مولانا کی JUI بلوچستان حکومت کا حصہ بننے کو تیار


مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان میں اپوزیشن بینچوں کو چھوڑ کر حکومتی بینچوں پر بیٹھنے کا ذہن بنا لیا ہے اور اس حوالے سے بڑا اعلان جلد متوقع ہے۔

حکومتی اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اصغر خان اچکزئی نے تصدیق کی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مولانا عبدالواسع سے بلوچستان کی صوبائی حکومت کا رابطہ ہوا ہے، جسکے بعد جے یو آئی وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کی حکومت میں شامل ہونے جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ 2018 کے الیکشن کے بعد بلوچستان میں تشکیل پانے والی سابق جام کمال حکومت کا تختہ اُلٹنے میں صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں بشمول جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے موجودہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کا ساتھ دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو کی یہ خواہش ہے کہ جمعیت علماء اسلام ان کی حکومت کا حصہ بن جائے تاکہ مستقبل میں اسے کسی خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان مولانا عبدالواسع سے ملاقات کر کے انہیں خود بھی صوبائی حکومت میں شمولیت کی دعوت دے چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جے یو آئی ف نے بھی بلوچستان حکومت میں شمولیت کی مشروط حامی بھر لی ہے، ان کی واحد شرط سابق وزیر اعظم عمران خان کی تحریک انصاف کو صوبائی حکومت سے الگ کرنا ہے، ادھر کوئٹہ کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار رشید بلوچ کے خیال میں وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کو کسی ممکنہ مخالفت سے بچنے کے لیے ایک مضبوط جماعت کی ضرورت ہے، اور اسی لیے جے یو آئی (ف) کو حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سابقہ وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف انکے اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ کے ایم پی ایز نے تب کے سپیکر بلوچستان اسمبلی قدوس بزنجو کا ساتھ دیا تھا اور انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی پر براجمان کروا دیا تھا۔

سینئر صحافی رشید بلوچ نے بلوچستان کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے لیے زیادہ خطرہ صوبائی حکومت میں شامل ایسی جماعتیں بن سکتی ہیں جن کے اراکین اسمبلی کی تعداد ایک یا دو سے زیادہ نہیں، ایسے میں وزیراعلیٰ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ کم ایم پی ایز والی جماعتیں یا ان کے اراکین ذاتی طور پر کسی بھی وقت اپنی سوچ تبدیل کر کے ان کی حکومت گرانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ کہا جاتا رہا ہے کی اگر جمعیت علماء اسلام بلوچستان حکومت کا حصہ بننے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے ممکنہ صوبائی وزرا میں نواز کاکڑ، عبدالواحد صدیقی، یونس عزیز زہری اور ملک سکندر ایڈووکیٹ شامل ہو سکتے ہیں، رشید بلوچ کے خیال میں وزیر اعلی قدوس بزنجو کو نہ صرف ان کی حکومت کے اتحادیوں بلکہ اپنی جماعت کے اندر سے بھی انحراف کا خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار سمجھتے ہیں کہ بلوچستان حکومت اپنے قیام سے ہی غیر مستحکم تھی، اور دوسری جماعتوں کو سرکاری نوکریاں اور سرکاری ٹھیکے دے کر رام کر رہی تھی۔ شہزادہ ذوالفقار نے جمعیت علما اسلام فضل الرحمان کی بلوچستان حکومت میں شمولیت بارے بتایا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کو یقیناً کچھ ایسے اشارے ملے ہیں کہ تبدیلی آنے والی ہے، اور انہیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، سینئر صحافی کے خیال میں جمعیت علمائے اسلام کے لیے بھی حکومت میں شمولیت اہم ہے، کیونکہ آئندہ سال انتخابات کا ہے اور ہر جماعت اس کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف بلوچستان حکومت کا حصہ بن کر تبادلوں کے علاوہ تعمیراتی کاموں کے ذریعے انتخابات سے قبل صوبے میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرے گی، بلوچستان میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے شہزادہ ذوالفقار کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ قدوس بزنجو سے زیادہ وزیراعظم شہباز شریف نے صوبے میں سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے ہیں، جبکہ انہوں نے اپنے حلقے آواران کا دورہ بھی ایک لمبے عرصے کے بعد کیا۔

بلوچستان میں بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال پر نظر رکھنے والے نظریاتی اور جماعتی اختلافات کے علاوہ صوبائی حکومت اور مختلف پارٹیوں کے اراکین اور رہنمائوں کے درمیان موجود تنائو اور صوبے میں سیلاب کی وجہ سے تباہی کی موجودگی میں اس ممکنہ سیاسی تبدیلی کو نیک شگون نہیں سمجھتے۔

Related Articles

Back to top button