پنجاب کے ضمنی الیکشن اگلی سیاست کا فیصلہ کیوں کریں گے؟


17 جولائی کو پنجاب اسمبلی کی خالی کردہ 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن اس حوالے سے اہم ہیں کہ وہ نہ صرف پنجاب کی اگلی حکومت بلکہ صوبے کی مستقبل کی سیاست کا بھی تعین کریں گے۔ اگر ضمنی الیکشن میں اکثریتی سیٹوں پر نواز لیگ جیت جاتی ہے تو نہ صرف حمزہ شہباز اگلے انتخابات تک وزیراعلیٰ رہیں گے بلکہ اگلے الیکشن میں بھی یہ ٹیمپو برقرار رہنے کا امکان ہو گا۔ لیکن اگر ضمنی الیکشن میں نون لیگ ناکام ہوتی ہے تو نہ صرف حمزہ حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا بلکہ ان نتائج کے اثرات الیکشن 2023 میں بھی نظر آئیں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت پنجاب کے ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستیں کم و بیش برابر ہیں جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات اور بھی اہم ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے کسی ایک فریق کے اراکین کی تعداد واضح اکثریت میں بدل سکتی ہے۔
پنجاب میں عام انتخابات سے پہلے صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب کا معرکہ حکومت اور اپوزیشن کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے اور ان دنوں دونوں طرف سے کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ حمزہ شہباز کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ 15 سے 16 صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی جبکہ اپوزیشن 12 سے 13 نشستوں پر کامیابی کے یقین کا اظہار کر رہی ہے۔ تاہم کون کتنی نشستوں پر کامیاب ہوگا اس کا حتمی فیصلہ 17 جولائی کو ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ ضمنی انتخابات اب اسمبلی کی خالی سیٹوں کر بھرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ بیانیے اور کارکردگی کی جنگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی نے اپنے ہیوی ویٹس کے ساتھ ساتھ اس بار کچھ نئے چہروں کو بھی میدان میں اترا ہے، جبکہ حکومتی اتحاد نے ایسے امیدواروں کو ٹکٹ دی ہے جو پچھلے انتخابات میں کامیاب ہو کر ہی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ پی ٹی آئی وفاق کی طرح پنجاب میں بھی حکومت تبدیلی کو امریکی سازش سے منسوب کرتی ہے۔ جماعت کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کہہ چکے ہیں کہ اگر پنجاب میں انہیں زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تو صوبائی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی کیونکہ پی ٹی آئی ملک بھر میں جلد از جلد نئے انتخابات کا مطالبہ کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب کی رہنما مسرت جمشید نےبتایا کہ اس بار ان کی پارٹی نے منحرف الیکٹیبل اراکین کا حالیہ تنازع مدنظر رکھتے ہوئے پارٹی کے وفادار ساتھیوں کو ٹکٹیں تقسیم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 12 سے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی کیونکہ موجودہ حکومت نے ’مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے، غریب کا زندہ رہنا مشکل ہوچکا ہے اور پھر موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کیسز بھی ابھی عدالتوں میں چل رہے ہیں۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ لوگ سابقہ صوبائی حکومت میں ’بدعنوانی اور بری گورننس سے لوگ متنفر ہو چکے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عوام مسلم لیگ ن کی حکومت چاہتے ہیں اور اس کی قیادت کی کارکردگی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ویسے تو ہماری پوزیشن سب حلقوں میں بہتر ہے مگر 20 میں سے 15 سے 16  سیٹوں پر ہمارے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔‘ ان کے بقول پی ٹی آئی کے منحرف ارکان آزاد حیثیت سے پچھلے انتخابات میں جیتے تھے، تو اس بار بھی امکان ہے کہ وہ ن لیگ کے ٹکٹ پر بھی کامیاب ہوں گے۔

یاد رہے کہ پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر انتخابات میں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور تحریک لبیک پا کے امیدواروں سمیت آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ حکومتی حکمت عملی کے مطابق انہی امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں کو ٹکٹ جاری ہوئے ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی سے انحراف کر کے پی ڈی ایم امیدوار حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا ووٹ دیا تھا اور الیکشن کمیشن نے فلور کراسنگ پر انہیں ڈی سیٹ کیا تھا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اپنے پرانے یا ہیوی ویٹ امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ پی پی 7 راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن اسمبلی راجہ صغیر ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) شبیر اعوان ہوں گے، جنہوں نے  2011 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

پی پی 83 خوشاب میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک غلام رسول کے بھائی امیر حیدر سنگھا ن لیگ کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل ایم این اے عمر اسلم کے چھوٹے بھائی حسن اسلم سیاسی اکھاڑے میں اتریں گے۔ حسن اسلم پہلی بار انتخابی سیاست کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

پی پی 90 بھکر میں تحریک انصاف کے منحرف رکن اسمبلی سعید اکبر خان نوانی ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلے میں پی ٹی آئی نے ن لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری عرفان اللہ نیازی کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ عرفان اللہ نیازی کے بڑے بھائی مرحوم نجیب اللہ خان اور دوسرے بھائی انعام اللہ خان دونوں ن لیگ کے کے ایم پی اے رہ چکے ہیں۔

پی پی97 فیصل آباد میں سابق صوبائی وزیر محمد اجمل چیمہ ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، جبکہ ان کے مدمقابل سابق سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد افضل ساہی کے صاحبزادے علی افضل ساہی ایک بار پھر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔

پی پی 125 جھنگ میں پی ٹی آئی کے منحرف امیدوار فیصل حیات جبوانہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے یہاں 2018 انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر میاں محمد اعظم چیلہ کو ایک بار پھر انتخابی ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی127 جھنگ میں منحرف سابق رکن صوبائی اسمبلی مہر محمد اسلم بھروانہ کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ جاری کیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے 2018  انتخابات کے ٹکٹ ہولڈر مہر محمد نواز بھروانہ کو ہی ن لیگ کے مدمقابل اتارا ہے۔

پی پی 140 شیخوپورہ میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن میاں خالد محمود ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے خرم شہزاد ورک ہیں، جو وکلا کی سیاست میں سرگرم اور ضلعی بار کے صدر ہیں۔

پی پی 158 لاہور میں عبد العلیم خان نے گذشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی مگر ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو ن لیگ ٹکٹ جاری کرے گی جبکہ پی ٹی آئی نے میاں محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان کو ٹکٹ جاری کر دیا ہے۔

پی پی 167 لاہور میں تحریک انصاف کے منحرف رکن نذیر احمد چوہان مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے شبیر گجر ہوں گے۔

پی پی 168 لاہور میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن ملک اسد علی کھوکھر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے جبکہ تحریک انصاف نے ملک نواز اعوان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی 170  لاہور میں مسلم لیگ ن نے ترین گروپ کے نامزد امیدوار عون چوہدری کے بھائی محمد امین ذوالقرنین کو ٹکٹ جاری کیا ہے اور ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ابھی تک کسی امیدوار کا نام فائنل نہیں کیا۔

پی پی 202 ساہیوال میں پی ٹی آئی کے منحرف سابق رکن پنجاب اسمبلی ملک نعمان لنگڑیال ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے میجر(ر) غلام سرور کو ٹکٹ دیا ہے۔

پی پی 217 ملتان میں پی ٹی آئی کے منحرف ایم پی اے محمد سلیمان نعیم ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں ۔ان کے مدمقابل سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے ایم این اے زین قریشی پی ٹی آئی کے امیدوار ہیں۔

پی پی 224  لودھراں میں تحریک انصاف کے منحرف رکن صوبائی اسمبلی زوار حسین وڑائچ، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف نے ن لیگ کے 2018 کے انتخاب کے ٹکٹ ہولڈر عامر اقبال شاہ کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

پی پی 228  لودھراں میں منحرف رکن اسمبلی نذیر احمد بلوچ ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں اتریں گے۔

پی پی 237 بہاولنگر میں منحرف سابق رکن اسمبلی فدا حسین مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے آفتاب محمود، سردار محمد اقبال اور سید افتاب رضا کے ناموں پر مشاورت جاری ہے۔

پی پی 272 مظفر گڑھ میں رکن قومی اسمبلی باسط سلطان بخاری کی اہلیہ زہرہ باسط سلطان بخاری مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے مدمقابل سابق رکن قومی اسمبلی محمد معظم علی جتوئی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر امیدوار ہوں گے۔

 پی پی 273 مظفر گڑھ میں منحرف سابق رکن اسمبلی محمد سبطین رضا مسلم لیگ ن کے امیدوار ہوں گے، جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار یاسر عرفات خان جتوئی ہوں گے۔

پی پی 288 ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ ن کے سابق ضلعی ناظم اور موجودہ ایم این اے امجد فاروق خان کھوسہ کے صاحبزادے عبد القادر خان کھوسہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار سیف الدین کھوسہ ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button