نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے سیاسی تناؤ کم ہوگا یا زیادہ؟


29 نومبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی سے پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی میں کمی کی بجائے اضافے کا امکان ہے کیونکہ سابق وزیراعظم عمران خان نے بظاہر اس تعیناتی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے متنازع بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے میں اب محض دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور سب سے زیادہ اہمیت بھی اس سوال کو حاصل ہے کہ ان کے بعد فوج کی کمان کس کے سپرد کی جائے گی اور کیا اس تعیناتی کے بعد سیاسی فضا پر چھائے بے یقینی کے بادل چھٹیں گے یا نہیں؟

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کی وجہ سے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر تعیناتی کو فوج میں معمول کی ترقی و تقرری کی کارروائی نہیں سمجھا جاتا بلکہ ملک کے سیاسی مستقبل کے کئی سوالوں کے جواب اس عہدے پر ہونے والی تعیناتی کے فیصلے سے جڑے ہوتے ہیں۔ رواں برس تحریکِ انصاف کی حکومت کے عدمِ اعتماد کے ووٹ سے خاتمے اور تب سے عمران خان کی جانب سے حکومت کے خلاف جاری تحریک میں فوجی اسٹیبلشمںٹ کا سیاسی کردار مسلسل زیرِ بحث ہونے وجہ سے اس بار آرمی چیف کی تعیناتی کو ماضی کے مقابلے میں قومی منظر نامے پر زیادہ توجہ حاصل ہے۔ بعض حلقے ملک کے سیاسی استحکام کو بھی اس فیصلے پر منحصر قرار دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہونے کی توقع ہے لیکن بظاہر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا جو کہ عمران خان پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف کو نیا آرمی چیف تعینات کرنے کا اختیار نہیں۔ بظاہر عمران ایک غیر آئینی بات کر رہے ہیں لیکن اپنی موجودہ مقبولیت کی بنیاد پر وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازعہ بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ پاکستان میں سیاسی تقسیم اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ سیاسی ماحول میں پائی جانے والی کشیدگی آئندہ انتخابات تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ایسے میں سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ تمام متحارب سیاسی جماعتوں کو اکٹھے بٹھا کر کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ لیکن حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج پہلے ہی خود کو غیر سیاسی کرنے کا اعلان کر چکی ہے اور آئین کے مطابق بھی یہ فوج کا کام نہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں کو ڈکٹیشن دے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے ملک میں سیاسی استحکام آئے گا یا مزید انتشار پھیلے گا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ نئے آرمی چیف سیاست میں کسی حد تک ملوث ہوتے ہیں۔ اب تک جو فوج کی حکمت عملی نظر آرہی ہے اس سے بظاہر لگتا ہے کہ فوج خود کو سیاست سے دور رکھے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی استحکام کا انحصار فوج کی سیاست سے دوری سے زیادہ اس بات پر ہوگا کہ فوج دو سیاسی حریفوں یعنی پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کو قریب لانے میں کیا کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس وقت سیاست میں سب سے بڑا مسئلہ عام انتخابات کا ہے اور انکے انعقاد کے لیے دونوں سیاسی فریقین کو ایک دوسرے کے قریب ہونا پڑے گا۔ ان کے بقول، سیاسی استحکام صرف فوج کے سربراہ کی تعیناتی سے جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ سیاسی فریقین کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور مل کر انتخابات کی طرف جانے پر منحصر ہے۔

ایک اور دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیر ریٹائرڈ حارث نواز کا خیال ہے کہ اگر اگلے ایک ہفتے کے دوران آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو ملک میں سیاسی استحکام پیداہونے کی امید ہے۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فیصلے سے غیر یقینی کا خاتمہ ہوگا اور امکان ہے کہ فوج کے نئے سربراہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بٹھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی یہی کوشش ہوگی کہ سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کسی نے تماشا لگانا ہے تو لگا لے لیکن اگر ملک میں حالات خراب کیے گئے تو فوج پھر ایکشن میں آئے گی۔

یاد رہے کہ حکمران اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے سینیئر ترین لیفٹننٹ جنرل کو بطور آرمی چیف تعینات کرنے کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ اس بارے جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں یہ فارمولہ اچھا ہے کہ سینئر موسٹ کو چیف بنا دیا جائے لیکن یہ اس وجہ سے مستقل پیمانہ نہیں ہوسکتا کہ فوج میں روٹیشن کا ایک اصول ہوتا ہے۔ اس میں کبھی آرمرڈ کور، کبھی انفنٹری اور دیگر کورز کے آفیسر ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح انجینئرز اور میڈیکل کے افسران بھی بعض اوقات سینیارٹی لسٹ میں آگے ہو سکتے ہیں لیکن اگر صرف کور کمانڈ کرنے والے افسران کی سنیارٹی لسٹ بنائی جائے تو اس پر غور کیا جاسکتا ہے۔ بریگیڈیر ریٹائرڈ حارث نواز کا کہنا ہے کہ اس وقت سینیارٹی کے اعتبار سے عاصم منیر کا نام سامنے آرہا ہے۔ اگرچہ وہ 27 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں لیکن اگر انہیں چند روز قبل ترقی دے دی جاتی ہے تو وہ نئے عہدے پر کام جاری رکھ سکیں گے۔ان کاکہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی پر تحریکِ انصاف اعتراض کر سکتی ہے لیکن ایک مرتبہ تعیناتی ہوجاتی ہے تو ان کے بقول، اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

Related Articles

Back to top button