کیا نواز شریف کا حکومت چھوڑنے کا مشورہ مانا جائے گا؟


سابق وزیراعظم نواز شریف نے پارٹی قیادت کو مرکزی حکومت چھوڑنے اور قبل از وقت الیکشن میں جانے پر غور کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن جواب میں انہیں پہلے وطن واپس آنے کی تجویز کی گئی ہے۔ ایسے میں فی الحال شہباز شریف کا فوری حکومت چھوڑنا اور نواز شریف کا فوری وطن واپس آنا، دونوں کام ممکن دکھائی نہیں دیتے۔

لندن سے سینئر صحافی مرتضیٰ علی شاہ کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے نہ صرف مسلم لیگی قیادت بلکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی رہنماؤں کو بھی مرکزی حکومت چھوڑنے اور فوری نئے الیکشن کروانے کی تجویز دی ہے تاکہ مؤثر انداز میں اگلے الیکشن کی تیاری کی جا سکے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہونے کے بعد نواز شریف نے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی مشورہ دیا ہے کہ اب حکومت میں بیٹھے رہنے سے پاکستان کے مسائل میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا جس کا خمیازہ ن لیگ کو اگلے انتخابات میں بھگتنا پڑ جائے گا۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ پہلے ہی عمران حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے کیے جانے والے معاہدے پر عمل درآمد کا خمیازہ پی ڈی ایم کی حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسکے علاوہ حکومت کو مشکک فیصلے کرنے کے بعد ریاستی اداروں سے جو مدد ملنا چاہیے تھی وہ بھی فراہم نہیں کی جارہی اور یوں لگتا ہے جیسے حکومت ٹریپ ہو گئی ہے۔

لیکن ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان سمیت پی ڈی ایم کے اکثریتی رہنماؤں نے حکومت چھوڑنے کی مخالفت کی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نئے الیکشن میں جانا سیاسی طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اقتدار میں رہتے ہوئے وقت پورا کیا جائے اور معیشت کو سنبھالنے کی کوشش تیز کی جائے تاکہ اگلے الیکشن تک پوزیشن بہتر ہو سکے۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ پرویز الہی کے وزیراعلی بننے کے بعد اب شہباز شریف کا مورال بھی نیچے آرہا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخواہ حکومتوں کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک چلا دی تو ملکی معیشت کو سنبھالنے نا ممکن ہو جائے گا۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنی پارٹی رہنماؤں کو کہا ہے کہ عمران کی برطرفی کے بعد سے مسلسل شہباز شریف کی حکومت کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں اور اسے چلنے نہیں دیا جا رہا اس لئے بہتر یہی ہے کہ حکومت سے جان چھڑا لی جائے اور اگلے الیکشن کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کی جائے۔

دوسری جانب یہ اطلاع بھی ہے کہ نواز لیگ کے مزاحمتی دھڑے کی جانب سے نواز شریف کو فوری وطن واپسی کا مشورہ دیا جارہا ہے تاکہ پارٹی کو سنبھالا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ اگر حکومت چھوڑنا بھی ہو تو پہلے نواز شریف کو وطن واپس آنا چاہیے پھر بے شک چند مہینے کے لئے جیل بھی جانا پڑے تو حرج نہیں۔ دوسری جانب مریم نواز حال ہی میں یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ کسی بھی صورت نواز شریف کو وطن واپسی پر جیل نہیں جانے دیں گی۔ لیکن قانون کے مطابق اگر نواز شریف وطن واپس آتے ہیں تو انہیں خود کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا جس کے بعد ان کے جیل جانے کا قوی امکان ہے کیونکہ علاج کیلئے لندن جانے سے پہلے وہ جیل ہی میں قید تھے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو 29 اکتوبر 2019 کو آٹھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی۔ عدالت نے یہ شرط عائد کی تھی کہ اگر آٹھ ہفتوں میں علاج ممکن نہ ہو سکے تو پھر ایسے میں ضمانت میں مزید توسیع کے لیے وہ پنجاب حکومت سے درخواست کر سکتے ہیں۔
اس ضمانت کے بعد نواز شریف کے لیے دوسرا مرحلہ ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانا تھا۔ اس کے لیے نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ کا رخ کیا اور عدالت میں انڈرٹیکنگ دی کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔ لاہور ہائی کورٹ نے 23 دسمبر 2019 کو شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلوا دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف علاج کے لیے لندن چلے گئے تھے اور تب سے وہی پر مقیم ہیں۔

شہباز شریف نے لاہور ہائی کورٹ میں میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیجے جانے پر ان کی واپسی سے متعلق جو بیان حلفی دیا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف چار ہفتوں کے لیے علاج کی غرض سے بیرون ملک جا رہے ہیں اور یہ کہ اگر اس عرصے کے دوران نواز شریف کی صحت بحال ہو گئی اور ڈاکٹروں نے انھیں پاکستان جانے کی اجازت دے دی تو وہ وطن واپس آ جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران میاں نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس لندن ہائی کمیشن کی مصدقہ تصدیق کے بعد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو بھیجی جائیں گی۔ شہباز شریف کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ میں دیے گئے اس بیان حلفی میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کبھی وفاقی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات ہوں کہ میاں نواز شریف صحت مند ہونے کے باوجود لندن میں مقیم ہیں تو برطانیہ میں مقیم پاکستانی ہائی کمیشن کا کوئی اہلکار اس ضمن میں میاں نواز شریف کے معالج سے مل کر ان کی صحت کے بارے میں دریافت کر سکتا ہے۔ تب شہباز شریف کے علاوہ میاں نواز شریف کا بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کروایا گیا تھا جس میں انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی طرف سے دیے گیے بیان حلفی کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن یہ کوششیں رائیگاں رہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نوازشریف فوری وطن واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں؟

Related Articles

Back to top button