چھت پر چڑھے ہوئے عمران اب چھلانگ کیوں نہیں لگا رہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی اب ان کے گلے پڑتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ نہ تو وہ خود اور نہ ہی انکے دونوں وزرائے اعلیٰ ایسا کرنے کے موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اب صورت حال کچھ یوں ہے کہ دونوں اسمبلیاں توڑنے کی دھمکی کا دباؤ لینے کی بجائے وفاقی حکومت کے وزرا مسلسل عمران کو اپنے اعلان پر عمل کرنے کے لئے اکسا رہے ہیں۔ وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے پی ٹی آئی کے چیئرمین کو وہ دیوانہ قرار دیا ہے جو خود کشی کی دھمکی دینے کے بعد چھت پر تو چڑھ چکا ہے لیکن چھلانگ لگانے کی ہمت نہیں کر پا رہا اور اس کی کوشش ہے کہ محلے دار اس کو روک لیں۔

 

اس دوران ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ پرویز الٰہی اور عمران خان کے مابین پنجاب اسمبلی توڑنے پر اختلافات ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ترجمان اعلان کر چکے ہیں کہ پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل ہو گی اور پھر خیبر پختون خوا کی باری آئے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگلے روز ایک انٹرویو میں پرویز الٰہی نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کم از کم مارچ 2023 تک تو نہیں توڑی جائے گی۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر اپریل کے بعد بھلے کوئی اسمبلی توڑ دی جائے، آئین کے مطابق وہاں ضمنی الیکشن نہیں ہوں گے بلکہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر جنرل الیکشن ہی ہوں گے۔

 

اسی دوران ایک لطیفہ یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے اپنی کابینہ میں ایک اور وزیر کا اضافہ کر دیا اور خیال احمد کاسترو نے وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ دوسری جانب عمران خان نے پنجاب کابینہ میں توسیع پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسمبلیاں توڑنے کے اعلان کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے اور پرویز الٰہی سے اظہار ناراضی کیا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں عمران خان کا ساتھ دینے کے لئے جنرل قمر باجوہ نے آمادہ کیا تھا۔ لیکن ان بیانات کے فوری بعد عمران خان نے جنرل باجوہ پر بڑا حملہ کرتے ہوئے انہیں ڈبل گیم کھیلنے والا دھوکے باز قرار دے دیا اور کہا کہ توسیع دینے کا فیصلہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران کا دو اسمبلیاں توڑنے کا دعویٰ ڈھیلا پڑتا جا رہا ہے۔ ویسے بھی اگر خیبر پختون خوا اور پنجاب میں اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں تو وہاں نئے انتخابات پی ڈی ایم حکومت کی نگرانی میں ہوں گے جو کہ تحریک انصاف کو قابل قبول نہیں ہو گا۔ اس لیے اس معاملے پر عمران خان کی اپنی پارٹی کے اندر مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کے ایک طبقے کو لگتا ہے کہ حکومت تحلیل کرنے کا فیصلہ فائدے کی بجائے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اگلے انتخابات اکتوبر 2023 میں ہونے ہیں لیکن عمران اس سے قبل الیکشن کرانے کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں اس وقت وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور اگر فوری الیکشن ہو جائیں تو وہ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنا لیں گے۔

 

تاہم عمران کے مخالفین ان کے مطالبے کے سامنے جھکنے کو تیار نہیں۔ حکمران جماعتیں بار بار یہ بات دہرا رہی ہیں کہ جب تک عمران کا رویہ اور بات کرنے کا انداز درست نہیں ہوگا ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔شہباز حکومت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عمران کے ساتھ پیشگی شرائط کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد عمران کے رویے میں نرمی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن اب حکومت نرمی دکھانے کو تیار نہیں اور الیکشن وقت پر کروانے پر اصرار کر رہی ہے۔

 

کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران بھی اپنی اسمبلیاں نہیں توڑنا چاہتے ورنہ اب تک ان کے ممبران اسمبلی نے استعفے دے دیے ہوتے اور اسمبلیاں توڑنے کا جواز پیدا کر دیا ہوتا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران نے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد اپنی ساکھ بچانے کے لیے صوبائی حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے جو کچھ کرنا تھا وہ کیا لیکن اس سب کے باوجود انھیں کچھ نہیں ملا۔

 

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر حکومتی توقعات کے برعکس عمران صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر کیا ہو گا؟ کیا مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ اسلام آباد میں مستحکم رہ سکے گی؟ ماہرین کے مطابق ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے بہت سے آپشنز موجود ہیں۔ ان میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ساتھ صوبوں میں گورنر راج کے نفاذ جیسی آپشنز شامل ہیں۔

Related Articles

Back to top button