کیا عمران واقعی جیو ٹی وی کے خلاف کیس کریں گے؟


سابق وزیراعظم عمران خان نے گھڑی سکینڈل سامنے لانے پر جیو ٹی وی کے خلاف لندن میں عدالتی کارروائی کرنے کا اعلان کیا تو جیو ٹی وی کے اینکر شازیب خانزادہ نے بھی اپنے الزامات کا دفاع کرنے کا اعلان کردیا ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان واقعی لندن کی عدالت میں جیو کے خلاف کیس دائر کریں گے یا پھر ماضی کی طرح گیدڑ بھبکی دینے کے بعد راہ فرار اختیار کر لیں گے۔

عمران خان نے فرح گوگی سے 28 کروڑ روپوں میں گھڑی خریدنے کا دعویٰ کرنے والے عمر فاروق ظہور اور جیو ٹی وی کے اینکر شاہ زیب خان زادہ کے خلاف برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تحفے میں ملی گھڑی اور اس کی فروخت سے متعلق جیو نیوز کے پروگرام پر ردعمل دیتے ہوئے عمران نے کہا کہ ’ہینڈلرز’ کی حمایت سے جیو اور خانزادہ نے بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان لگایا ہے۔‘

تاہم دوسری جانب شاہزیب خانزادہ نے عمران کے الزامات پر کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی جس عدالت میں بھی جانا چاہیں جائیں ہم سامنا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان پر لازم ہے کہ وہ برطانیہ کی عدالت میں خود پر لگنے والے الزامات کو جھوٹا ثابت کریں۔ یاد رہے کہ جیو نیوز عمران کی جانب سے بطور وزیراعظم توشہ خانہ کے تحفے فروخت کرنے والے دبئی میں قیام پذیر پاکستانی عمر فاروق ظہور کو سامنے لایا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام میں عمر فاروق نے بتایا تھا کہ انہیں عمران دور کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے فون کر کے بتایا تھا کہ خان صاحب کے پاس بہت قیمتی تحائف ہیں جو وہ فروخت کرنا چاہتے ہیں، بعد ازاں یہ تحائف فرح گوگی کے ذریعے فروخت کیے گئے تھے۔

خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بس بہت ہوگیا! جیو اور خانزادہ نے سرپرستوں کی مدد سے ایک مشہورِ زمانہ دھوکے باز اور عالمی سطح پرمطلوب مجرم کی تراشی گئی بے بنیاد کہانی کے ذریعے مجھ پر بہتان تراشی کی۔عمران نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ میں نے اپنے وکلاء سے بات کی ہے اور جیو، خانزادہ اور اس دھوکے باز کیخلاف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اس سے پہلے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے تحفے میں دی گئی گھڑی خان صاحب نے عمر فاروق ظہور نامی شخص کو نہیں بلکہ پاکستانی مارکیٹ کے ایک ڈیلر کو پانچ کروڑ 70 لاکھ روپے میں فروخت کی تھی۔ فواد چوہدری نے عمر فاروق ظہور کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی ساتھی فرح گجر کے ذریعے یہ گھڑی انھیں فروخت کی گئی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ گھڑی ’پانچ کروڑ 70 لاکھ میں پاکستانی مارکیٹ میں فروخت کی گئی۔ اس پر ٹیکس ادا کیا گیا اور گوشواروں میں اسے ظاہر کیا گیا۔‘

جب فواد چوہدری سے اس شخص کا نام پوچھا گیا جس کو عمران خان نے گھڑی بیچی تھی تو انہوں نے کہا کہ میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ وہ ڈر کے مارے ملک سے بھاگا ہوا ہے۔ جب ہماری حکومت گئی تو ایف آئی اے نے اس ڈیلر کو بھی اٹھا لیا تھا اس لئے وہ بھاگ گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے اس کو اٹھا لیا تھا تو پھر وہ ملک سے فرار کیسے ہو گیا۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ فرار ہو چکا ہے تو پھر اس کا نام لینے میں کیا حرج ہے۔ اس دوران فرح گوگی کا کہنا ہے کہ وہ کبھی عمر فاروق ظہور کو نہیں ملیں اور نہ ہی انہوں نے عمران خان کی گھڑی انہیں فروخت کی تھی۔ دوسری جانب سے اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ عمرفاروق ظہور گوگی کے دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے اپنے دفتر میں لگے ہوئے خفیہ کیمرے سے بنائی گئی اس ملاقات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردیں۔

عمر فاروق ظہور نے دعویٰ کیا ہے کہ فرح گوگی کو اس گھڑی کے عوض پانچ ملین ڈالرز کی امید تھی۔۔۔ مگر میں نے انھیں دو ملین ڈالرز دیے تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ انھوں نے براہ راست یہ گھڑی خریدی اور سب سے بڑا ثبوت ان کے پاس یہی ہے کہ یہ گھڑی انکے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ گھڑی خریدنا ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد گھڑی ہے جو خانہ کعبہ ایڈیشن ہے۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ گراف دنیا کے ٹاپ جیولرز میں سے ایک ہے اور کعبہ ایڈیشن کی گھڑی ایسی چیز نہیں جسے آپ دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس گھڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو ایک ارب 70 کروڑ روپے لگائی گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button