کیا آرمی چیف عاصم منیر فوج کی ساکھ بحال کر پائیں گے؟

پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین سیاسی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جگہ نئے فوجی سربراہ بننے والے جنرل عاصم منیر کو درپیش چیلنجز گھمبیراور پیچیدہ نوعیت کے ہیں جن میں سب سے اہم فوج اور اسکے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو غیر سیاسی کرتے ہوئے اس کی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنا ہے۔

چھ برس تک فوجی سربراہ رہنے والے جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے الوداعی خطاب  میں سیاسی مداخلت کے الزامات تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اب فوج غیر سیاسی ہو گئی ہے اور یہ فیصلہ فوجی قیادت نے فروری 2021 میں کافی سوچ و بچار کے بعد کیا تھا کہ آئندہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ آئین کے مطابق فوج کی سیاست میں مداخلت مکمل طور پر غیر قانونی اور غیر آئینی عمل ہے جس کا جنرل باجوہ نے خود اعتراف کیا ہے۔ جنرل باجوہ نے خود بھی تسلیم کیا کہ 70 برس تک فوج سیاست میں مداخت کرتی رہی ہے جو کہ نہ صرف غیرآئینی ہے بلکہ اس سے انکا ادارہ بھی تنقید کی زد میں آیا ہے۔ اپنے 6 سالہ دور میں سیاست میں مداخلت کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جنرل باجوہ نے 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے پہلے عمران کو وزیر اعظم بنوایا اور پھر ایک ہائیبرڈ نظام حکومت تشکیل دیا جس میں فوج آئی ایس آئی کے ذریعے بیک سیٹ ڈرائیونگ کرتی تھی۔ اس نظام کے تحت جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید نے پانچ برس خوب مزے لیے۔ لیکن اس دوران حکومت تمام محاذوں پر مکمل طور پر ناکام ہو گئی اور عمران نے فوج کو آنکھیں دکھانا شروع کر دیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کو عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی اجازت دے دی جسکے نتیجے میں انکی چھٹی ہو گئی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عمران خان سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور فوج کو گالیاں بک رہے ہیں۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ہی بنایا ہوا مونسٹر اب اسے کھانے کے درپے ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر 75 برس سے سیاست کرنے والی فوج کو غیر سیاسی کر پائیں گے؟ سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ فوج کو سیاست سے باہر نکالنا جنرل عاصم منیر کے لیے ایک بڑا اور مشکل چیلنج ہوگا، خصوصا ًجب یہ تاثر عام ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کو سیاست کا چسکا لگ چکا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کی سربراہی کرنے والے جنرل عاصم منیر اگر اپنے ادارے کو غیر سیاسی کرنے کا تہیہ کر لیں تو وہ یقیناً کامیاب ہو سکتے ہیں۔ عاصم منیر 29 نومبر کو پاکستانی فوج کے 11ویں سربراہ کے طور پر اعزازی چھڑی وصول کرکے آئندہ تین سال تک اس عہدے پر کام کریں گے۔

ملکی حالات پر نظر ڈالیں تو بیشتر مبصرین کا یہ خیال ہے کہ نئے آرمی چیف کو فوج میں اس اعلیٰ ترین تقرری کے بعد بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، خاص طور سے ملک کے معاشی اور سیاسی حالات کے تناظر میں۔ عاصم منیر کے لیے سرحدی صورتِ حال، ملک میں اندرونی سیاسی بحران، فوج کےغیر سیاسی ہونے کی پالیسی کو برقرار رکھنا، ففتھ جنریشن وار فیئر،فوج کی امیج بلڈنگ سمیت بہت سے معاملات ان کی توجہ کے طالب رہیں گے۔

مبصرین کے مطابق اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام ہے۔ سیاسی استحکام نہ ہونے سے ملکی معیشت مشکلات میں گھری ہوئی ہے اور عوام پر اس کا براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا فوج کا سیاست میں کردار واقعی ختم ہو سکتا ہے؟سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ فوج کا سیاسی کردار ختم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہوگا چونکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے 75 برس کے دوران سیاسی جماعتوں کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اب اسے سیاست سے بے دخل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے یہ تاثر عام ہے کہ فوج تمام تر اعلانات کے باوجود اب بھی ملکی سیاست چلا رہی ہے۔ ناقدین کی جانب سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عمران خان کے جانے سے صرف چہرہ تبدیل ہوا ہے جس کی جگہ شہباز شریف نے لے لی ہے۔ چنانچہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پہلے فوج عمران خان کے ذریعے اپنی سیاست آگے بڑھ رہی تھی اور اب شہباز شریف کو آگے لگایا ہوا ہے۔

ایسے میں سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کے لیے اس وقت سب سے بڑا چیلنج پاکستانی فوج کا امیج بحال کرنے کا ہے۔ ان کے بقول ففتھ جنریشن وارفیئر میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران پاکستانی فوج کو بہت نقصان ہوا ہے اور عاصم منیر کو عوام کی نظروں میں فوج کا وقار بحال کرنے کے لیے کافی محنت کرنا ہو گی۔ اس مشن کا آغاز انہیں فوج اور آئی ایس آئی کو غیر سیاسی بنانے سے کرنا ہو گا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے فوج کو سیاست سے دور کرنا اس کا کھویا ہوا امیج بحال کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے خصوصا ًجب حکومت اور اپوزیشن کے سیاسی میچ میں بھی تیزی آ چکی ہے۔ مستقبل قریب میں ملکی حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اس کی پیش گوئی کرنا نا ممکن نہیں، مگر اس نقطے پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو درپیش چیلنجز گھمبیر اور پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔

Related Articles

Back to top button