چیف جسٹس بندیال نئے جج لگانے کیلئے اجلاس کیوں نہیں بلا رہے؟

سپریم کورٹ آف پاکستان میں اقلیتی عمرانڈو دھڑے کی سربراہی کرنے والے چیف جسٹس عمر عطا بندیال پچھلے اجلاس میں اپنی مرضی کے جج لگوانے میں ناکامی کے بعد نئے ججوں کی تعیناتی کے لیے جوڈیشل کونسل آف پاکستان کا اجلاس بلانے سے سے انکاری ہیں حالا کہ پانچ ججوں کی اسامیوں خالی پڑی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی قریب میں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے ذریعے حکومت کے ساتھ اپنی مرضی کے جج لگوانے کے لئے سودے بازی کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی اور اسی کے نتیجے میں بندیال کی جانب سے حمزہ شہباز کی چھٹی کروا کر پرویز الہی کو وزیر اعلی پنجاب بنا دیا گیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں عمر عطا بندیال کو منہ کی کھانی پڑی تھی اور وہ اپنی مرضی کے پانچ ججوں میں سے ایک بھی نام کی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بندیال کی جانب سے پیش کردہ تمام جج جونیئر تھے اور سپریم کورٹ میں تعیناتی کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے، لہذا اٹارنی جنرل سمیت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے ساتھی ججوں نے ان ناموں کی مخالفت کی جس پر چیف جسٹس بندیال اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلے گئے۔

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا یہ اجلاس 28 جولائی کو ہوا تھا لیکن دو ماہ گزرنے کے باوجود چیف جسٹس بندیال نے نئے ججوں کی تعیناتی کے لیے اجلاس نہیں بلایا کیونکہ انکو اپنے ججز چاہئیں۔ چنانچہ اب سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طلب کرنے کے لیے بندیال کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں عمرانڈو کہلانے والے چیف جسٹس بندیال سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی خالی اسامیوں پر نامزدگی کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری طلب کیا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی تقرری کی سفارش کرنے والا جوڈیشل کمیشن 9 ارکان پر مشتمل ہے جبکہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اور 16 جج ہوتے ہیں لیکن اس وقت سپریم کورٹ میں 5 ججوں کی اسامیاں خالی ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں بتایا کہ کہ جسٹس قاضی امین کو ریٹائرہوئے 187 دن ہو گے، جسٹس گلزار کو 239 دن گزر گے، جسٹس مقبول باقر کو 177 دن ہو گے، جسٹس مظہر عالم میاں خیل کو ریٹائیر ہوئے 77 دن ہو گے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ کو 46 دن ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں 700 کے قریب اسٹاف ہے، عوام سپریم کورٹ پر بھاری رقم خرچ کرتے ہیں، سمجھ سے بالاتر ہے کہ سپریم کورٹ 30 فیصد کم استطاعت پر کیوں چل رہا ہے، خدشہ ہے کہ کہیں سپریم کورٹ غیر فعال ہی نہ ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین انصاف کی فوری فراہمی پر زور دیتا ہے، آئین کی پاسداری سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے چیف جسٹس کو لکھا کہ میں نے کئی بار آپکو آپکی آئینی ذمہ داری کے حوالے سے آگاہ کیا، آپ سے درخواست ہے کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس فوری بلایا جائے تاکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی نامزدگی کی جا سکے۔

خیال رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 28 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں سپریم کورٹ میں نئے ججوں کی تعینات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا تھا اور کسی جج کی نامزدگی عمل میں نہیں آئی تھی۔ جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود دونوں جو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے 9 ارکان میں سے ہیں، انہوں نے کمیشن کے 28 جولائی کے اجلاس کے فوراً بعد بھی خطوط لکھے تھے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اجلاس نے ججوں کو ترقی دینے کے لیے نامزدگیوں کو مسترد کردیا تھا۔ 16 ستمبر کو بتایا گیا تھا کہ دونوں ججوں نے اپنے خط میں حیرت کا اظہار کیا کہ جب سپریم کورٹ کا ایک تہائی سے زیادہ ججوں کی آسامیاں خالی ہیں تو کیا ججوں کو فیصلہ کردہ مقدمات کی تعداد کے لیے خود کو سراہنا چاہیے اور یہ کہ مکمل عدالت بلاشبہ کہیں زیادہ مقدمات کا فیصلہ کرتی’۔ یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ میں نامزدگیوں کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے پہلے اور بعد میں بار بار چیئرمین جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے کمیشن کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دونوں سینئر ججوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جلد اجلاس بلانے پر زور دینے کے لیے ہم نے کہا تھا کہ خالی اسامیوں کو پُر نہ کرنا آئینی ذمے داری سے لاپرواہی ہے لیکن اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہوا’۔ 15 ستمبر کو رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی جانب سے حال ہی میں وفاقی حکومت اور بار کے کردار کے بارے میں تحفظات کے اظہار کے بعد بار رہنما اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی میں سنیارٹی کا اصول سب سے بنیادی معیار ہونا چاہیے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ججوں کی تقرری سنیارٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ میرٹ پر کی جانی چاہیے اور اس کے لیے انتخاب کا ایک طے شدہ معیار ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ 28 جولائی کو جوڈیشل کونسل نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے نامزد 5 ججوں کی تعیناتی کثرت رائے سے مسترد کردی تھی۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمر عطابندیال کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا تھا جہاں چیف جسٹس کے نامزد کسی بھی جج کو سپریم کورٹ لانے کی منظوری نہ ہو سکی۔ جوڈیشل کمیشن نے زیر غور تمام ناموں کو 4 کے مقابلے میں 5 کی کثرت رائے سے مسترد کردیا تھا۔ اجلاس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور نمائندہ بار اختر حسین نے مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

Related Articles

Back to top button