نیوٹرلز نے اپنے ہاتھوں سے تراشا بت توڑنا شروع کر دیا


پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر 2018 کے دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آنے والے عمران خان کے گرد گھیرا تنگ ہونے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیوٹرلز اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو توڑنا اچھی طرح جانتے ہیں اور کوئی بھی بت کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اقتدار سے نکالے جانے کے بعد امریکی سازش کا بیانیہ اپنا کر اپنی 4 سالہ حکومتی ناکامیوں کو چھپانے میں کافی حد تک کامیاب رہے اور اپنا سیاسی عروج بھی دیکھ لیا۔ اس سے اوپر اب انہیں اگلے الیکشن کے نتائج ہی لے جا سکتے ہیں جن کے نتیجے میں وہ دوبارہ اقتدار میں آجائیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی امریکہ بیانیے کے بعد وہ بطور حکمران اندرون اور بیرون ملک فیصلہ سازوں کو کسی صورت قابل قبول نہیں رہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کے بعد قرائن بتا رہے ہیں کہ شاید اگلے سال ہونے والے الیکشن سے پہلے ہی عمران خان کو بھی نواز شریف کی طرح عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دے کر ان کا مکو ٹھپ دیا جائے اور انہیں سیاست سے باہر کر دیا جائے۔

نیا دور کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سینئر صحافی اور تجزیہ کار علی وارثی کہتے ہیں کہ مکافات عمل کا اصول بڑا واضح ہے۔ مسلم لیگ ن کے ساتھ پچھلے چار برس میں ہوئی زیادتیوں کے بعد اب اسکی قیادت نہ تو رحم دلی دکھانے کے موڈ میں ہے، اورنہ ہی کسی نیک چال چلن کی گارنٹی ماننے کو تیار ہے۔ اب لیگی قیادت بھی جیسے کو تیسا کے اصول کے تحت ویسا ہی گندا کھیل کھیلنے کے لئے تیار دکھائی دیتی ہے جیسا اس کے ساتھ عمران خان کھیل چکے ہیں۔ اسی لیے اب عمران پہلی مرتبہ بیک فٹ پر نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ بیانیہ کہ وہ سپریم کورٹ سے سرٹیفائیڈ صادق و امین ہیں اور باقی سب سیاستدان کرپٹ اور چور ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد منہ کے بل جا گرا ہے۔ پہلے موصوف اپنے سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو قرار دیتے تھے اور اب یہی الزامات عمران خان پر لگ رہے ہیں۔ پہلے خان صاحب پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت پر الزام لگاتے تھے لیکن اب انہیں خود اپنے دفاع میں صفائیاں دینا پڑ رہی ہیں۔ علی وارثی کا کہنا ہے کہ 8 سال کے طویل انتظار کے بعد جاری ہونے والا الیکشن کمیشن کا فیصلہ کپتان کی سیاست کا تیاپانچا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس فیصلے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ کمیشن نے عمران کو نااہل نہیں قرار دیا۔ ڈائیلاگ بازی کی کوشش بھی نہیں کی۔ سپریم کورٹ کے ججوں کی طرح الیکشن کمشنر نے اپنی ذاتی آرا، خلیل جبران کی نثر، اور ماریو پوزو کے ناول سے دلائل مستعار نہیں لیے گئے، نواز شریف کیس کے فیصلے کی طرح بلیک لا ڈکشنری کا سہارا بھی نہیں لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیصلہ سنانے کے بعد بھی صرف اظہارِ وجوہ کا نوٹس کیا گیا ہے کہ آپ اپنا دفاع پیش کریں ورنہ آپ کے بینک اکاؤنٹس میں موجود ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرلی جائے گی۔

نتیجہ یہ ہے کہ عمران خان کو ایک بار پھر خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا یہ کہنا کہ یہ فنڈنگ غیر ملکیوں سے نہیں بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے لی گئی ہے، ایک بھونڈا مذاق ہے جس پر ان کی اپنی جماعت کے سپورٹر بھی اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ رومیتا شیٹی، اندرجیت دوسانجھ، شیخ النہیان اور بیری شنیپس یقیناً پاکستانی شہری نہیں۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ کمپنیز سے پیسے نہ لینے کا قانون 2017 میں بنا، یہ بھی درست نہیں ہے۔ کمپنیز سے امداد نہ لینے کا قانون 2002 سے موجود ہے۔ اپنی ایک تقریر میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ”‏ام حریم کو یہ تو پتہ چل گیا کہ عارف نقوی نے دبئی اور انگلینڈ سے 2 ملین ہمارے لئے اکٹھے کیے لیکن ام حریم کو یہ پتہ نہیں چلا کہ نواز شریف کو عارف نقوی نے 20 ملین دیے“۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے تھا ہی نہیں۔ الیکشن کمیشن کے سامنے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کا کیس تھا اور یہ بحث لغو ہے کہ اگر ہمیں فنڈنگ ہوئی ہے تو ہمارے مخالف کو ہمارے سے بھی زیادہ ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کو اپنا جواب دینا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ن لیگ کو عارف نقوی کی جانب سے پیسے دیے جانے کا معاملہ پہلی مرتبہ حال ہی میں فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں سامنے آیا اور ن لیگ کی جانب سے اس کی تردید کر دی گئی۔ جب شاہزیب خانزادہ کے ساتھ انٹرویو کے دوران یہ خبر رپورٹ کرنے والے سائمن کلارک سے پوچھا گیا کہ کیا عارف نقوی کی جانب سے شریف برادران کو ایسی کوئی رقم دی گئی تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے۔ لہذا عمران خان کا شریف برادران پر عارف نقوی سے رقم لینے کا الزام درست دکھائی نہیں دیتا۔

علی وارثی کہتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف فیصلہ فنانشل ٹائمز کی خبر میں سامنے آنے والے حقائق پر نہیں، بلکہ اس سے کہیں پہلے جمع کروائی گئی دستاویزات کی بنیاد پر دیا گیا ہے جن پر آٹھ سال تک تحقیق ہوئی۔ مختصر یہ کہ عمران خان الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد سے اپنے دفاع میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ سرے سے ہی جھوٹ ہے۔ انہیں اس فیصلے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی ایک جواز میسر نہیں آ رہا۔ ایسے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان نے جس قانون کو بنیاد بنا کر میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہل کروایا تھا اب وہی قانون ان کا سیاسی مستقبل تاریک کرنے جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button