نواز کو صدارت سے ہٹوانے والے عمران مکافات عمل کا شکار

ماضی میں سپریم کورٹ کے ذریعے نواز شریف کو نون لیگ کی صدارت سے ہٹوانے والے عمران خان اب مکافات عمل کا شکار ہونے جا رہے ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توشہ خانہ کیس میں انہیں آرٹیکل 63 ون پی کے تحت جھوٹے بیانات اور غلط ڈیکلیئرشن جمع کرنے پر نااہل قرار دیے جانے کے بعد تحریک انصاف کی سربراہی سے ہٹانے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سابق وزیر اعظم کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور کیس کی سماعت 13 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اقامہ رکھنے پر نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد عمران خان نے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ جو شخص صادق اور امین نہیں رہتا وہ پارٹی صدارت کا بھی اہل نہیں رہتا۔ چنانچہ فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد شہباز شریف کو نون لیگ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن اسی فارمولے کے تحت عمران کے مستقبل کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے لہذا دیکھنا یہ ہے کہ ان کی جگہ شاہ محمود قریشی نئے پارٹی سربراہ بنیں گے یا کوئی اور ان کی جگہ لے گا۔

 

خیال رہے کہ عمران خان نے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت سپریم کورٹ میں درخواست ڈال کر پہلے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل کروایا تھا اور پھر پارٹی صدارت سے محروم کروایا تھا۔ قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہلی کے فیصلے کے بعد عمران خان صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے پارٹی کی صدارت سے بھی محروم ہونے جا رہے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے رکن عرفان قادر کا کہنا ہے کہ عمران آئین کی شق 63 ون ایف کی رو سے صادق و امین نہیں رہے۔ ایسے میں موصوف پارٹی کی سربراہی سے بھی فارغ ہو جائیں گے جیسا کہ نواز شریف کے ساتھ ہوا تھا۔

 

یاد رہے کہ فروری 2018 میں عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی دفعہ 62، 63 پر پورا نہ اترنے والا نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کی صدارت نہیں کرسکتا۔ فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف مسلم لیگ نواز کی صدارت کے لیے نااہل ہوگئے تھے جنہیں پاناما کیس کے فیصلے میں آئین کی دفعہ 62، 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔ عمران خان نے نواز شریف کی نااہلی اور صدارت سے فراغت کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا تھا۔

 

نواز شریف کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ پارٹی سربراہ کا کردار داغدار ہو تو پوری جماعت داغدار ہوجائے گی، انہوں نے کہا تھا کہ نااہل شخص کو پارٹی سربراہی کے لیے کسی دوسرے شخص کا حق نہیں چھینا چاہیے جب کہ اہل افراد کو نااہل شخص کے زیر قیادت نہیں ہونا چاہیے۔  تب کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 5 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن ایکٹ کی شق 203 اور 232 کو آرٹیکل 62 اور63 اے کے ساتھ پڑھا جائے گا، آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اہلیت نہ رکھنے والا شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔ ایسا شخص آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی سربراہ یا کسی حیثیت میں کام نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے بطور مسلم لیگ نواز کے صدر تمام اقدامات، احکامات اور ہدایات کالعدم قرار دی گئیں۔

 

اس کے علاوہ نواز شریف کے 28 جولائی 2017 کی نااہلی کے بعد بطور پارٹی سربراہ ان کی جانب سے جاری کردہ تمام احکامات بھی کالعدم قرار دے دیے گئے تھے جبکہ ان کی طرف سے بطور پارٹی سربراہ جاری دستاویزات بھی کالعدم دے دی گئیں۔ سپریم کورٹ نے تب یہ حکم بھی دیا کہ الیکشن کمیشن نواز شریف کا نام بطور پارٹی صدر مسلم لیگ ن کے ریکارڈ سے ہٹا دے۔ تاہم اب عمران خان اپنے ہی بچھائے ہوئے جال کی زد میں آ گئے ہیں۔

Related Articles

Back to top button