پرویز الٰہی نے عدالتی حکم کے باوجود نیا گند ڈال دیا


لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح احکامات کے باوجود اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے دوبارہ سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی شروع کر دی ہے۔ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود کے پنجاب اسمبلی کا اگلا سیشن ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیرصدارت ہوگا، پرویز الہی نے 5 جولائی کے روز وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی منصوبہ بندی کے لیے پنجاب اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس اپنی زیر صدارت طلب کر لیا چنانچہ حکومتی نمائندوں نے اس کا بائیکاٹ کیا۔

حکمران اتحاد کا دعویٰ ہے کہ یکم جولائی کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں ڈپٹی اسپیکر کو اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن کا اصرار ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا امیدوار ہونے کے باوجود عدالت نے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کو اپنا عہدہ برقرار رکھنے اور ایوان کی کارروائی چلانے کی اجازت دی ہے۔ یعنی سپریم کورٹ کے فیصلے کی دونوں فریق الگ الگ تشریح کر رہے ہیں، یاد رہے کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’’جس اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے رائے شماری ہوگی اس کی صدارت اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کریں گے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ایک ہفتے کے اندر تمام قانونی اور ضابطہ کار کو پورا کرنے کے بعد اس سلسلے میں اجلاس بلانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

چنانچہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ اسپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 22 جولائی کو ہونے والے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا ضابطہ اخلاق طے کرنے کے لیے کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔ لیکن اجلاس میں مدعو کیے گئے افراد میں شامل حکمران مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے خلیل طاہر سندھو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اجلاس کا بائیکاٹ اس۔لیے کیا کیونکہ یہ غیر قانونی تھا اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی تھا، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ ٹاسک ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو سونپا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوست مزاری کو اجلاس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ لیکن اپوزیشن والے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق دوست محمد مزاری، صوبائی وزرا سید حسن مرتضیٰ، سردار اویس لغاری، ملک احمد خان، اپوزیشن لیڈر سبطین خان، بشارت راجا، چوہدری ظہیر، پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر میاں محمود الرشید، مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ملک ندیم کامران اور خلیل طاہر سندھو کو اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضیٰ کے مطابق انہوں نے ایڈوائزری کمیٹی کا بائیکاٹ کیا کیونکہ وہ اسپیکر کے طرز عمل کی وجہ سے پرویز الٰہی کو ایوان کا نگراں نہیں سمجھتے، انکا کہنا تھا کہ پرویز الٰہی قانونی لحاظ سے اسمبلی کے اسپیکر ہو سکتے ہیں لیکن 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ہونے والے انتخابات کے دوران ان کے آمرانہ طرز عمل کو دیکھ کر میں بالکل نہیں سمجھتا کہ وہ ایوان کے حقیقی نگران ہونے کے قابل ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کے سابق وزیر قانون اور پی ٹی آئی ایم پی اے راجہ بشارت نے کہا ہے کہ انہوں نے حمزہ شہباز کو 22 جولائی تک وزیر اعلیٰ کے طور پر قبول کیا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسپیکر کے اختیارات الیکشن تک پرویز الٰہی کے پاس ہیں، تاہم یاد رہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے حمزہ شہباز کے مدمقابل امیدوار ہیں۔راجہ بشارت نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمیٹی کے اجلاس میں شامل نہ ہونے پر وہ حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس معاملے پر سپیکر پرویز الہیٰ کا کہنا ہے کہ قانونی ٹیم جلد اس معاملے پر عدالت سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سبطین خان کو آئندہ ضمنی انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کے مقامی دفتر کو درخواست بھیجنے کی تجویز بھی دی۔

دوسری جانب اسمبلی سیکریٹریٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیکر نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا 40واں اجلاس 22 جولائی کو شام 4 بجے طلب کرلیا ہے۔ یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ 5 جولائی کی شام ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے 22 جولائی کو اسمبلی اجلاس بلانے کا الگ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 22 جولائی کے اجلاس کی صدارت دوست محمد مزاری نے کرنی ہے۔ ہنجاب اسمبلی کے قائم قائم مقام سیکرٹری عامر حبیب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ دوست محمد مزاری نے 30 جون کے لاہور ہائی کورٹ اور یکم جولائی کے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ قدم اٹھایا ہے۔ لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ پیش رفت بھی ان واقعات کی عکاسی کرتی ہے جو گزشتہ ماہ دیکھے گئے جب پرویز الٰہی نے پنجاب حکومت کو صوبائی بجٹ ایوان میں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد گورنر کے جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے اجلاس کو ملتوی کرنے کرکے ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس بلایا گیا۔ گورنر کی جانب سے اجلاس طلب کیے جانے کے بعد سپیکر نے اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کی ریکوزیشن پر نیا اجلاس بھی طلب کر لیا اور دونوں اجلاسوں کی کارروائی ساتھ ساتھ متوازی چلائی گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں جو نیا ڈیڈلاک پیدا ہوا ہے اس کے خاتمے کے لیے عدالت کیا راستہ طے کرتی ہے۔

Related Articles

Back to top button