موروثی سیاست کے ناقد شاہ محمود موروثی سیاست کے علمبردار نکلے


پیپلز پارٹی اور نواز لیگ پر موروثی سیاست کرنے کا الزام لگانے والے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل شاہ محمود قریشی نے حالیہ ضمنی الیکشن میں اپنے بیٹے زین قریشی کو رکن پنجاب اسمبلی منتخب کروانے کے بعد اب نہایت ڈھٹائی سے اسکی خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی سیٹ پر اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوا کر اپنے ہی مؤقف کا جنازہ نکال دیا ہے۔ شاہ محمود قریشی کی اس حرکت کے بعد پی ٹی آئی کے پرانے کارکنان نے ان کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور ملتان شہر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ملتان کے حلقہ این اے 157 سے تحریک انصاف کے رہنما انجینئر وسیم نے شاہ محمود قریشی کی جانب سے اپنی بیٹی مہر بانو قریشی کو امیدوار کھڑا کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موروثی سیاست پر تنقید کرنے والے پارٹی سیکرٹری جنرل اب اسی منہ کے ساتھ موروثی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں جو کہ کھلی منافقت ہے۔ ملتان میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر وسیم نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مہر بانو قریشی کو دیا گیا پارٹی ٹکٹ واپس نہ لیا تو وہ انکی بنی گالہ رہائش گاہ کے باہر دھرنا دیں گے۔ انجینئر وسیم نے این اے 157 سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی بھی جمع کروا دیے ہیں۔ یاد رہے کہ ملتان کی نشست این اے 157 پر ضمنی انتخاب رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔ یہ سیٹ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی نے چھوڑی تھی اور وہ پچھلے ماہ ضمنی انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے تھے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے این اے 157 کے لیے شاہ محمود کی بیٹی مہر بانو قریشی کو امیدوار نامزد کرنے پر سوشل میڈیا صارفین بھی تنقید کرتے نظر آرہے ہیں ہیں۔ لندن میں مقیم صحافی مرتضٰی علی شاہ نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’کیا پی ٹی آئی کا خاندانی سیاست اور امرا کے خلاف یہی جہاد ہے؟ احتشام الحق نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پی ٹی آئی وہی کر رہی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نوجوانوں میں غیر مقبول ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق ’ملتان میں قریشی کے بچوں کے علاوہ اور بھی مستحق اور ذہین لوگ ہیں۔‘

افراح مسکان نامی صارف نے لکھا ’مہربانو قریشی نے بھلے ایک دہائی تک پی ٹی آئی کے لیے کام کیا ہوگا لیکن ایسا تو بہت سے دوسرے پی ٹی آئی کارکنان نے بھی کیا ہے۔‘ ان کے مطابق ’بیٹے کے بعد پارٹی ٹکٹ بیٹی کو دینا نہ صرف غلط یے بلکہ اس مؤقف کے بھی خلاف ہے جو پی ٹی آئی معروثی سیاست کے خلاف سالوں سے اختیار کرتی آئی ہے۔‘

اس سے پہلے مہربانو قریشی نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’خان صاحب نے جو امید کا دیا جلایا ہے ہم اسے بجھنے نہیں دیں گے۔‘

صحافی مبشر زیدی نے ان کی نامزدگی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’والد صاحب محترم شاہ محمود قریشی پہلے ہی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں، بھائی صاحب بھی پہلے قومی اسمبلی اور اب پنجاب اسمبلی میں پہنچ چکے ہیں۔ لہذا پی ٹی آئی ان پارٹیوں سے بالکل بھینمختلف نہیں جن پر عمران خان خاندانی سیاست کا الزام لگاتے ہیں۔‘ان کی اس ٹویٹ پر مہربانو قریشی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مبشر زیدی کے تبصرے سے ’مایوس‘ ہوئی ہیں کیونکہ وہ انہیں ’ایک آزاد اور مضبوط عورت نہیں سمجھتے بلکہ انہیں جج کرنے کے لیے لایعنی جواز تلاش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے لکھا ’میں نے ہمیشہ ایک مضبوط، روشن خیال اور بردباد پاکستان کے لیے دعا کی ہے۔‘

یاد رہے کہ شاہ محمود کی بیٹی مہر بانو قریشی کا ضمنی الیکشن میں مقابلہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے سے ہوگا۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے عمران خان کی اجازت سے بیٹی کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور اس فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ پارٹی کو ایسے امیدوار چاہییں جو الیکشن جیت سکیں۔ مہر بانو قریشی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سال 2018 سے تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اور ان کے والد نے روایات کے برعکس عمران خان کے بیانیے کو زندہ رکھنے کیلئے ان کا انتخاب کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ میں پڑھی لکھی ہوں، میں نے ایم اے کر رکھا ہے اور مجھے صحافت کا تجربہ بھی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر ہم نے ملک کو مشکل صورت حال سے باہر نکالنا ہے تو ماؤں اور بیٹیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ ایک ماں کو زیادہ احساس ہوتا ہے کہ بچے کا مستقبل کیا ہوگا تعلیم کیسے ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کیلئے شرط ہے کہ انہوں نے 5 فیصد حصہ خواتین کو دینا ہے، ویسے بھی اگر ماں اور بیٹی پڑھی لکھی ہوں تو وہ معاشرے میں واضح تبدیلی لا سکتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button