پنجاب اسمبلی،6کھرب 17ارب 25کروڑ سے زائد کا بجٹ منظور

اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران پنجاب اسمبلی نے 6 کھرب 17ارب 25کروڑ 19 لاکھ 43ہزار روپے کاضمنی بجٹ منظور کر لیا۔

پنجاب اسمبلی کا ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت اجلاس ایک گھنٹہ55 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، ایوان نے چھ سو سترہ ارب روپے سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور کرلیا، اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ عروج پر رہا۔

وزیر خزانہ نے اپوزیشن کے تحفظات دور کرتے ہوئے بتایا کہ 208ارب روپے کے جس بجٹ پر اپوزیشن واویلا کررہی ہے یہ بجٹ گندم کی مد میں استعمال کیاگیا ہر بجٹ کا آڈٹ ہوتا ہے پرویز الٰہی دور کا بھی آڈٹ ہوا اسی لئے تو وہ جیل میں ہیں، اپوزیشن لیڈر نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چئیرمین بننا ہے تو جس آڈٹ کا مطالبہ کررہے ہیں وہاں آڈٹ کروا لیں،اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر کاکہناتھاکہ تمام ضمنی بجٹ کا آڈٹ ہونا چاہئے، اپوزیشن ارکان ریلیز قیدی 804کے پوسٹر ایوان میں لے آئے اور مائیک اور نشستوں پر چسپاں کردئیے، اپوزیشن رکن شیخ امتیاز کے ریمارکس پر ایوان میں شور شرابا برپا ہوگیا،

حکومتی رکن شوکت بھٹی نے بھی جوابی طور پر اپوزیشن پر وار کئے ان کاکہناتھاکہ اٹک جیل میں بانی پی ٹی آئی کا قیدی نمبر 804تھا لیکن اب اڈیالہ جیل میں یہ نمبر 420ہے،جس پر اپوزیشن ارکان سیٹوں پر کھڑے ہوگئے اور دونوں جانب سے نعرے بازی شروع ہوگئی۔

وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ کی منظوری کے اسمبلی ملازمین کو روایات کے مطابق ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور اعزازیہ دینے کااعلان کیا، ایجنڈے کی کارروائی مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر نے اعلان شدہ شیڈول سے ایک روز پہلے پنجاب اسمبلی کااجلاس غیر معینہ مدت کےلئے ملتوی کردیا۔

Related Articles

Back to top button