٹ ادارے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ نے کراچی کے ضلع ملیر کے مضافات میں ہزاروں ایکڑوں پر محیط زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا ہے تو مارچ 2019 میں فائلوں کو پہئیے لگانے میں مہارت رکھنے والے ملک ریاض کی جانب سے سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے بطور جرمانہ دینے کی پیش کش کی گئی تھی۔ اور حیران کن طور ملک ریاض کو سزا سنانے کی بجائے سپریم کورٹ نے جرمانے کی آفر قبول کرلی۔ ملک ریاض کے پاس یقینا ایسا کوئی جادو ضرور ہے جس کے زیر اثر نہ صرف عمران خان آ جاتے ہیں بلکہ سپریم کورٹ کے جج بھی۔

Related Articles

Back to top button