نئے آرمی چیف کی تعیناتی 21 نومبر تک ہونے کا امکان


سینئر صحافی و تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے 20 اور 21 نومبر کے دوران ہونے کا قوی امکان ہے۔ ان کے مطابق نئے آرمی چیف کا فیصلہ ہو چکا ہے تعیناتی سنیارٹی کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیفٹیننٹ جنرل کا نام بھی معلوم ہے جسے فور سٹار جرنیل بنایا جائے گا اور آرمی چیف لگایا جائے گا لیکن معاملے کی حساسیت کی وجہ سے وہ اسے پبلک نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ موجودہ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر سینئر ترین جرنیل ہیں جن کے بعد کور کمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا نمبر آتا ہے جن کا سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ساتھ چکوال کنکشن ہے۔ جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں اس وقت تیسرے نمبر پر چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس موجود ہیں۔ سینئر موسٹ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ماضی میں پہلے ملٹری انٹیلی جنس اور پھر انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہے ہیں، تاہم عمران خان نے وزیراعظم بننے کے بعد انھیں آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا کر اپنے قریبی فیض حمید کو نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کر دیا تھا۔

عاصم منیر کو ہٹائے جانے کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے عمران کو بشریٰ بی بی اور ان کے ساتھیوں کی کرپشن سے آگاہ کیا تھا جس پر خان صاحب ناراض ہوگئے، لیکن اب وہ تمام باتیں ایک ایک کر کے سامنے آرہی ہیں۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے باضابطہ طور پر وزارت دفاع سے ایک دو روز میں رابطہ کیا جائے گا تاکہ آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے اہم ترین عہدوں پر تقرری کیلئے باقاعدہ کارروائی کا آغاز کیا جا سکے۔ وزارت دفاع اس کے بعد تین یا پانچ سینئر ترین تھری اسٹار جرنیلوں کی لسٹ ایک سمری کی صورت میں مجاز اتھارٹی یعنی وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کرے گی تاکہ ان عہدوں پر تقرر کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق سیکریٹری دفاع کی جانب سے سینئر ترین جرنیلوں کے ناموں پر مبنی لسٹ وزیراعظم آفس کو 18؍ یا 19؍ نومبر تک موصول ہو جائے گی جس کے بعد وزیر اعظم دونوں عہدوں پر تقرری کر دیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ زبانی کلامی معاملات پر متعلقہ حکام کے ساتھ بات چیت ہو چکی ہے اور اب دستاویزی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ حکومت ان تقرریوں کے حوالے سے نومبر کے آخری ہفتے تک کا انتظار نہیں کرے گی، کیونکہ تاخیر سے تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کامعاملہ عمران خان کی وجہ سے جس غیر معمولی انداز سے متنازعہ بنا ہوا ہے اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یاد رہے کہ عمران کئی ہفتوں سے آرمی چیف کی تقرری کو اپنے جلسوں میں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ وہ شہباز شریف اور نواز شریف کو نیا فوجی سربراہ لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس مقصد کے لیے ان کا لانگ مارچ بھی اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے جو 20 نومبر کو راولپنڈی پہنچ جائے گا۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف آرمی چیف لگانے کا آئینی اختیار تو رکھتے ہیں لیکن ان کے پاس ایسا کرنے کا اخلاقی جواز نہیں کیونکہ وہ ایک مفرور مجرم نواز شریف کے مشورے سے فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔ عمران یہ بھونڈا الزام بھی عائد کر چکے ہیں کہ شریف برادران اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوا کر اس کے ذریعے مجھے نااہل کروائیں گے۔

اس سے پہلے عمران خان نے جنرل قمر باجوہ سے ایوان صدر میں ایک خفیہ ملاقات کے بعد انکے عہدے میں توسیع کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ نیا آرمی چیف لگانے کا موقع نئی حکومت کو ملنا چاہئے اور اس سے پہلے الیکشن کروائے جائیں۔ عمران نے کہا تھا کہ موجودہ آرمی چیف کو تب تک کیلئے توسیع دے دی جائے جب تک عام انتخابات ہونے کے بعد نئی منتخب حکومت نہیں آ جاتی۔ لیکن وزیراعظم شہباز شریف اور حکمران اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے عمران خان کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ آئین اور قانون کے مطابق آرمی چیف کا تقرر وزیراعظم کا استحقاق ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک مشترکہ دوست کے توسط سے عمران خان نے انہیں رابطہ کیا تھا اور تجویز دی تھی کہ آرمی چیف کے تقرر کیلئے باہمی مشاورت کی جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے عمران خان کی تجویز مسترد کر دی تھی کیونکہ قانون اور آئین وزیراعظم کو ان عہدوں پر تقرر کا اختیار دیتا ہے۔ عمران خان کی مایوسی میں اس وقت اضافہ ہوا جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے واضح اعلان کر دیا۔ اسکے بعداسلام آباد میں حالیہ دنوں میں ایک سکیورٹی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے اعلان کیا کہ وہ مزید توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتے اور وہ نومبر کے آخر تک ریٹائر ہو جائیں گے۔ اس کے بعد فوجی ترجمان نے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ جنرل باجوہ نے اپنے الوداعی دورہ شروع کر دیے ہیں۔

Related Articles

Back to top button