چیف جسٹس بندیال کا واوڈا کے لیے انصاف کا دوہرا معیار

چیف جسٹس سپریم کورٹ عمر عطا بندیال نے ایک مرتبہ پھر انصاف کا دوہرا معیار اپناتے ہوئے عمران خان کے سابقہ ساتھی فیصل وواڈا کو اپنی امریکی شہریت چھپانے کا جرم قبول کرنے کے باوجود معافی دے دی اور موصوف کی تاحیات نااہل ختم کر دی۔

 

تین برس تک پاکستانی عدالتوں اور الیکشن کمیشن کو ماموں بنانے والے فیصل واوڈا نے بالآخر سپریم کورٹ کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ ان کا موقف جھوٹ پر مبنی تھا اور وہ 2018 کا الیکشن لڑتے وقت امریکہ کے شہری تھے۔  25 نومبر کو اپنا سفید جھوٹ تسلیم کرنے، عدالت سے معافی مانگنے اور سینیٹ کی سیٹ سے استعفیٰ دینے پر سپریم کورٹ نے واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرتے ہوئے انہیں موجودہ پارلیمینٹ کی مدت کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

 

یاد رہے کہ اس سے پہلے 24 نومبر کو سپریم کورٹ نے واوڈا کو دو آپشنز دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنا جھوٹ تسلیم کریں اور 63 (ون) (سی) کے تحت نااہل ہو جائیں  ‏بصورت دیگر عدالت انکے خلاف 62 (ون) (ایف) کے تحت تاحیات نااہلی کیس میں پیش رفت کرے گی۔ چنانچہ فیصل واوڈا نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے اپنا جھوٹ تسلیم کرلیا اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ واوڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد جنوری 2022 میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی اپنی درخواست مسترد ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاکہ اپنی نااہلی ختم کروا سکیں۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے سابق سینیٹر کی درخواست پر سماعت کی جسکے دوران واوڈا نے امریکی شہریت چھوڑنے کا غلط بیان حلفی جمع کرانے کا اعتراف کیا، انہوں نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے معافی بھی مانگ لی جس پر عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے واوڈا کو موجودہ مدت کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

 

سماعت کے آغاز پر عدالت نے فیصل واوڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ واضح بیان نہیں دیں گے تو آپ کے خلاف کارروائی کریں گے، اگر غلطی تسلیم کریں گے تو آپ کے خلاف نااہلی کا فیصلہ ختم کردیں گے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کہ آپ نے 2018 کا الیکشن لڑتے وقت امریکہ کی دوہری شہریت ترک کرنے کی درخوست دے رکھی تھی اور اسکی تب تک منظوری نہیں ہوئی تھی؟ اگر ایسا ہی ہے اور آپ اپنا جھوٹ تسلیم کرتے ہیں تو پانچ سال کے لیے نااہل ہوں گے، لیکن اگر آپ اپنے جھوٹ پر قائم رہتے ہیں تو پھر ہم آپکے خلاف آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا کیس چلائیں گے۔

 

اس دوران جسٹس منصور علی شاہ نے فیصل واوڈا سے استفسار کیا کہ جب آپ نے سینیٹ الیکشن لڑا تو اآپ کی دوہری شہریت تھی یا نہیں؟ اس پر چیف جسٹس بولے کہ ہم نے آپکو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں بلایا، لیکن آپ سچ بولیں۔ اس پر فیصل واوڈا نے کہا کہ جب میں نے 2018 میں ایم این اے کا الیکشن لڑا تو میں نے غلطی بیانی کی، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ مان جائیں کہ آپ نے غلط کیا، اس عدالت کی سوچ اپ کو سزا دینا نہیں، سینیٹ کا الیکشن تو ہو چکا ہے، آپکو نااہل بھی قرار دیا جا چکا ہے لیکن پھر بھی آپ کو سینیٹ سے مستعفی ہونا پڑے گا، اس معاملہ پر عدالت نے 10 منٹ مشورہ بھی کیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اپ اچھی نیت سے سینٹ سے مستعفی ہوں، آپ تین سال تک اپنے جھوٹ پر ڈٹے رہے۔ چنانچہ اپنے وکیل سے مشورے کے بعد فیصل واوڈا نے عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔

 

اسکے بعد سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فیصل واوڈا آرٹیکل 63 ون سی کے تحت 5 سال کے لیے نااہل ہیں، اور استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واوڈا موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا استعفیٰ فوری طور پر چیئر مین سینیٹ کو بھیجنے کا حکم دیا۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ انتحابات کے لیے اہل قرار دیا۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے واوڈا کے خلاف دہری شہریت پر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا۔ محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا تھا جبکہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button