نعیم الحق کی بنی گالہ میں تدفین کی خواہش کیوں پوری نہ ہوئی؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق ابھی زندہ ہی تھے کہ ان کے حکومتی ساتھیوں نے ان کے سرکاری بنگلے پر قبضے کی جنگ شروع کر دی تھی اور اسی وجہ سے انہیں زبردستی اسلام آباد سے کراچی بھجوا دیا گیا حالانکہ انہوں نے بنی گالہ میں اپنی تدفین کی وصیت کر رکھی تھی۔ تاہم نعیم الحق کو ان کی آخری خواہش کے برعکس بنی گالہ کی بجائے کراچی میں دفن کیا گیا۔
خیال رہے کہ نعیم الحق کا عہدہ وزیرمملکت کے برابر تھا اورانکی رہائش گاہ اسلام آباد کی منسٹرز کالونی کے بنگلہ نمبر 15 میں تھی جس پر قبضے کے لیے کئی حکومتی وزرا کے مابین ان کی زندگی میں ہی سازشوں کا آغاز ہوگیا تھا۔ ڈاکٹرز نے ان کے ساتھیوں کو بتا دیا تھا کہ وزیر مملکت اب چند دنوں کے مہمان ہیں لیکن جب بیماری شدت اختیار کرگئی تو نعیم الحق کی ناقدری کا آغاز ہوا اور پھر روز بروز اس میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
نعیم الحق کراچی نہیں جانا چاہتے تھے اور انہوں نے باقاعدہ وصیت کی تھی کہ موت کے بعد مجھے اسلام آباد دفن کیا جائے۔نعیم الحق نے بنی گالہ کے قبرستان میں اپنے لیے قبر کی جگہ بھی مختص کی تھی لیکن افسوس کے انہیں جن ساتھیوں پر تکیہ تھا انہوں نے وفا نہ کی اور بنی گالہ کے قبرستان میں دفن ہونے کی ان کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق جب یہ طے ہو گیا کہ اب نعیم الحق چند روز کے مہمان ہیں تو ان کے قریبی ساتھیوں نے جن میں وزیر اعظم بھی شامل تھے، ان کو مجبور کیا کہ وہ اپنے آخری دن کراچی میں اپنے بیٹے کے ساتھ گزاریں۔ تاہم نعیم الحق نے اپنے ساتھیوں سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ان کے انتقال کی صورت میں ان کی میت کو اسلام آباد لاکر بنی گالہ کے قبرستان میں تدفین کی جائے گی۔ اس یقین دکھانی پر نعیم الحق کے بیٹے سے کہا گیا کہ وہ آکر اپنے والد کو اسلام آباد سے کراچی لے جائیں۔ تاہم نعیم الحق کے بیٹے امان الحق نے رابطہ کرنے والوں کو بتایا کہ وہ پچھلے کئی مہینوں سے اپنے والد کو اسلام آباد لے جانے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ان کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے آخری دن اسلام آباد میں گزارنا چاہتے ہیں جہاں وہ پچھلے کئی برسوں سے رہائش پذیر ہین۔
ذرائع کا کہنا یے کہ نعیم الحق سے جان چھڑوانے اورانہیں کراچی بھجوانے میں اتنی پھرتی ان حکومتی وزرا نے دکھائی جو نعیم کے سرکاری بنگلے پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق کینسر سے طویل جنگ لڑنے کے بعد 15 فروری کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ نعیم الحق اسلام آباد میں مقیم تھے اور طبیعت مزید خراب ہونے پر اسلام آباد سے کراچی آئے تھے۔ کاچی پہنچنے کے اگلے روز ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی تھی جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک نجی اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتقال کر گئے۔ نعیم الحق پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سب سے متحرک رہنما تھے.انہیں وزیراعظم عمران خان قریبی ترین ساتھی بھی سمجھا جاتا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button