پرویز الٰہٰی کی 50 پولیس افسران کے خلاف انتقامی کاروائیاں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ کی جانب سے حمزہ شہباز کی جگہ وزیر اعلیٰ پنجاب بنائے جانے والے چوہدری پرویز الہٰی اقتدار میں آنے کے بعد سے چن چن کر ایسے پولیس افسران کو عہدوں سے ہٹا کر کھڈے لائن لگا رہے ہیں جنہیں پچھلی حکومت نے تعینات کیا تھا اور جنہوں نے عمران خان کا 25 مئی کا لانگ مارچ ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد پرویزالٰہٰی اب تک پنجاب پولیس کے پچاس سینئر افسران کے خلاف کارروائی کر چکے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے لاہور پولیس کی قیادت کو تبدیل کیا۔ سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو ہٹا کر غلام محمود ڈوگر کو پولیس چیف لگا دیا گیا۔ اسی طرح ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سہیل چودھری کو ہٹا کر ان کا تبادلہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں کر دیا گیا۔
اس دوران عمران خان کے زبان دراز چیف آف سٹاف شہباز گل نے سہیل چودھری کی تصویر لگا کر ٹویٹ کیا کہ ’جس طرح اس پولیس آفیسر نے غیرقانونی احکامات مانے وہ قابل شرم فعل تھا۔ انہوں نے لکھا کہ تحریک انصاف ان اقدامات کو نہیں بھولے گی اور قانون ایسے افسران کے خلاف اپنا راستہ بنائے گا۔ اس ٹویٹ کے بعد سہیل چودھری کو سی ٹی ڈی سے ہٹا کر صوبہ بدر کر دیا گیا اور ان کی خدمات وفاق کے حوالے کر دی گئیں۔
چنانچہ عمرانڈو شہباز گل نے دوبارہ سہیل کے صوبہ بدری کا نوٹیفیکیشن لگا کر ٹویٹ کیا کہ ’اب ان کا احتساب ہوگا جنہوں نے عورتوں، بچوں اور وکلا پر تشدد کیا۔ یہ ابھی پہلا سٹیپ ہے، اب قانون اپنا راستہ بنائے گا۔ خان 25 مئی بھولا نہیں اور نہ بھولے گا۔
لیکن اردو نیوز کے مطابق سہیل چودھری پر ہی بس نہیں کیا گیا۔ شہباز گل کو 17 جولائی کے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے حکم پر حراست میں لینے والے ڈی پی او مظفر گڑھ کیپٹن ریٹائرڈ طارق ولایت اور ایس پی انویسٹی گیشن ضیا اللہ کو بھی عہدوں سے ہٹا کر سینٹرل پولیس آفس میں رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے بتایا کہ تحریک انصاف نے کُل 30 افسران کی فہرست تیار کر رکھی ہے جو ان کے خیال میں 25 مئی کا لانگ مارچ روکنے کے ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’وزیراعلٰی پرویز الٰہٰی نے نئے آئی جی فیصل شاہکار کو ان افسران نے خلاف تادیبی کارروائی کا کہا تو آئی جی نے بتایا کہ اس طریقے سے فورس کا مورال ڈوان ہو گا۔ انہوں نے سہیل چودھری کو صوبہ بدر نہ کرنے پر وزیر اعلٰی کو قائل بھی کر لیا تھا لیکن بعد میں صورت حال بدل گئی۔ اب تک پی ٹی آئی کی فہرست میں سے 50 فیصد افسران کے تبادلے کیے جا چکے ہیں جبکہ محرم کی وجہ سے باقی تبادلے روکے گئے ہیں۔ تاہم لگ یہی رہا ہے کہ محرم کے بعد باقی افسران کو بھی ہٹایا جائے گا۔
تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کا کہنا ہے کہ پولیس کو سیاسی جماعتوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے، ہم ان افسران کو ایک مثال بنا دیں گے جنہوں نے 25 مئی کو بے قصور افراد پر تشدد کیا۔ ایک ایک پولیس افسر کا چہرہ ہمیں یاد ہے جنہوں نے ایک غیرقانونی حکومت کے احکامات مانے اور قانون کی خلاف ورزی کی۔ ہمارے کارکنان کا یہ پُرزور مطالبہ ہے اور ہم اب اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ دوسری طرف اس وقت کے پنجاب کے وزیر داخلہ عطاللہ تارڑ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کا پولیس کے افسران کے خلاف اس طرح کارروائی کرنا ایک خطرناک رویہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پولیس نے وہی کیا جو انہیں اس وقت کی حکومت نے پالیسی کے مطابق حکم دیا اور ہم نے شرپسندوں کو وفاق پر چڑھائی کرنے سے روکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں کروائیں۔ اگر مقدمے بھی درج ہوئے ہیں تو وہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر درج کیے گئے۔ اب حکومت ان کے پاس ہے تو دیکھیں انہوں نے کس طرح نذیر چوہان اور ان کے بیٹے کو گرفتار کروا کر ان پر تشدد کروایا ہے۔ وہ تو کیمروں میں بھی ریکارڈ ہے۔ یہ ایک فاشسٹ جماعت ہے۔
پولیس میں حالیہ اکھاڑ پچھاڑ بات کرتے ہوئے سابق آئی جی پنجاب خواجہ خالد فاروق کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی بنایا جا رہا ہے جو کہ درست رجحان نہیں۔ انکا۔کہنا تھا کہ تبادلے کرنا یا اپنی ٹیم بنانا ایک نارمل کام ہے لیکن پولیس افسروں کو انتقام کا نشانہ بنانا یا پھر یہ کہنا کہ فلاں افسر فلاں جماعت کا ہے یا فلاں افسر دوسری جماعت کا ہے تو میرے خیال میں یہ رویہ درست نہیں، اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے بقول پولیس ایک پروفیشنل فورس ہے اور اسے مزید پروفیشنل بنانے کی طرف کام کرنا چاہئے، سابق آئی جی شوکت جاوید بھی سمجھتے ہیں کہ پولیس افسران کے خلاف سوشل میڈیا پر کیمپین چلانا ایک درست عمل نہیں۔ یہ ایک ڈسپلنڈ فورس ہے اگر کسی کو کسی بھی افسر کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کا سسٹم کے اندر ہی ایک طریقہ کار موجود ہے، اس کو فالو کرنا چاہئے۔

Related Articles

Back to top button