نجم سیٹھی نے عمران کی نااہلی کی پیشگوئی کر دی


معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف پر پابندی لگانا تو مشکل ہو گا لیکن میں عمران خان کے نااہل ہونے کی ابھی سے پیش گوئی کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چھ ہفتوں میں بڑی گیم سامنے آنے والی ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ حکومت رہے گی یا نہیں اور اگلا آرمی چیف کون ہو گا؟

نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینا مجھے مشکل لگتا ہے لیکن جہاں تک بات عمران خان کے پر لگنے والے الزامات کی ہے تو الزامات سنگین ہیں اور انکے خلاف مضبوط کیس ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈالنے کے بعد نواز شریف کو نااہلی کرنے میں 8 ماہ کا عرصہ لگ گیا تھا۔ لیکن پھر انہیں اپنا سعودی اقامہ چھپانے کہ بنیاد پر نااہل کر دیا گیا تھا۔ لیکن اس کیس میں سنایا جانے والا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں تھا بلکہ انصاف کیساتھ زیادتی کی گئی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کرنے کیلئے اب صرف ایک راستہ ہے اور وہ یہ کہ پارلیمنٹ تا حیات نا اہلی کا قانون تبدیل کر دے۔

نجم سیٹھی نے یاد دلایا کہ پاناما کیس کو بنیاد بنا کر عمران کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنے کے بعد تب کے وزیر اعظم نواز شریف کو 8 مہینوں میں ڈس کوالیفائی کر دیا گیا تھا لیکن دوسری جانب انصاف کا دوہرا معیار دیکھئے کہ عمران کے خلاف فارن فنڈنگ کے الزامات پر الیکشن کمیشن میں دائر کردہ کیس کا فیصلہ آنے میں آٹھ برس لگ گے۔ انکا کہنا تھا کہ اب بھی کوئی پتہ نہیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد عمران کے خلاف شروع ہونے والی کارروائی کو مکمل ہونے میں کتنا عرصہ لگتا ہے۔ تاہم حکومت نے نہ صرف تحریک انصاف کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے سہریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ عمران کو نااہل کروانے کے لیے بھی الیکشن کمیشن سے رجوع کر لیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے نواز شریف کے علاوہ جہانگیر ترین اور فیصل واوڈا بھی حقائق چھپانے کی بنا پر نا اہل قرار دیے جا چکے ہیں اس لئے عمران خان کے معاملے میں کوئی مختلف فیصلہ آنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ سپریم کورٹ کیلئے بہت مشکل ہو گا کہ تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کی کرسی پر رہنے والے پاپولر وزیراعظم نواز شریف کو صرف ایک اقامہ ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر نااہل کرنے کے بعد عمران خان جیسے شخص کو نا اہل قرار نہ دے جس کے خلاف الیکشن کمیشن نے واضح طور پر 16 بینک اکاؤنٹس چھپانے کی تصدیق کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ اب اگر عمران بھی نااہل ہو جاتے ہیں تو پھر دونوں پارٹیاں پارلیمنٹ میں بیٹھیں گی اور آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہ رہنے کا قانون تبدیل کریں گی۔ انکا کہنا تھا کہ صادق اور امین والا قانون فوجی ڈکٹیٹر مشرف نے 2002 میں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے بنایا تھا اور اسے ختم کرنا ضروری ہے۔ سیٹھی کا کہنا تھا کہ میں پیش گوئی کررہا ہوں کہ عمران خان اسی قانون کی بنیاد پر نااہل ہو گا لہٰذا تمام جماعتیں بیٹھیں اور اس قانون کو تبدیل کریں تاکہ نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کا بھی خاتمہ ہو سکے۔

ضمنی الیکشن پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے قومی اسمبلی کے 9 حلقوں سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ اب انہیں اپنی پارٹی اور لوگوں پر اعتماد نہیں رہا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ اُڑ جائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان الیکشن لڑ پاتے ہیں یا اس سے پہلے ہی نا اہل قرار پاتے ہیں؟

Related Articles

Back to top button