کیا ارشد کو سازش کے تحت ویرانے میں لے جا کر مارا گیا؟


ارشد شریف کے قتل کی رات ان کے میزبان خرم احمد نے نہ صرف ایمو ڈمپ سے نیروبی واپسی کے لیے اندھیرا ہو جانے کے باوجود غیر معمولی طور پر سنسان اور لمبا راستہ اختیار کیا بلکہ فائرنگ کے بعد زخمی صحافی کو ہسپتال لے جانے کی بجائے ایک فارم ہاؤس لے گئے۔ کینیا کے معروف کرائم رپورٹر “نیابوگا کیاجی” نے اپنی خصوصی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ارشد شریف کی موت حادثہ نہیں ہے بلکہ انہیں قتل کیا گیا۔ کرائم رپورٹر کا کہنا ہے کہ خرم احمد نے ارشد شریف کے قتل کی رات نیروبی واپسی کے لیے ٹویوٹا لینڈ کروزر کو ایک غیر معمولی راستے پر ڈالا جسے عمومی حالات میں رات کے وقت استعمال نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

صحافی “نیابوگا” نے کہا کہ ایمو ڈمپ سے دو سڑکیں نکل کر نیروبی کی طرف جاتی ہیں، مگر وہ حیران ہیں کہ خرم نے وہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیوں کیا جو اس نے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ لہذا اس سوال کا جواب حاصل کرنا ضروری ہے کہ کیا ایسا کسی سازش کے تحت کیا گیا؟ صحافی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جب کسی شخص کو گولی لگ جائے تو اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ ارشد شریف کا خون تیزی سے سے بہہ رہا ہے خرم انہیں ہسپتال لے جانے کی بجائے فارم ہاؤس پر لے گیا، جہاں ان کی موت واقع ہو گئی۔

جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کینیا کے تحقیقاتی صحافی نے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ فائرنگ کے بعد خرم احمد کی گاڑی پنکچر ہونے کے باوجود ایک ٹائر کے بغیر 30 کلومیٹر سے زیادہ کیسے چل گئی اور پھر اس کے بعد سڑک پر گاڑی کے رم کے کوئی نشانات بھی نظر نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس قتل میں ارشد شریف کے میزبان بھائیوں خرم احمد اور وقار احمد سے تفتیش بہت ضروری ہے کیونکہ وہ حقائق چھپا رہے ہیں اور مشکوک ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ وقار اور خرم نے حکومت پاکستان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی دو رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے ساتھ بھی تعاون نہیں کیا اور نہ ہی کینیا کی پولیس نے انہیں مشکوک قرار دے کر شامل تفتیش کیا ہے۔ اس دوران دونوں بھائیوں کے ملکیتی ایموڈمپ نامی انٹرٹینمنٹ کمپلیکس کو بند کر دیا گیا ہے اور قتل کی تحقیقات جاری ہیں لیکن تفتیش آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خان کا موقف ہے کہ دونوں بھائیوں کو انٹر پول یا انٹرنیشنل پولیس کے ذریعے گرفتار کر کے پاکستان لانا چاہیے تاکہ قتل کی گتھی سلجھ سکے۔وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ بظاہر ارشد شریف کو قتل کرنے سے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا لہٰذا سوال کا جواب بھی ان کے میزبان بھائی وقار اور خرم ہی دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ارشد شریف کا قتل 23 اکتوبر 2022 کو ہوا تھا۔ کینیا حکام کی تیار کردہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول صحافی کی موت سر اور سینے پر گولیاں لگنے سے ہوئی، لیکن پاکستان میں ہونے والے پوسٹمارٹم کے دوران انکی انگلیوں کے ناخن اکھڑے ہوئے پائے گئے جس سے معاملات مزید مشکوک ہو گئے۔

Related Articles

Back to top button