نیب کا آٹا اورچینی سکینڈلز پرسخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

قومی احتساب بیورو (نیب) نے آٹا اور چینی اسکینڈلز پر بھرپور، آزادانہ اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق آٹا اور چینی پرائم میگا اسکینڈلز ہیں اس لیے قانونی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کی ڈکیتی پر نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر سکتا اس لیے نیب نے آٹا چینی اسکینڈل میں بھرپور، آزادانہ اور قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیب آرڈیننس کی وجہ سے سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے نیب کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے حکومت کی طرف سے ایف آئی اے سے یہ کیس لے کر نیب کے حوالے کرنے کے بعد اربوں روپے کی اس ڈکیتی پر نیب اب خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کر ے گا، کیس نیب کے پاس آنے کے بعد اسکینڈل میں ملوث افراد کو نیب قانون کی گرفت میں لا سکے گا۔چیئرمین نیب نے آٹا چینی اسکینڈل کی انکوائری ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کو تفویض کردی، ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی کو ایک مہینے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کردی۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔
چینی بحران کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی اور جہانگیر ترین سے بھی پنجاب میں زراعت کی بہتری کے لیے دیا گیا ٹاسک واپس لے لیا۔
اپوزیشن کی جانب سے چینی بحران پر وزیراعظم عمران خان اور نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ اتنے بڑے اسکینڈلز کی تحقیقاتی رپورٹس منظر عام پر آنے کے باوجود حکومتی اراکین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا جب کہ اپوزیشن کے خلاف ابتدائی تحقیقات پر ہی ایکشن لے لیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں قومی اقتصادی کمیٹی نے ملک میں چینی کی اضافی پیداوار کے بعد شوگر ملز مالکان کو 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ قومی اقتصادی کمیٹی کے اس فیصلے کی توثیق وفاقی کابینہ نے دی تھی۔ ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن نے چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق اپنی رپورٹ کو گذشتہ ہفتے حکومت کو بھجوا دی تھی تاہم حکومت نے اس معاملے کا فرانزک آڈٹ کروانے کا فیصلہ کیا جس کی حتمی رپورٹ 25 اپریل تک متوقع ہے۔ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرون ممالک چینی برآمد کرنے کی مد میں پنجاب حکومت کی طرف سے شوگر ملز مالکان کو جو تین ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تھی اس میں زیادہ فائدہ پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اُٹھایا ہے۔جہانگیر ترین چھ شوگر ملز کے مالک ہیں اور رپورٹ کے مطابق اُنھوں نے سبسڈی کی مد میں 56 کروڑ روپے لیے تھے۔اس کے علاوہ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر مل کو بھی 35 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی۔ اس سب کے باوجود چینی باہر چلی گئی اور ملک میں اسکی قلت پیدا ہو گئی۔ نتیجے میں اسکی قیمت بڑھی اور یہ 55 روپے سے 80 روپے کلو گرام ہو گئی۔ یوں شوگر مافیا نے 87 ارب روپے کما لیے۔ یاد رہے کہ جہانگیر ترین کے پاس مارکیٹ کا 20 فیصد اور خسرو بختیار کے پاس 15 فیصد شیئر ہے لہٰذا 87 ارب کا 35 فیصد ان دونوں کی جیب میں چلا گیا اور باقی حصہ ان کے دوستوں اور دوسرے سیاست دانوں کی جیب میں جا گرا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button