کیا خیبرپختونخوا حکومت پھر وفاق کے سامنے آنے والی ہے؟


پی ٹی آئی پر ایک بار پھر مزاحمتی بیانیہ غالب آتا دکھائی دیتا ہے۔ تحریک انصاف کے بانی چئیرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے جیل کے اندر سے مزاحمتی بیانیہ اپنانے پر زور دینے کے بعد جیل کے باہر موجود عمرانڈو رہنماؤں نے بھی مفاہمتی آوازوں کو دبانا شروع کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف میں مزاحمتی سیاست پروان چڑھنے کے بعد ایک بار پھر ملک میں انتشار پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ جس سے نہ صرف ملکی امن و امان تباہ ہو گا بلکہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو گی۔ تازہ پیشرفت کے مطابق پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو مشورہ دیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے تمام رابطے ختم کر دیں کیونکہ وفاق ان کا کوئی بھی مطالبہ تسلیم نہیں کرے گا۔


ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مشورہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی پشاور میں وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا، اس ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔اسد قیصر نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ میرا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو مشورہ ہے کہ وہ وفاق کے ساتھ تمام رابطے ختم کر دیں کیونکہ وفاقی حکومت ان کے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گی۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطالبے پر ایک بھی افسر تعینات نہیں کیا اور نہ ہی صوبے کو بقایا جات کی ادائیگی کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ یہ مفاہمت کا نہیں مزاحمت کا وقت ہے، یہ قوم کے حقوق کا سوال ہے، لوگ بنانا ری پبلک میں رہنا چاہیں گے یا کسی ایسے ملک میں جہاں قانون اور آئین کی بالادستی ہو؟ پی ٹی آئی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ایک بڑی تحریک شروع کرے گی۔

اسد قیصر کا یہ بیان وفاقی حکومت کی جانب سے وفاق اور خیبرپختونخوا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے اور صوبے سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کو تیز کرنے کے فیصلے کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔یہ بیان پشاور میں ہونے والے کئی اجلاسوں کے بعد جاری کیا گیا، جس میں علی امین گنڈا پور اور محسن نقوی نے شرکت کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسد قیصر ملک میں 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطے کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔اسد قیصر کا یہ بیان علی امین گنڈا پور کی وفاقی عہدیداروں سے ملاقات پر پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان کے عدم اطمینان کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔


خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کو پارٹی کے اندر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور فوٹو سیشن بھی کروایا تھا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ملاقات کو ’بہت مثبت‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ملاقات کے دوران امن و امان سمیت عوامی اور صوبائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علی امین گنڈا پور نے مبینہ طور پر 13 مارچ کو ہونے والے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ملاقات بہت مثبت تھی وزیراعظم نے مجھے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

شہباز شریف اور علی امین گنڈا پور کی ملاقات کو صدر آصف زرداری سمیت حکمران اتحاد میں شامل رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر سراہا اور اسے قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقات پر برہمی کا اظہار کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ یہ ملاقات خیبرپختونخوا کی واجب الادا رقوم کے اجرا کے بعد ہونی چاہیے تھی۔

Related Articles

Back to top button